ہوم » نیوز » وطن نامہ

اجودھیا سے لے کر طلاق ثلاثہ تک- پی ایم مودی کے انٹرویو کی یہ رہیں خاص باتیں

پی ایم مودی نے آج رام مندر، رافیل سودہ، سرجیکل اسٹرائیک اور نوٹ بندی سے متعلق سوالوں کے جواب دئے

  • Share this:
اجودھیا سے لے کر  طلاق ثلاثہ تک- پی ایم مودی کے انٹرویو کی یہ رہیں خاص باتیں
پی ایم مودی نے آج رام مندر، رافیل سودہ، سرجیکل اسٹرائیک اور نوٹ بندی سے متعلق سوالوں کے جواب دئے

وزیر اعظم نریندر مودی نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے قبل سال کے پہلے دن انٹرویو دیا اور تمام سوالوں کے جواب دئے۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے ساتھ انٹرویو میں وزیراعظم نریندر مودی نے آج  رام مندر، رافیل سودہ، سرجیکل اسٹرائیک اور نوٹ بندی سے متعلق سوالوں کے جواب دئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد ہی حکومت رام مندر معاملے میں کوئی قدم اٹھائے گی۔

ملک میں عدم رواداری ، ماب لنچنگ اور اقلیتوں میں خوف کے الزامات پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مہذب سماج میں اس طرح کے واقعات کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اقلیتوں پر حملے قابل مذمت ہے۔ بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر مار ڈالنےکے واقعات شرمناک ہیں ، ہمیں ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے ۔

 رافیل سودہ

پچھلے ایک سال سے سرکار کے گلے کی ہڈی بنے رافیل سودے پر انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور فرانسیسی صدر نے بھی اپنی بات کہی ہے میں نے بھی پارلیمنٹ اور مختلف عوامی جلسوں میں اپنی بات کہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ان کی نظر میں میرا جرم یہ ہے کہ میں دفاعی شعبے کو خودکفیل بنانے کے لئے ’میک ان انڈیا‘ پر کام کررہا ہوں۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں فوج کی ضرورتوں کو پورا کرنے پر توجہ دے رہا ہوں لیکن میں ان کے الزامات کی پروا نہیں کرتا۔ میں فوج کو مضبوط بنانے کے لئے اپنا کام کرتا رہوں گا ۔ میں ایمانداری سے کام کررہا ہوں‘‘۔


رام مندر
وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح طور پر کہا ہے کہ رام مندر پر آرڈیننس لانے پر غور قانونی کارروائی پوری ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا ۔ مودی نے کانگریس سے بھی اپیل کی کہ وہ مندر کے معاملے کے بارے میں عدالتی عمل میں اپنے وکیلوں کے ذریعہ رخنہ نہ ڈالے۔ وزیراعظم کا یہ بیان اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ ملک بھر میں رام مندر پر آرڈی ننس لائے جانے کے سلسلے میں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

تین طلاق
تین طلاق کے معاملے پر مودی نے کہا کہ ’’تین طلاق مذہب سے متعلق معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق صنفی انصاف سے ہے۔ کئی اسلامی ملکوں نے اس پر پابندی عائد کررکھی ہے‘‘۔
 سرجیکل اسٹرائیک
سرجیکل اسٹرائیک سے وابستہ سوال پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اری حملہ کے بعد وہ کافی دکھی تھے ۔ اس کے بعد ہی سرجیکل اسٹرائیک کا منصوبہ بنا ۔ دو مرتبہ سرجیکل اسٹرائیک کے منصوبہ کو ٹالا گیا ۔ اس کے بعد اس کو منظوری دی گئی ۔ اس میں اولین ترجیح جوانوں کی سیکورٹی تھی ۔
پاکستان کے ساتھ رشتے
پاکستان کے ساتھ رشتوں پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ پاکستان جلد سدھرنے والا نہیں ہے ۔ ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو لے کر حکومت کا کیا منصوبہ ہے، اس بارے میں میڈیا میں بتایا نہیں جاسکتا ۔ لیکن ہر حکومت نے پاکستان سے تعلق سدھارنے کیلئے کام کیا ہے۔
کانگریس سے پاک ہندوستان 
کانگریس سے پاک ہندوستان کے سوال پر کہا کہ کانگریس کے لوگ بھی مانتے ہیں کہ کانگریس ایک نظریہ ہے ۔ ایک کلچر ہے ، جب میں کانگریس سے پاک ہندوستان کی بات کہتا ہوں تو میں چاہتاہوں کہ ملک کو اس نظریہ سے نجات ملے اور میں کہتا ہوں کہ کانگریس کو بھی کانگریسی روایت سے نجات ملنی چاہئے۔
سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات
سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کوتقریبا 180 سیٹیں ملنے کی قیاس آرائی کے سوال پر وزیر اعظم مودی نے جواب دیا کہ کیا اس کی کوئی سائنٹفک بنیاد ہے ؟ ، 2013 میں بھی یہ لوگ بی جے پی کیلئے یہی بات کرتے تھے ۔ وہی تخمینہ دوہرایا جارہا ہے۔ اگر یہ لوگ ایسی چیزیں نہیں کہیں گے تو ان کے اتحاد میں لوگ کیسے آئیں گے ۔ انہیں لوگوں کو راغب کرنے کیلئے ایسا کہنا ہوگا۔
نوٹ بندی
پی ایم مودی نے نوٹ بندی کے سوال پر کہا، ’’ یہ جھٹکا نہیں تھا۔ ہم نے ایک سال قبل ہی لوگوں کو آگاہ کیا تھا کہ اگر آپ کے پاس ایسی رقم (بلیک منی) ہے تو آپ اسے جمع کرا دیں، پینلٹی ادا کریں اور اپ کی مدد کی جائےگی۔ حالاںکہ انہوں نے سوچا کہ مودی بھی باقی لوگوں کی طرح ہی کام کرےگا اسلئے کافی کم لوگ اپنی مرضی سے آگے آئے‘‘۔
کسان
کسانوں پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ حقیقت میں کانگریس نے قرض معافی نہیں کی ۔ کسانوں سے جھوٹ بولا گیا ۔ ہماری حکومت کا مقصد کسانوں کو مضبوط کرنا ہے ۔ ہمیں یہ صورتحال بنانی چاہئے کہ کسانوں کو قرض کی ضرورت نہیں  پڑے۔
جی ایس ٹی
جی ایس ٹی پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ راہل گاندھی جی ایس ٹی کو گبر سنگھ ٹیکس کہہ رہے ہیں ۔ انسان جیسا سوچتا ہے ویسے ہی بولتا ہے ۔ کیا جی ایس ٹی ملک کی سبھی سیاسی پارٹیوں کے اتفاق رائے سے نہیں لایا گیا ہے۔ جب پرنب مکھرجی فائنانس منسٹر تھے ، تب سے جی ایس ٹی کی کارروائی شروع ہوئی تھی۔

یو این آئی اور نیوز 18 کے ان پٹ کے ساتھ
First published: Jan 01, 2019 09:15 PM IST