ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

جشن جمہوریہ کے موقعہ پر بھوپال کے شاعر گئے جیل، قیدیوں کے لئے شعری محفل کا انعقاد

جشن جمہوریہ کے موقع پر بھوپال جیل نے ایک خاص شعری محفل کو آراستہ کیا۔ یہ خاص شعری محفل صرف قیدیوں کے لئے آراستہ کی گئی تھی، شعری محفل میں اردو ہندی کےممتاز شعرا نے شرکت کی اور جب انہوں نے حب الوطنی سے سرشار ہوکر اپنا کلام قیدیوں کے بیچ پیش کیا تو پورا جیل واہ واہ کی صداؤں سے گونج اٹھا۔

  • Share this:
جشن جمہوریہ کے موقعہ پر بھوپال کے شاعر گئے جیل، قیدیوں کے لئے شعری محفل کا انعقاد
جشن جمہوریہ کے موقعہ پر بھوپال کے شاعر گئے جیل، قیدیوں کے لئے شعری محفل کا انعقاد

بھوپال: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں آج لوگ اس سکتے میں آگئے جب بھوپال سینٹرل جیل کے جیلردنیش نرگوے نے شہر کے ممتاز شعرا کو جیل میں بلایا۔ اردو اور ہندی کے شعرا کو اچانک جیل میں طلب کئے جانے سے نہ صرف شاعر بلکہ ان کے اہل خانہ کی بھی سانسیں رک گئیں، لیکن جب یہ شاعر جیل پہنچے تو ان کی خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اردو اور ہندی کے شعرا نے ایسی کیا خطا کردی کہ انہیں جیل کا سفر کرنا پڑا تو ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ جشن جمہوریہ کے موقع پر بھوپال جیل نے ایک خاص شعری محفل کو آراستہ کیا تھا۔ یہ خاص شعری محفل صرف قیدیوں کے لئے آراستہ کی گئی تھی، شعری محفل میں اردو ہندی کےممتاز شعرا نے شرکت کی اور جب انہوں نے حب الوطنی سے سرشار ہوکر اپنا کلام قیدیوں کے بیچ پیش کیا تو پورا جیل واہ واہ کی صداؤں سے گونج اٹھا۔

بھوپال سینٹر جیل میں اپنی نوعیت کی خاص شعری محفل میں اردو زبان کے شعرا میں ساجد رضوی، ڈاکٹر پروین کیف، ظفر صہبائی، یونس فرحت نے اپنا کلام پیش کیا تو ہندی زبان کے شعرا میں پاون جین، مدن موہن ثمر اور دھرمیندر سولنکی نے اپنی بہترین شاعری سے پولیس کے اعلی حکام، جیل اسٹاف اور قیدیوں کو محظوظ کیا۔



بھوپال جیل سپرینٹنڈنٹ دنیش نرگوے کہتے ہیں کہ جشن آزادی کا موقعہ ہو یاجشن جمہوریہ کایا ہولی، دیوالی یا پھر دوسرے مواقع ہوں، قیدیوں کے بیچ پروگرام کا انعقاد ایک روایت کا حصہ ہے، مگر اس بار روایت کو تبدیل کرتے ہوئے شاعری کی محفل کو آراستہ کیا گیا۔ ساہتیہ کار (ادیب) سماج کا مارگ درشن کرتے ہیں۔ موقع جشن جمہوریہ کا تھا، اس لئے روایت کو ذرا سا تبدیل کرتے ہوئے شاعری کی محفل کو سجایا گیا۔ قیدیوں نے اردو اور ہندی کے شاعروں کو خوب سنا اور پسند کیا اور ان کے سندیش کو بھی سنا تاکہ وہ زندگی میں عمل کرکے بہتر انسان بن سکیں۔

اردو کے ممتاز شاعر وجے تیواری کہتے ہیں کہ ملک و بیرون ملک میں بہت سے مشاعرے پڑھے، مگر آج قیدیوں کے بیچ مشاعرہ کا تجربہ بالکل الگ تھا۔ ہم تو یہ چاہیں گے کے اس روایت کوجاری رکھا جائے۔ وہیں ممتاز شاعرہ ڈاکٹر پروین کیف کہتی ہیں کہ یہ نیا تجربہ اچھا لگا۔جیل کے نام سے ہی لوگ خوف کھاتے ہیں اور جو لوگ جیل میں قید ہوتے ہیں وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوتے ہیں ،ہماری شاعری سے اگر تھوڑی دیر کے لئے کسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تو ہماری شاعری کا مقصد کامیاب ہوگیا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 25, 2021 11:52 PM IST