ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سی اے اے مخالف ریلی میں شامل ہونے پر پولینڈ کے طالب علم کو ملا ہندوستان چھوڑنے کا حکم

جادو پور یونیورسٹی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق جادو پور یونیورسٹی میں ’’تقابلی ادب ‘‘ کے شعبے میں زیر تعلیم پولینڈ کے طالب کو ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 01, 2020 07:32 PM IST
  • Share this:
سی اے اے مخالف ریلی میں شامل ہونے پر پولینڈ کے طالب علم کو ملا ہندوستان چھوڑنے کا حکم
سی اے اے مخالف ریلی میں شامل ہونے پر پولینڈ کے طالب علم کو ملا ہندوستان چھوڑنے کا حکم ۔ فائل فوٹو ۔

جادو پوریونیورسٹی میں زیر تعلیم پولینڈ کے طالب علم کو فارن ریجنل رجسٹریشن آفس نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہرے میں شرکت کرنے کی وجہ سے ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ چند دنوں قبل ہی وشو بھارتی یونیورسٹی میں زیر تعلیم بنگلہ دیشی طالبہ کو بھی فیس بک پر شہریت ترمیمی ایکٹ مخالف پوسٹ شیئر کرنے کی وجہ سے فارن ریجنل رجسٹریشن آفس نے ملک چھوڑنے کی ہدایت دی تھی ۔


جادو پور یونیورسٹی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق جادو پور یونیورسٹی میں ’’تقابلی ادب ‘‘ کے شعبے میں زیر تعلیم پولینڈ کے طالب کو ملک چھوڑنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ کامل سیڈینسکی کو اب تک کئی نوٹس مل چکے ہیں ۔ ان پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ انہوں نے ویزا کی شرطوں کی خلاف ورزی کی ہے ۔


جادو پور یونیورسٹی کے ذرائع کے مطابق کئی ٹیچروں اور بائیں محاذ کی طلبہ یونین نے کہا ہے کہ دراصل کامل سیڈینسکی گزشتہ سال دسمبر میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ریلی کے وقت وہاں موجود تھے اور وہ وہاں شرکا کی حیثیت سے نہیں بلکہ تماش بین کی حیثیت سے موجود تھے۔ ایک بنگالی اخبار نے ان کی تصویر کو شایع کردیا تھا ۔ کچھ لوگوں نے اخبار کی اس کاپی کو ایف آر آر او کے دفتر بھیج دیا تھا جب کہ یہ سب جانتے ہیں ان کی شرکت تماش بین کے طور پر تھی اور اس نے صرف یادگار کے طور کچھ فوٹوکھینچے تھے۔


کامل سیڈینسکی نے اسی سال تیسرے سمسٹر کا امتحان دیا ہے ۔ اس معاملہ میں جادو پور یونیورسٹی کے وائس چانسلر سورنجن داس اور رجسٹرار باسو نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔ کامل سیڈینسکی نے اس سے قبل وشو بھارتی یونیورسٹی میں بنگالی کی تعلیم حاصل کی ہے۔
حال ہی میں وشو بھارتی یونیورسٹی میں زیر تعلیم بنگلہ دیشی طالبہ ’’ افسرہ عنیقہ میم ‘‘ جو فائن آرٹ میں انڈر گریجوٹ کی طالبہ ہیں ، کو ملک چھوڑنے کو کہا گیا تھا ۔ان دونوں نے فارن آفس سے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے کو کہا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں احتیاط برتیں گے ۔ جب کہ دفتر نے کہا ہے کہ اس معاملہ میں آخری فیصلہ دہلی میں لیا جائے گا۔
First published: Mar 01, 2020 07:32 PM IST