உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    روس کے صدر پوتن سے پی ایم مودی نے کی فون پر بات، یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کو نکالنے پر ہوئی گفتگو

    روسی صدر ولادیمیر پوتن اور وزیراعظم نریندر مودی۔ (فائل فوٹو)

    روسی صدر ولادیمیر پوتن اور وزیراعظم نریندر مودی۔ (فائل فوٹو)

    یوکرین کے کچھ علاقوں میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان، ہندوستان نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر خارکیو چھوڑ دیں اور ساتھ ہی تین محفوظ مقامات کی طرف بڑھیں، جو 16 کلومیٹر کے دائرے میں ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی (PM Narendra Modi) نے ایک بار پھر روسی صدر ولادیمیر پوتن(Vladimir Putin) سے یوکرین کے دوسرے بڑے شہر Kharkiv پر روسی فوج کے شدید حملے کے درمیان بات کی۔ اب تک کی جانکاری کے مطابق پی ایم مودی نے یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کو بچانے کے لیے روسی صدر سے بات کی ہے۔ روسی صدر کے ساتھ پی ایم مودی کی بات چیت اور بھی اہم ہے کیونکہ روسی فوج نے یوکرین کے کئی بڑے شہروں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ اب تک کی معلومات کے مطابق کل کے حملے میں یوکرین میں خارکیو کو بھاری نقصان پہنچا ہے اور کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔


      اب تک کی جانکاری کے مطابق یوکرین بحران پر دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد پی ایم مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی۔ دونوں ممالک کے قائدین نے یوکرین کی صورتحال کا جائزہ لیا اور خاص طور پر خارکیو کی صورتحال کے بارے میں بات کی جہاں ہندوستانی طلباء کی ایک بڑی تعداد اب بھی پھنسی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی روسی صدر پر زور دیا کہ وہ ہندوستانیوں کو بحفاظت ہندوستان واپس لوٹائیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Operation Ganga: دو سو ہندوستانی طلبہ کو لے کر لوٹا C-17 گلوب ماسٹر، رومانیہ سے تھی پرواز

      اہم بات یہ ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے کے بعد وزیر اعظم مودی مسلسل عالمی رہنماؤں سے بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے منگل کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے بات کی۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے جلد از جلد جنگ بندی کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ بتادیں کہ یوکرین کے کچھ علاقوں میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے درمیان، ہندوستان نے اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر خارکیو چھوڑ دیں اور ساتھ ہی تین محفوظ مقامات کی طرف بڑھیں، جو 16 کلومیٹر کے دائرے میں ہیں۔ سفارت خانے نے ایڈوائزری میں کہا کہ جن لوگوں کو وہاں سے جانے کے لیے کوئی گاڑی یا بس نہیں ملی اور جو ریلوے اسٹیشن پر ہیں، وہ پیسوچن (11 کلومیٹر)، بابائے (12 کلومیٹر) اور Bezlyudovka (16 کلومیٹر) پیدل پہنچ جائیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: