وزیر اعظم مودی دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ، کئی اہم سمجھوتوں پر دستخط کی امید

سعودی عرب کی اہم فائنانشیل کانفرنس میں شرکت کیلئے وزیر اعظم مودی پیر کی رات کو روانہ ہوگئے ۔

Oct 28, 2019 11:09 PM IST | Updated on: Oct 28, 2019 11:31 PM IST
وزیر اعظم مودی دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ، کئی اہم سمجھوتوں پر دستخط کی امید

وزیر اعظم مودی دو روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ، کئی اہم سمجھوتوں پر دستخط کی امید

وزیر اعظم نریندر مودی پیر کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ، جہاں وہ ہندوستان - سعودی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیں گے۔ وزیر اعظم مودی سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر وہاں جا رہے ہیں اور منگل تک وہاں کے سرکاری دورے پر رہیں گے۔ وہ ریاض میں فیچر انویسمنٹ انسٹيٹيوٹ فورم کے تیسرے سیشن میں شامل ہوں گے۔

پی ایم مودی کے دو دن کے سعودی دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت کونسل سے متعلق اہم معاہدے پر دستخط کئے جائیں گے۔ وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان السعود کے ساتھ وفد سطح کی بات چیت بھی کریں گے۔ سرکاری ذرائع نے یہاں بتایا کہ شہزادہ وزیر اعظم کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیں گے۔ پی ایم مودی کے سعودی دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے اور وزیر اعظم سرمایہ کاری فورم میں ہندوستان کے رخ کو مختلف نمائندوں کے سامنے رکھیں گے۔

Loading...

وزارت خارجہ میں اقتصادی تعلقات کے سکریٹری ٹی ایس تری مورتی نے اس دورے کی اہمیت کے سلسلے میں بتایا کہ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ برسوں میں معیشت، اسٹریٹجک امور، توانائی اور دہشت گردی سمیت متعدد شعبوں میں دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں کافی استحکام اور اضافہ ہوا ہے ۔ ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے ۔ سعودی عرب نے اپنے ویژن 2030 کے تحت جن آٹھ ملکوں کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا ان میں ہندوستان بھی شامل ہے۔ دیگرممالک میں جرمنی، جاپان، چین، فرانس، امریکہ ،برطانیہ اور جنوبی کوریا ہیں۔

ٹی ایس تری مورتی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کے دورے کے دوران توانائی ، ڈیفنس ، سول ایوی ایشن اورانسداد دہشت گردی سے متعلق تقریباً ایک درجن معاہدوں پر دستخط کریں گے ۔ ان میں سب سے اہم انڈیا سعودی عرب اسٹریٹجک پارٹنر شپ کونسل کے قیام کا معاہدہ ہے۔ وزیر اعظم مودی اور سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اس کونسل کے مشترکہ چیئرمین ہوں گے۔ یہ کونسل دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں ہونے والی پیش رفت پر نگاہ رکھے گا۔

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعلقات میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ملکوں کی باہمی تجارت سالانہ 28 بلین ڈالر ہوگئی ہے ۔ دوسری طرف ہندوستان کے مقابلے پاکستان کی سعودی عرب کے ساتھ باہمی تجارت چار بلین ڈالر سے بھی کم ہے۔ سعودی عرب کی سرکاری پٹرولیم کمپنی آرامکو نے مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کے ساتھ پٹرولیم کے شعبے میں 75 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Loading...