உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ماں بیٹی چلا رہی تھی سیکس ریکیٹ ، مکان مالک تلاش کرتا تھا گراہک، اس حالت میں ملی لڑکیاں

    Police raid on sex racket: پولیس کو کچھ وقت سے ایک گھر میں مشتبہ سرگرمیوں کی خبر مل رہی تھی ۔ اس پر چھاپہ ماری کی گئی ۔ اس دوران ماں بیٹی جوگیندر کور اور رجنی کور کو حراست میں لیا گیا ہے ۔

    Police raid on sex racket: پولیس کو کچھ وقت سے ایک گھر میں مشتبہ سرگرمیوں کی خبر مل رہی تھی ۔ اس پر چھاپہ ماری کی گئی ۔ اس دوران ماں بیٹی جوگیندر کور اور رجنی کور کو حراست میں لیا گیا ہے ۔

    Police raid on sex racket: پولیس کو کچھ وقت سے ایک گھر میں مشتبہ سرگرمیوں کی خبر مل رہی تھی ۔ اس پر چھاپہ ماری کی گئی ۔ اس دوران ماں بیٹی جوگیندر کور اور رجنی کور کو حراست میں لیا گیا ہے ۔

    • Share this:
      نان کمتا : ماں اور بیٹی گزشتہ کئی دنوں سے جسم فروشی کرنے میں لگے ہوئے تھے ۔ اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ کو اس کی اطلاع ملی تو چھاپہ ماری کی گئی ۔ پولیس کے چھاپے سے افراتفری مچ گئی ۔ اس کارروائی کے دوران جسم فروشی میں شامل تین خواتین اور تین نوجوانوں ، سمیت ماں بیٹی کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ پکڑی گئی خواتین نے بتایا کہ مکان مالک گراہک تلاش کرنے کا کام کرتا تھا ۔

      پولیس کو کچھ وقت سے ایک گھر میں مشتبہ سرگرمیوں کی خبر مل رہی تھی ۔ اس پر چھاپہ ماری کی گئی ۔ اس دوران ماں بیٹی جوگیندر کور اور رجنی کور کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ یہاں کمروں میں قابل اعتراض حالت میں تین لڑکیوں اور تین لڑکوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ کارروائی کے دوران لکھویندر سنگھ ، دھرم سنگھ ، انمول کو قابل اعتراض حالت میں گرفتار کیا ۔ جبکہ تین خواتین کو اس ناجائز کاروبار میں شامل بتایا گیا ہے ۔

      پولیس سیکس ریکیٹ کو پکڑنے کیلئے کچھ دنوں سے جال پھیلا رہی تھی ۔ یقینی خبر ملنے کے ساتھ ہی پولیس نے صحیح وقت پر چھاپہ مارا ۔ پکڑے گئے لڑکوں اور لڑکیوں سے سخت پوچھ گچھ کی گئی ہے ۔ پوچھ گچھ میں انہوں نے بتایا کہ وہ سبھی لوگ ماں بیٹی کے ساتھ مل کر یہ غیر اخلاقی کام کرتے تھے ۔ ماں و بیٹی کو گھر پر غیر اخلاقی کام کرانے کا آدھا حصہ دیا جاتا تھا ۔ لڑکیوں نے پولیس کو بتایا کہ گراہکوں کو تلاش کرنے کا کام مکان کا مالک خود ہی کیا کرتا تھا ۔

      جسم فروشی کے اس کالے کارناموں میں ان لوگوں کے ساتھ کون کون اور جڑے تھے ، اس بات کی بھی پوری جانچ کرنے میں پولیس مصروف ہے ۔ ساتھ ہی دیگر ریاستوں سے بھی ان کے تار جڑے ہونے کے پہلو پر بھی پولیس کا پورا دھیان ہے اور اس سمت میں بھی جانچ کی جارہی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: