உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ناندیڑ میں ایک طالب علم کو پولیس نے اغواکاروں کے چنگل سے آزاد کروانے میں حاصل کی کامیابی

    ناندیڑ میں ایک طالب علم کو پولیس نے اغواکاروں کے چنگل سے آزاد کروانے میں حاصل کی کامیابی

    ناندیڑ میں ایک طالب علم کو پولیس نے اغواکاروں کے چنگل سے آزاد کروانے میں حاصل کی کامیابی

    ناندیڑ پولیس کی لوکل کرائم برانچ نے پھروتی کیلئے ایک بچہ کو اغوا کرنے والے ملزمین کو پکڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ واردات ناندیڑ ضلع کے لوہا تعلقہ میں پیش آئی ہے۔

    • Share this:
    ناندیڑ: ناندیڑ پولیس کی لوکل کرائم برانچ نے پھروتی کیلئے ایک بچہ کو اغوا کرنے والے ملزمین کو پکڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ واردات ناندیڑ ضلع کے لوہا تعلقہ میں پیش آئی ہے۔ پولیس نے کافی مشقت کے بعد نہ صرف ملزمین کو گرفتارکیا بلکہ ان کے قبضہ سے بچے کو بھی صحیح سلامت چھڑا لیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے بارے میں معلومات دینے کے لئے ضلع ایس پی وجے کمار نے آج پولیس ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس کا بھی انعقاد کیا۔

    پولیس کے مطابق وکاس ہٹکر اور اس کے ساتھیوں نے ناندیڑ ضلع کے لوہا تعلقہ میں ایک 13 سال کے بچےکو اغوا کرلیا اور اسے ایک گمنام جگہ پر لے جاکر اسی کے موبائل فون سے اس کے والدین کو کال کی گئی اور انہیں بچے کو اپنی چنگل سے آزاد کروانے کیلئے 20 لاکھ روپئے کی پھروتی دینے کا مطالبہ کیا۔ اغواکاروں کے مطالبات پورا کرنا اس لڑکے کے والدین کیلئے کسی بھی صورت میں ممکن نہیں تھا، ایسے میں ان لوگوں نے پولیس سے رابطہ کیا۔

    پولیس نے معاملے کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنےکی کوشش کی، جیسے ہی اغواکاروں نے اس لڑکے کے والدین کو پیسوں کے انتظام کے بارے میں معلومات لینے کیلئے فون کیا تو پولیس نے اس فون کی ریکارڈنگ کی اور آواز کے ذریعہ پہنچان کی کہ اغوا کارکوئی اور نہیں بلکہ وکاس ہٹکر ہے۔ وکاس ہٹکر پولیس کی ہٹ لسٹ میں ہے۔ ماضی میں بھی اس نے قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی جیسی واردات کو انجام دی ہے اور اس کے خلاف  10 سے زائد مقدمات درج ہے۔ پولیس کو اس کی تلاش ہے۔

    وکاس ہٹکر پولیس کی ہٹ لسٹ میں ہے۔ ماضی میں بھی اس نے قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی جیسی واردات کو انجام دی ہے۔
    وکاس ہٹکر پولیس کی ہٹ لسٹ میں ہے۔ ماضی میں بھی اس نے قتل، اقدام قتل اور ڈکیتی جیسی واردات کو انجام دی ہے۔


    پولیس نے وکاس ہٹکر کو پکڑنے اور اس بچے کو صحیح سلامت آزاد کروانےکیلئے ایک منصوبہ بند طریقے سے کارروائی کی، جیس ہی انہیں ایک مخبرکے ذریعہ یہ پتہ چلا کہ وکاس ہٹکر ناندیڑ شہر سے قریب لمب گاؤں کے ایک کھیت میں چھپا ہوا ہے تو پولیس نے لوکل کرائم برانچ کی ایک ٹیم کو وہاں بھیجا۔ اس ٹیم نے وکاس ہٹکر کو چاروں طرف سے گھیرلیا۔ پولیس نے میگا فون کے ذریعہ اعلان کرتے ہوئے وکاس ہٹکر کو پولیس کے آگے ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا، لیکن اس نے بجائے سرینڈر ہونےکے پولیس پر اور اس لڑکے پر اپنے پاس موجود پستول سے گولی چلانے کی کوشش کی۔ اس دوران پولیس اہلکا روں نے بھی جواب میں دو راؤنڈ فائرنگ کی۔ ایک گولی وکاس ہٹکر کے پیر میں لگتے ہی اس نے سرینڈر کردیا۔ پولیس نے فوری دبوچ لیا اور اس کی چنگل سے اس لڑکےکو صحیح سلامت چڑھانے میں کامیابی حاصل کی۔ لڑکے نے اغوا ہونے کے بعد آزاد کئے جانے کے دوران پیش آئے حالات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے اس کے ساتھ بہت بے رجمی سے مارپیٹ کی۔ پیسے نہیں ملنے پر اس کے جسم سے کڈنی نکال کر بیچنے یا اسے جان تک سے مارنے کی دھمکی دی۔ پولیس نے جیسے ہی اس کو آزاد کروایا اس نے خوشی کا اظہارکیا اور اپنے والدین سے مل کر نہایت جذباتی ہوگیا۔ یہ پورا سانحہ فلمی انداز میں پیش آیا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: