ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممبئی: شہریت ترمیمی قانون مخالف مظاہروں پر بات کرنا پڑ امہنگا۔ شاعر کو کیب ڈرائیور نے پہنچایا پولیس اسٹیشن

جے پور سے تعلق رکھنے والے شاعر شاعربپادتیہ نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا ہوگا کہ ممبئی میں سفرکیب میں سفر کے دوران فون پر گفتگو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہورہے احتجاجی مظاہروں پر بات کرنا انہیں مہنگا پڑے گا کہ پولیس ان سے پوچھ تاچھ کریگی۔

  • Share this:
ممبئی: شہریت ترمیمی قانون مخالف مظاہروں پر بات کرنا پڑ امہنگا۔ شاعر کو کیب ڈرائیور نے پہنچایا پولیس اسٹیشن
کولکاتا کے پارک سرکس میدان میں خواتین کا احتجاج جاری۔(تصویر:شبانہ جاوید)۔

شاعربپادتیہ سرکار بدھ کے روز ایک اوبر کیب میں جوہو سے کرلہ واپس جا رہے تھے ۔اس دوران انہوں نے ایک دوست کو فون کرتے ہو ئے ملک بھر میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف جاری مظاہروں پر تبادلہ خیال کیا۔ تاہم ، انہیں اس بات کا انداز بھی تھا کہ کیب ڈرائیور نہ صرف شاعربپادتیہ سرکار کی گفتگو کو سن رہا تھا بلکہ اس پر اپنا رد عمل بھی ظاہر کررہا تھا۔ اور اس مسافر کو منزل مقصود تک لے جانے کے بجائے اس شاعر کو سینٹاکروز پولیس اسٹیشن لے گیاہے۔


آل انڈیا پروگریسو ویمن ایسوسی ایشن کی سکریٹری کویتا کرشنن نے جمعرات کے روز اس واقعے کے بارے میں ٹویٹ کیا ۔جس شاعرو جہدکار بپادتیہ سرکار کے پیش آئے واقعہ کا ذکر کیاگیاہے۔ بتایاجارہاہے کہ اس واقعے کے بعد بپادتیہ سرکار نے ممبئی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جو ناکا م رہی ۔



کرشنن کے ذریعہ ٹویٹ میں شیئر کیے گئے اسکرین شاٹ کے مطابق بپادتیہ سرکاربدھ کی رات قریب ساڑھے دس بجے اوبر کی ٹیکسی میں جوہو سے کرلہ جارہے تھے۔اس دوران ، وہ دہلی کے شاہین باغ میں 'لال سلام' کے نعرے کے بعد پیدا شدہ حالات کے متعلق موبائل فون پر اپنے دوست سے گفتگو کر رہے تھے۔ یہ بات چیت سن کر ڈرائیور نے ٹیکسی روک دی اور بتایا کہ اسے اے ٹی ایم سے رقم نکالنی ہے۔

چند منٹ بعد ، ڈرائیور 2 پولیس اہلکاروں کے ساتھ واپس آیا اور اس وقت مجھے احساس ہوا کہ اس نے مجھے پولیس اسٹیشن پہنچادیاہے۔بپادتیہ سرکار نے اپنے دوستوں کو بھیجے گئے پیغا م میں بتایاکہ اس موقع پر پولیس نے ان سے پو چھ تاچھ شروع کردی ۔ اور پولیس کو یہ سمجھانا پڑا کہ وہ ڈفلی (ایک ہینڈ ڈرم) لے کر جارہے ہیں کیونکہ وہ دن میں ممبئی باغ میں ہورہے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی تھی۔

بپادتیہ سرکار نے بتایا کہ اس موقع پر ، ڈرائیور نے مبینہ طور پر کہا ، " جناب ، براہ کرم اسے سلاخوں کے پیچھے کردوں۔یہ ملک کو آگ لگانے کی بات کررہے تھے ، یہ کہتے ہوئے کہ وہ ایک کمیونسٹ ہیں اور ممبئی میں شاہین باغ بنانے کی بات کررہے ہیں۔ میرے پاس پوری ریکارڈنگ موجود ہے۔بپادتیہ سرکار نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ ریکارڈنگ کو سنیں اور انہیں گرفتار کرلیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ملک ک آگ لگانے کی بات نہیں کی ہے۔ اگر کو ملک مخالف یا ملک سے دشمنی ظاہرکرنے والے الفاظ ملیں تو مجھے گرفتار کرلیجئے۔انہوں نے اوبر ڈرائیور سے یہ بھی پوچھا کہ انہوں نے کیا جرم کیا ہے۔

جس پر ڈرائیور نے جواب دیا۔ ' تم دیش کو جلا نے کی بات کریں اور ہم کیا دیکھے رہیں گے؟ مین تمہیں کہیں اور لے جا سکتا تھا آپ ، شکرادا کریں کہ میں ، آپ کو پولیس اسٹیشن لایا ہوں ۔بپادتیہ سرکار کا کہناہے کہ اس وقت وہ بے چین ہوگئے اور ان پر خوف طاری ہوگیا۔ پولیس نے بپادتیہ سرکار کو بیان درج کروانے کے بعد بالآخر رہا کردیا۔ تاہم پولیس نے انہیں مشورہ دیا کہ سرخ سکارف نہ پہنیں اور ڈفلی بھی اپنے ساتھ نہ رکھیں ۔
First published: Feb 07, 2020 10:29 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading