ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

پولیس نے حیدرآباد میں اجتماعی آبروریزی کے ملزمین کے انکاونٹر کی پوری کہانی بتائی ، پڑھیں 5 اہم باتیں

سائبر آباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے بتایا کہ چاروں ملزمین 10 دنوں سے پولیس حراست میں تھے ۔ ہم نے ان سبھی سے پوچھ گچھ کی تھی ، جب انہوں نے اپنا جرم قبول کرلیا ، تو ہم انہیں جائے واقعہ پر لے گئے ۔

  • Share this:
پولیس نے حیدرآباد میں اجتماعی آبروریزی کے ملزمین کے انکاونٹر کی پوری کہانی بتائی ، پڑھیں 5 اہم باتیں
پولیس نے حیدرآباد انکاونٹر کی پوری کہانی بتائی ، پڑھیں 5 اہم باتیں ۔ تصویر : اے این آئی ۔

تلنگانہ پولیس نے جمعہ کو کہا کہ حیدرآباد میں خاتون ویٹرنری ڈاکٹر کی آبروریزی اور قتل کے دو ملزمین نے صبح ہتھیار چھیننے کے بعد پولیس پر گولیاں چلائیں ، جس کے بعد پولیس نے جوابی فائرنگ کی ۔ سائبرآباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے بتایا کہ ملزمین میں ایک محمد عارف نے سب سے پہلے گولی چلائی ۔ جائے واردات پر پولیس کی جو ٹیم انہیں لے کر وہاں پہنچی تھی ، اس پر بھی اینٹ اور پتھروں سے حملہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ چھینے گئے ہتھیار ان لاک ( فائرنگ کیلئے تیار ) حالت میں تھے ۔


پولیس کمشنر کی پریس کانفرنس کی پانچ اہم باتیں :۔


سائبر آباد پولیس کمشنر وی سی سجنار نے بتایا کہ چاروں ملزمین 10 دنوں سے پولیس حراست میں تھے ۔ ہم نے ان سبھی سے پوچھ گچھ کی تھی ، جب انہوں نے اپنا جرم قبول کرلیا ، تو ہم انہیں جائے واقعہ پر لے گئے ، جہاں سین ری کرئیٹ کیا جانا تھا ۔ جب ہم جائے واقعہ پر پہنچے تو ملزمین نے حملہ کردیا ۔ ہم پر پتھراو کرکے وہ ہماری بندوقیں چھیننے میں کامیاب رہے ۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ملزمین ابھی بھی ہتھیاروں کے ساتھ وہاں پڑے ہوئے ہیں ۔ نتیجتا ہمیں انکاونٹر کرنا پڑا ۔


انہوں نے بتایا کہ ہمیں شک ہے کہ ملزم کرناٹک میں کئی دیگر معاملات میں شامل تھے ، جانچ جاری ہے ۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ جمعہ صبح 5.45 بجے سے 6.15 بجے کے درمیان یہ انکاونٹر ہوا ۔ ان ملزمین کا نام کئی دیگر کیسوں سے وابستہ ہے ، اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے ۔

پولیس کے مطابق اسی دوران ملزم محمد عارف اور کیشولو نے ہتھیار چھین لئے ۔ وہ فائرنگ کرتے ہوئے بھاگنے کی کوشش میں تھے ۔ پولیس کمشنر وی سی سجنار نے دعوی کیا کہ اس معاملہ میں ان کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں ۔

قومی انسانی حقوق کمیشن کے ذریعہ معاملہ کا از خود نوٹس لئے جانے کے سوال پر وی سی سجنار نے کہا کہ جو کوئی بھی نوٹس لیتا ہے ، ہم جواب دیں گے ۔ ریاستی حکومت ، این ایچ آر سی ، سبھی کو ۔ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ قانون نے اپنا فرض ادا کیا ہے ۔

سجنار نے بتایا کہ انکاونٹر کے وقت ملزمین کے ساتھ تقریبا 10 پولیس اہلکار تھے ، ہم نے جائے واقعہ پر متاثرہ کا سیل فون برآمد کیا ہے ، ہم نے ملزمین سے دو ہتھیار بھی ضبط کئے ہیں ، سبھی کارروائی پوری ہوجانے کے بعد ملزمین کی لاشوں کو ان کے اہل خانہ کے سپرد کردیا جائے گا ۔
First published: Dec 06, 2019 07:06 PM IST