ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش: فرضی دینی مدارس کے خلاف احتجاج کر رہے مسلم نوجوانوں کو پولیس نے حراست میں لیا

مسلمانوں کا الزام ہے کہ ریاست میں ایسے دینی مدارس کی تعداد سینکڑوں میں ہے، جو صرف کاغذوں پر چل رہے ہیں، لیکن ریاستی حکومت کی طرف سے ان فرضی مدارس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

  • Share this:
اترپردیش: فرضی دینی مدارس کے خلاف احتجاج کر رہے مسلم نوجوانوں کو پولیس نے حراست میں لیا
فرضی دینی مدارس کے خلاف احتجاج کر رہے مسلم نوجوانوں کو پولیس نے حراست میں لیا

الہ آباد: یو پی میں حکومت سے مالی امداد یافتہ دینی مدارس میں چل رہے فرضی واڑے کے خلاف اب مسلم نوجوان سڑکوں پر اترآئے ہیں۔ مسلمانوں کا الزام ہے کہ ریاست میں ایسے دینی مدارس کی تعداد سینکڑوں میں ہے، جو صرف کاغذوں پر چل رہے ہیں، لیکن ریاستی حکومت کی طرف سے ان فرضی مدارس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے، بلکہ حکومت کی طرف سے ان مدارس کو مالی امداد مسلسل دی جا رہی ہے۔ ریاست میں چل رہے فرضی دینی مدارس کے خلاف مسلم نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ شہر کے مرکزی سول لائنس چو راہے پر ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے کو پولیس نے روکنے کی بھر پور کوشش کی۔


مظاہرے کے دوران پولیس اور نوجوانوں کے درمیان کہا سنی بھی ہوئی، جیسے ہی مسلم نوجوان احتجاج کے لئے سول لائنس چوراہے پر جمع ہوئے، وہاں موجود پولیس فورس نے ان کو احتجاج کرنے سے روک دیا۔ پولیس کی طرف سے احتجاج روکے جانے کے باوجود بعض نوجوان اپنے ساتھ لائے بینر اور پوسٹرکا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے۔ اس موقع پر پولیس نے احتجاج کر رہے کئی نوجوانوں کو اپنی حراست میں لے لیا۔ یو پی میں حکومت سے مالی امداد یافتہ دینی مدارس کی تعداد 560 ہے۔ ان مدارس کو ٹیچروں کی تنخواہ کے ساتھ ساتھ  مدرسہ جدید کاری اسکیم کے تحت مرکزی اور ریاستی حکومت کی طرف سے مالی امداد  فراہم کی جاتی ہے۔ فرضی دینی مدارس کے خلاف مہم چلانے والے وقار احمد کا کہنا ہے کہ ریاست کے وزیر برائے اقلیتی امور نند گوپال گپتا کو کئی بار میمورنڈم دے کر ریاست میں چلنے والے فرضی مدارس کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


 پولیس کی طرف سے احتجاج روکے جانے کے با وجود بعض نوجوان اپنے ساتھ لائے بینر اور پوسٹر کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے۔ اس موقع پر پولیس نے احتجاج کر رہے کئی نوجوانوں کو اپنی حراست میں لے لیا۔
پولیس کی طرف سے احتجاج روکے جانے کے با وجود بعض نوجوان اپنے ساتھ لائے بینر اور پوسٹر کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے۔ اس موقع پر پولیس نے احتجاج کر رہے کئی نوجوانوں کو اپنی حراست میں لے لیا۔


وقار احمد کا کہنا ہےکہ ریاستی وزیر کی طرف سے جانچ کا حکم جاری ہونےکے باوجود فرضی دینی مدارس کے خلاف ابھی تک کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔  وقار احمد کا کہنا ہے کہ صرف الہ آباد ضلع میں ہی ایسے کئی دینی مدارس ہیں جو صرف کاغذوں پر چل رہے ہیں۔ وقار احمد کا کہنا ہے کہ یو پی مدرسہ بورڈ مالی بدعنوانی کا اڈہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرضی دینی مدارس کے پاس نہ تو کوئی عمارت ہے اور نہ ہی بچوں کو کسی طرح کی کوئی تعلیم دی جاتی ہے۔ صرف سرکاری مالی امداد حاصل کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر فرضی واڑہ کیا جا رہا ہے۔ احتجاج میں شامل ذیشان رحمانی کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی حکومت نے فرضی دینی مدارس کے خلاف قانونی کار روائی نہیں کی تو احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ اور بھی دراز کر دیا جائے گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 24, 2020 11:54 PM IST