اجودھیا آکربھی 'رام للا' سے دوررہیں گے وزیراعظم مودی

رام مندرتحریک سے لے کراب تک بی جے پی دو ہی ایسے لیڈررہے ہیں، جنہوں نے رام للا سے دوری بنائے رکھی ہے۔ پہلا نام سابق وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی اوردوسرا وزیراعظم نریندرمودی کا ہے۔

May 01, 2019 07:43 AM IST | Updated on: May 01, 2019 07:47 AM IST
اجودھیا آکربھی 'رام للا' سے دوررہیں گے وزیراعظم مودی

وزیراعظم نریندر مودی: فائل فوٹو

بی جے پی کےاسٹارپرچارک اوروزیراعظم نریندرمودی بدھ کو اجودھیا آرہےہیں۔ بطور وزیراعظم مودی کا یہ پہلا سفرہے۔ کہا جارہا ہے کہ اجودھیا آکربھی وزیراعظم نریندرمودی رام للا اورہنومان گڑھی مندرکےدرشن نہیں کرپائیں گے۔ مودی کا اجودھیا آنا اورشری رام للا کا درشن نہ کرنا مقامی لوگوں میں تشویش کا موضوع بنا ہوا ہے۔

ویسے اجودھیا آنے والے بیشترلیڈران رام للا کا درشن کرنا نہیں بھولتے ہیں۔ کانگریس صدر راہل گاندھی 2017 میں اوران کی بہن اورکانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی گزشتہ دنوں اجودھیا آپہنچے تھے۔ دونوں نے رام للا کے درشن تونہیں کئے، لیکن ہنومان گڑھی مندرجاکرپوجا ارچنا ضرور کی۔

Loading...

وزیراعظم مودی کی رام للا سے دوری کی وجہ؟

ایسے میں لوگوں کے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخروزیراعظم نریندرمودی رام للا سے دوری کی وجہ کیا ہے؟ واضح رہے کہ رام مندرتحریک سےلےکراب تک بی جے پی دو ہی ایسے لیڈررہے ہیں، جنہوں نے رام للا سے دوری بنائے رکھی ہے۔ بی جے پی کے ان لیڈروں میں پہلا نام بی جے پی کے بانیوں میں سے ایک اورسابق وزیراعظم آنجہانی اٹل بہاری واجپئی اوردوسرا وزیراعظم نریندرمودی کا ہے۔

ایسا مانا جارہا ہے کہ وزیراعظم مودی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی اجودھیا آنا چاہتے ہیں کیونکہ ملک میں لوک سبھا کا الیکشن ہورہا ہے اوران کا امیدواروں کے لئے ریلی کرنا پارٹی نے طے کیا ہے۔ ایسے میں فیض آباد اورامبیڈکرنگرکی سرحد پرہونے والی ریلی کوبھی وہ منع نہیں کرسکے۔

Loading...