پی این بی گھوٹالہ : بینک افسران کو ہر لیٹر آف انڈر ٹیکنگ کے عوض میں ملتا تھا موٹا کمیشن : سی بی آئی

پنجاب نیشنل بینک ( پی این بی ) کے 11360 کروڑ روپے سے زیادہ کے گھوٹالہ کے معاملہ میں سی بی آئی نے کئی افسروں کو گرفتار کیا ہے ۔ پوچھ گچھ کے دوران تفتیشی ایجنسی کو بینک افسروں سے کئی حیران کن معلومات حاصل ہوئی ہیں ۔

Feb 18, 2018 03:49 PM IST | Updated on: Feb 18, 2018 03:58 PM IST
پی این بی گھوٹالہ : بینک افسران کو ہر لیٹر آف انڈر ٹیکنگ کے عوض میں ملتا تھا موٹا کمیشن : سی بی آئی

ممبئی : پنجاب نیشنل بینک ( پی این بی ) کے 11360 کروڑ روپے سے زیادہ کے گھوٹالہ کے معاملہ میں سی بی آئی نے کئی افسروں کو گرفتار کیا ہے ۔ پوچھ گچھ کے دوران تفتیشی ایجنسی کو بینک افسروں سے کئی حیران کن معلومات حاصل ہوئی ہیں ۔ افسروں کے مطابق ہر لیٹر آف انڈر ٹیکنگ ( ایل او یو ) کیلئے انہیں کمیشن ملتا تھا ، ایگریمنٹ کی رقم کے اعتبار سے کمیشن طے کیا جاتا تھا ۔

سی بی آئی نے اتوار کو یہ معلومات فراہم کی ۔ سی بی آئی کے مطابق پی این بی کی جانب سے شیئر کئے گئے اعدادوشمار کے مطابق اس گھوٹالہ میں 63 دنوں میں ہی 143 ایل او یو جاری کردئے گئے تھے ، ہر ایل او یو پر کمیشن مقرر تھی ، جو سبھی افسروں کے درمیان تقسیم کی جاتی تھی ۔ سی بی آئی نے رائے پور میں گیتانجلی اسٹور پر بھی چھاپہ مارا ہے۔

خیال رہے کہ پی این بی گھوٹالہ میں سی بی آئی نے بینک افسران گوکل ناتھ شیٹی ، منوج کھرات اور ہیمنت بھٹ کو گرفتار کیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ معاملہ میں ہیرا تاجر نیرو مودی اور ان کے رشتہ دار میہول چوکسی سمیت بینک کے کچھ ملازمیں کے خلاف جانچ کی جارہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بدھ کو 11360 کروڑ روپے کی جعل سازی کے انکشاف کے بعد پی این بی کے شیئر میں 10 فیصد تک کی گراوٹ آئی تھی ، جس کی وجہ سے پی این بی کے سرمایہ کاروں کو جہاں تین ہزار کروڑ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ، وہیں سبھی سرکاری بینکوں کے سرمایہ کاروں کو مجموعی طور پر تقریبا 15 ہزار کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔

Loading...

یہ گھوٹالہ لیٹر آف انڈر ٹیکنگ( ایل او یو) کی آر میں کیا جارہا تھا ۔ اس کے تحت ایک بینک کی گارنٹی پر دوسرے بینک ادائیگی کررہے تھے ۔ اس گھوٹالہ میں پنجاب نیشنل بینک کے علاوہ یونین بینک آف انڈیا ، الہ آباد بینک اور ایکسس بینک کے نام بھی سامنے آرہے ہیں ، حالانکہ ان بینکوں کا کہنا ہے کہ وہ پی این بی کے لیٹر آف انڈر ٹیکنگ کی بنیاد پر یہ ادائیگی کررہے تھے۔

Loading...