உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم مودی نے کیا امریکی صدر جو بائیڈن کو فون، علاقائی تعلقات، آب و ہوا میں تبدیلی پر ہوئی بات

    وزیر اعظم مودی نے کیا امریکی صدر جو بائیڈن کو فون، مختلف موضوعات پر ہوئی بات

    وزیر اعظم مودی نے کیا امریکی صدر جو بائیڈن کو فون، مختلف موضوعات پر ہوئی بات

    وزیر اعظم نریندر مودی (PM Narendra Modi) نے آج امریکہ کے صدر جو بائیڈن (Joe Biden) سے فون پر بات کی۔ دونوں لیڈروں کے درمیان دو طرفہ رشتوں کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی موضوعات کو لے کر بات ہوئی۔ وزیر اعظم مودی نے ٹوئٹ کرکے کہا، ’صدر بائیڈن سے بات کرکے میں نے انہیں امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی (PM Narendra Modi) نے آج امریکہ کے صدر جو بائیڈن (Joe Biden) سے فون پر بات کی۔ دونوں لیڈروں کے درمیان دو طرفہ رشتوں کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی موضوعات کو لے کر بات ہوئی۔ وزیر اعظم مودی نے ٹوئٹ کرکے کہا، ’صدر بائیڈن سے بات کرکے میں نے انہیں امریکہ کا صدر بننے پر مبارکباد دی۔ ہم دونوں لیڈروں نے دو طرفہ موضوعات پر تبادلہ خیال کیا اور اپنی اولین ترجیحات کے بارے میں بات کی۔ آب وہوا کی تبدیلی کے موضوع پر شراکت داری بڑھانے کے لئے ہم متفق ہوئے’۔

      وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹوئٹ کرکے کہا، ’صدر جو بائیڈن اور میں ضوابط کے تحت چلنے والے بین الاقوامی  نظام کو لے کر پابند عہد ہیں۔ دونوں ملک ایڈو - پسیفک میدان اور اس کے علاوہ اور امن اور سیکورٹی اور ڈپلومیٹک شراکت داری کو لے کر پُرامید ہیں۔

      واضح رہے کہ جو بائیڈن نے ڈونالڈ ٹرمپ کو شکست دے کر ملک کی کرسی پر قبضہ کرنا ہے۔ جو بائیڈن نے اقتدار میں آنے کے بعد چین کے خلاف سخت رخ دکھایا ہے۔ انہوں نے جنوبی چین میں امریکی جنگی جہاز بھیج دیئے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ نے ہندوستان اور چین کے درمیان چل رہی رسہ کشی پر نظر رکھنے کی بھی بات کہی تھی۔

      جو بائیڈن نے کہا- چین کے چیلنجز سے سیدھے طور پر نمٹے گا امریکہ

      ابھی کچھ دن پہلے ہی امریکی صدر جو بائیڈن نے چین کو سب سے زیادہ ’جارح مخالف' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ بیجنگ کے ذریعہ پیش کئے جانے والے چیلنجز سے نہ صرف سیدھے طور پر نمٹے گا، بلکہ جب امریکہ کے مفاد کی بات ہوگی تب وہ اس کے ساتھ کام کرنے سے بھی نہیں ہچکے گا۔ جو بائیڈن نے ایک ابھرتے اور کہیں زیادہ جارح چین نے اپنی غیرملکی پالیسی کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہونے کا ذکر کرتے ہوئے جمعرات کو اس بات پر زور دیا کہ بیجنگ کے ذریعہ پیدا کئے گئے اسٹریٹجک صورتحال کا جواب دینے کے لئے معاون ممالک کی ضرورت ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: