اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جے این یو تنازعہ معاملے میں پولیس کو ملی تین شکایتیں،SFI نے کیا یہ اعلان

    جے این یو تنازعہ معاملے میں پولیس کو ملی تین شکایتیں،SFI نے کیا یہ اعلان

    جے این یو تنازعہ معاملے میں پولیس کو ملی تین شکایتیں،SFI نے کیا یہ اعلان

    جے این یو طلبہ نے بدھ کو کہا کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی پر بی بی سی کی جانب سے تیار ڈاکیومنٹری پھر سے دکھائیں گے، جسے ہندوستانی حکومت نے غلط تشہیر بتا کر مسترد کردیا ہے

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      جے این یو کیمپس میں منگل کی رات ممنوعہ ڈاکیومنٹری انڈیا: دی مودی کوئشچن دیکھنے کے دوران تنازعہ میں وسنت کنج (نارتھ) تھانہ پولیس کو بدھ کو تین شکایتیں ملی ہیں۔ دو شکایتیں اے بی وی پی اور ایک شکایت آئیسا کی طرف سے دی گئی ہے۔

      حالانکہ، اس کیس میں پولیس کو منگل کی رات و بدھ کو کسی طرح کی پی سی آر کال نہیں ملی۔ وہیں، جے این یو کیمپس کی سیکورٹی بڑھادی گئی ہے۔ پولیس نے کیمپس  میں سنگباری کی بات سے انکار کیا ہے۔ دوسری جانب کمیونسٹ اسٹوڈنٹ یونین نے فلم دکھانے کو لے کر پھر اعلان کیا ہے۔

      جنوب-مغربی ضلع پولیس عہدیداروں کے مطابق، اے بی وی پی کی جانب سے دو شکایتیں دی گئی ہیں۔ ایک شکایت سابق طلبہ یونین صدر آئیشی گھوش نے دی ہے۔ آئیشی گھوش نے چار لائن کی شکایت دی ہے۔ ایک بائیں بازو کی طالب علم کی ایم ایل سی بنی ہے۔ ایم ایل سی میں، طالب علم کو اندرونی چوٹیں نہ لگنے کی بات ہے۔ کیمپس میں پتھراؤ کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ اگر پتھراؤ ہوتا تو کسی کو چوٹ پہنچتی لیکن کسی کو چوٹ نہیں لگی ہے۔

      تنازعہ کے بعد جب طلبہ جے این یو کے گیٹ پر آئے تھے تو وہاں تعینات پی سی آر کو غیر رسمی طور سے جانکاری دی گئی تھی۔ جے این یو انتظامیہ نے بھی پولیس کو کسی طرح کی اطلاع نہیں دی ہے۔ اس کے باوجود جے این یو کی سیکورٹی کو بڑھادیا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:


      یہ بھی پڑھیں:

      ایس ایف آئی کا منصوبہ
      جے این یو طلبہ نے بدھ کو کہا کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی پر بی بی سی کی جانب سے تیار ڈاکیومنٹری پھر سے دکھائیں گے، جسے ہندوستانی حکومت نے غلط تشہیر بتا کر مسترد کردیا ہے۔ اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ ان کی سبھی ریاستوں کے لوگوں میں جاکر ڈاکیومنٹری کو دکھانے کا منصوبہ ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: