ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

خاص مشن پر ہیں وزیر اعظم مودی کے بے حد قریبی افسران، بڑی ذمہ داری دے کر کرنا چاہتے ہیں یہ کام

پی ایم او سے باہر دو بڑے اہم محکموں کی سکریٹری کے طور پر ذمہ داری دی گئی ہے۔ یہ دونوں ہی افسر 1988 بیچ کے ہیں، ترون بجاج اور اروند شرما۔ ترون بجاج ہریانہ کیڈر کے آئی اے ایس افسر، تو اروند شرما گجرات کیڈر کے ہیں۔

  • Share this:
خاص مشن پر ہیں وزیر اعظم مودی کے بے حد قریبی افسران، بڑی ذمہ داری دے کر کرنا چاہتے ہیں یہ کام
قوم سے خطاب کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان کو خود کفیل بننے کیلئے اس کو پانچ ستون کھڑے کرنے ہوں گے ۔ وزیر اعظم نے ان پانچ ستون کے بارے یں بتاتے ہوئے کہا کہ پہلا ستون معیشت ، دوسرا ستون انفراسٹرکچر ، تیسرا ستوں سسٹم : جو گزشتہ صدی کی پالیسی نہیں بلکہ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی پر مبنی ہو ، چوتھا ستون ڈیموگرافی : ہماری آبادی ہماری طاقت ہے ، پانچوان ستون ڈیمانڈ : ہماری معیشت میں ڈیمانڈ و سپلائی کی طاقت ہے ۔

نئی دہلی: کورونا وائرس کے سنگین بحران سےجدوجہد کررہی معیشت کو پٹری پر لانےکےلئے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنےخاص افسران کو بڑی ذمہ داری سونپی ہے۔ اے کے شرما اور ترون بجاج جیسے افسران پہلے بھی بڑے ہدف کو حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں اورایک بار پھر وزیر اعظم مودی کو ان سے یہی امید ہے، جب ان کے ہاتھ میں ایم ایس ایم ای کی کمان دی گئی ہے۔ مودی حکومت میں بڑی انتظامی تبدیلی ہوئی ہے، کئی اہم وزارت اور محکموں میں نئے سکریٹریوں کی تقرری کی گئی ہے، تو کئی افسران کو اسی جگہ پرموشن دیا گیا ہے۔ کل ملاکر 35 افسران اس ردو بدل میں شامل ہوئے ہیں۔ اس تبدیلی کی ضرورت کا خاکہ دو ہفتے پہلےہی تیارکیا گیا تھا، جب مودی حکومت نے1987 اور 1988 بیچ کے 28 آئی اے ایس افسران کی سکریٹری سطح پر تقرری کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔ اسی لحاظ سے یہ نئی تقرریاں ہوئی ہیں اور پھیر بدل کئے گئے ہیں۔


تاہم اس فہرست کو دھیان سے دیکھنے پر ایک پیغام بھی ملتا ہے۔ پیغام خود وزیر اعظم نریند ر مودی نے ہی دیا ہے۔ دو ایسے افسر، جو طویل وقت سے پی ایم او میں تھے اور نریندر مودی کے قریبی اور قابل اعتماد افسران میں شمارہوتا تھا، انہیں پی ایم او سے باہر دو بڑے اہم محکموں کی سکریٹری کے طور پر ذمہ داری دی گئی ہے۔ یہ دونوں ہی افسر 1988 بیچ کے ہیں، ترون بجاج اور اروند شرما۔ ترون بجاج ہریانہ کیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں، تو اروند شرما گجرات کیڈرکے ہیں۔ ترون بجاج کو ڈی ای اے یعنی اقتصادی معاملوں کے محکموں کی ذم داری سکریٹری کے عہدے پر دی گئی ہے۔ تو اروند شرما، جو اے کے شرما کے طور پر انتظامی حلقوں میں مشہور ہیں، کو ایم ایس ایم ای یعنی یعنی کاٹیج ، چھوٹے اور متوسط درجےکےکاروباری اداروں کے وزارت کے سکریٹری کی ذمہ داری دی گئی ہے۔


اے کے شرما کا تو پی ایم او سےجانا ہی اپنے آپ میں حیرانی کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ ریکارڈ کےطور پر اے کے شرما نریندر مودی کےساتھ سب سے طویل وقت تک سیدھےجڑے رہنے والے افسران کے طور پر مشہور ہیں۔ نریندر مودی نے بی جے پی تنظیم میں مہامنتری کا کردار نبھانے کے بعد جب 7 اکتوبر 2001 کو سیدھے گجرات کے وزیراعلیٰ کی کرسی سنبھالی تھی، تو وہاں سی ایم او میں ہوئے پھیر بدل کےتحت مودی نے سب سے پہلے اے کے شرما کی تقرری اپنے سکریٹری کے طور پرکی تھی۔ اس سے پہلے اے کے شرما گجرات کے مہسون اور کھیڑا اضلاع میں کلکٹر رہ چکے تھے، ساتھ ہی جی ایم ڈی سی میں جوائنٹ ایم ڈی اور جی ایس ایف سی میں ایم ڈی رہ چکے تھے، جس وقت مودی نے بطور وزیر اعلیٰ اپنے سکریٹری کے طور پر اے کے شرما کو اپنے پاس بلایا، اس وقت وہ سردار سروور نرمدا پروجیکٹ کی بحالی معاملوں کےکمشنر ہوا کرتے تھے۔ مودی کے پاس تین افسران کا پینل سکریٹری عہدے پر تقرری کےلئے بھیجا گیا تھا، جس میں سے اےکے شرما کو انہوں نے پسند کیا۔


 وزیراعظم مودی اپنے قریبی افسران کو اہم ذمہ داری دے کر معیشت کو پٹری پر لانا چاہتے ہیں۔ فائل فوٹو۔

وزیراعظم مودی اپنے قریبی افسران کو اہم ذمہ داری دے کر معیشت کو پٹری پر لانا چاہتے ہیں۔ فائل فوٹو۔


بتایا جاتا ہےکہ اے کے شرما جب مہسون میں کلکٹر ہوتے تھے، اس وقت مودی کو ان کے بارے میں اچھا فیڈ بیک بی جے پی کارکنان اور اپنےخاص لوگوں سے ملا تھا۔ اسی بنیاد پر نریندر مودی نے اے کے شرما پر بھروسہ کیا، کیونکہ مودی گجرات زلزلےکے بعد بحران کا سامنا کر رہی بی جے پی اور وہاں کی ریاستی حکومت کے کام کاج میں جان پھونکنے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ وہیں سے نریندر مودی کا اے کے شرما پرجو بھروسہ ہوا وہ کبھی کم نہیں ہوا اور یہاں تک کہ جب 26 مئی 2014 کو انہوں نے پہلی بار وزیراعظم کی کرسی سنبھالی، تو پی ایم او میں پہلی تقرری اے کے شرما کی ہی کی۔ 30 مئی کو حکم جاری ہوا اور رسمی طور پر تین جون سے اے کےشرما نے پی ایم او میں اپنا کام جوائنٹ سکریٹری کے طور پر شروع کیا۔ ویسے تو غیر رسمی طور پر 20 مئی سے ہی وہ اپنا کام دہلی میں کر رہے تھے۔ جب نریندر مودی کو اس وقت کے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے حکومت بنانے کےلئےمدعو کردیا تھا۔

نریندر مودی کا اے کے شرما پر بھروسہ وزیراعظم بننے کے بعد بھی قائم رہا۔
نریندر مودی کا اے کے شرما پر بھروسہ وزیراعظم بننے کے بعد بھی قائم رہا۔


سوال اٹھتا ہےکہ جو اےکے شرما گزشتہ ساڑھے 18 سال سے مسلسل سیدھے طور پر نریندر مودی کی سر پرستی میں کام کر رہےتھے اور وزیراعلیٰ کے سکریٹری سے لےکر مرکز میں سکریٹری کے عہدے پر مودی کے ساتھ کام کرتے رہے، انہیں اب پی ایم او سے باہر کیوں بھیجا گیا ہے۔ یہی بات ترون بجاج کے معاملے میں بھی ہے، جو اپریل 2015 میں پی ایم او میں جوائنٹ سکریٹری کے طور پر آئے تھے اور وہیں پر مسلسل کام کرتے رہے تھے، پرموشن پاکر ایڈیشنل سکریٹری بن جانے کے باوجود۔ خاص بات یہ ہےکہ نریندر مودی کے پی ایم او میں اےکے شرما اور ترون بجاج ہی دو ایڈیشنل سکریٹری تھے، جو اب سکریٹری عہدے پر پرموشن کے بعد ایک ساتھ دو اہم محکموں اور وزارت کی ذمہ داری سنبھالنے جارہے ہیں۔

ان دونوں کو پی ایم او سے باہر ایم ایس ایم ای اور ڈی ای اے میں بھیجا جانا وزیر اعظم مودی کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ جانکار ذرائع بتاتے ہیں کہ کورونا کے سنگین بحران کے درمیان مودی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج معیشت کو تیزی کےساتھ پٹری پر لانےکی ہے،جو گزشتہ ایک ماہ سے ملک گیرسطح پر لاک ڈاون کے سبب مشکل میں ہے۔ اس بڑے چیلنج سے نمٹںےکےلئے ہی نریندر مودی نے اپنے دو خاص انتظامی سپہ سالاروں کو دو اہم محکموں کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ نریندر مودی کو ان پر پورا بھروسہ بھی ہے اور ان دونوں کےکام کاج کو وہ جانتے بھی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ترون بجاج کو اسی ڈی ای اے کا سکریٹری بناکر بھیجا گیا ہے، پی ایم او میں آنے سے پہلے تک وہ ڈی ای اے میں تقریباً تین سال تک جوائنٹ سکریٹری کے طور پرکام کرچکے تھے۔

وزیراعظم مودی کے لئے غریب لوگوں کی فکر کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ فائل فوٹو
وزیراعظم مودی کے لئے غریب لوگوں کی فکر کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ فائل فوٹو


فطری طورپر وزیراعظم مودی کے لئےغریب لوگوں کی فکر کرنا سب سے زیادہ اہم ہے۔ کورونا بحران کے بعد انہوں نے جتنی بار بھی ملک کے باشندوں کے ساتھ بات چیت کی، غریب ہمیشہ ان کی توجہ کا مرکز رہا۔ وزیراعظم مودی کو اچھی طرح معلوم ہےکہ اگر بڑے پیمانے پر غریبوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہیں تو کاٹیج ، چھوٹے اور متوسط درجےکےکاروباری اداروں کو تیزی سے آگے بڑھانا ہوگا اور انہیں مضبوط کرنا ہوگا۔ اے کے شرما کے پاس اس سیکٹرکو ٹھیک کرنے کے لئے مناسب تجربہ ہے۔ گجرات میں نریندر مودی کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے ساڑھے تیرہ سال تک سی ایم او کا حصہ رہے اے کے شرما مسلسل انڈسٹری کی ہی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ یہاں تک کہ صنعتی سرمایہ کاری کو بڑھاوا دینے کےلئے نریندر مودی نے 2003 میں جب وائمبرینٹ گجرات انویسٹر سمٹ کی شروعات کی، تو اے کے شرما ہی سگل ریفرنس پوائنٹ اس کے لئے بنائے گئے تھے۔

ترون بجاج کو ڈی ای اے کی ذمہ داری دینا بھی بہت اہم اشارہ دینے والا ہے۔ گجرات کیڈر کے آئی اے ایس افسر اتنو چکرورتی 30 اپریل کو بطور سکریٹری ریٹائر ہونے جارہے ہیں۔ ترون بجاج کو اس محکمے کا پرانا تجربہ ہے، پی ایم او میں خود طویل وقت تک کام کرچکے ہیں، ایسے میں اہم اقتصادی اقدامات یا ضوابط کے معاملوں میں ان کی رفتار کافی تیز رہ سکتی ہے، کیونکہ نہ تو کو آرڈینیشن میں کوئی پریشانی ہونے والی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی بات چیت کے ذریعہ میں خطرہ۔ اس طرح سے ترون بجاج اور اے کے شرما دو اہم وزارتوں میں وزیراعظم کے آنکھ کان کا کردار ادا کرنے والے ہیں اور اپنی قائم کردہ صلاحیتوں کے لحاظ سے نتائج دینے کے اہل ہیں۔ پیغام  واضح ہے، کورونا سے لڑائی کے معاملے میں وزیراعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان نے جس طرح سے عالمی شبیہ بنائی ہے، پڑوسیوں کے ساتھ ہی دنیا کے بڑے ممالک کی بھی مدد کی ہے، اس کے بعد اب اپنی معیشت کو تیزی سے پٹری پر لانے کی قواعد پوری سنجیدگی کے ساتھ شروع کی جارہی ہے اور اس کے لئے مودی نے متعلقہ محخموں کی کمان دے کر سیدھے سیدھے اپنے خاص افسران کو میدان میں اتار دیا ہے۔ اشارہ یہ بھی کہ باقی کسی بھی سیکٹر کے مقابلے معیشت مودی کے ایجنڈے میں ٹاپ پر ہے اور وہ اس میں کوئی کوتاہی نہیں برتنا چاہتے۔ وزارت مالیات میں ترون بجاج کو رکھنے سے پہلے نریندر مودی اپنے ایک اور پسندیدہ افسر ٹی وی سومناتھن کو پہلے ہی ایکسپنڈیچر سکریٹری کے طور پر وہاں رکھ چکے ہیں۔ دسمبر 2019 میں یہ نیا عہدہ قبول کرنے سے پہلے تمل ناڈو کے کیڈر کے 1987 بیچ کے آئی اے ایس افسر سومناتھن پی ایم او میں رہ چکے تھے اورنوٹ بندی کے وقت انہوں نے اہم کردار نبھایا تھا۔

 

 
First published: Apr 27, 2020 11:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading