ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہارمیں انتخابی سال میں سیاسی پارٹیوں کو کیوں آرہی ہے سیمانچل کی یاد؟

بہار کے سیمانچل میں چار اضلاع پرآتے ہیں ۔کشن گنج، ارریہ، پورنیہ اور کٹیہار۔ چاروں ضلعوں میں اسمبلی کی 24سیٹیں ہے اور مسلمانوں کی آبادی یہاں امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کرتی ہے۔

  • Share this:
بہارمیں  انتخابی سال  میں سیاسی پارٹیوں کو  کیوں آرہی ہے سیمانچل کی یاد؟
یاسی پارٹیوں کو کیوں آرہی ہے سیمانچل کی یاد

سیاسی پارٹیوں کو کیوں آرہی ہے سیمانچل کی یاد۔ یہ اپنے آپ میں ایک بڑا سوال ہے۔ بہار کے سیمانچل میں چار اضلاع پرآتے ہیں ۔ کشن گنج، ارریہ، پورنیہ اور کٹیہار۔ چاروں ضلعوں میں اسمبلی کی 24سیٹیں ہے اور مسلمانوں کی آبادی یہاں امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کرتی ہے۔ 24 اسمبلی سیٹوں سے یہ طئے ہوتاہے کہ صوبہ کے باقی ضلعوں کا مسلمان کس پارٹی کی حمایت کرےگا۔ گزشتہ ضمنی انتخاب میں کشن گنج اسمبلی سیٹ سے ایم آئی ایم نے اپنا کھاتہ کھولا ہے اور سیاسی پارٹیوں کی پریشانی کی سب سے بڑی وجہ یہی مانی جارہی ہے۔وہیں دوسری جانب سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کا مدّعہ انہیں مزید مشکل میں ڈال دیا ہے۔ خاص طور سے آرجےڈی، کانگریس اور جےڈی یو کو لگنے لگا ہیکہ کہیں مسلمانوں کا ووٹ تقسیم نہ ہوجائے اور سی اے اے و این آر سی کے مدّعہ پر ووٹ کا منظر نامہ بدل نہ جائے۔ اگر ایسا ہوا تو ریاست کی سیاسی تصویر پر اسکا خاص اثر پڑےگا۔ این آر سی بہار میں لاگو ہوگا یا نہیں یہ تو نہیں معلوم لیکن اس مدّعہ پر کئی سیاسی پارٹیوں کی دکان ضرور چلےگی اور بہار کا اسمبلی انتخاب سی اے اے کی حمایت اور این آر سی کو لاگو نہیں کرنے کا نعرہ لگاتے ہوئے گزر جائےگا۔


 24 اسمبلی  سیٹوں سے یہ طئے ہوتاہے کہ صوبہ کے باقی ضلعوں کا مسلمان کس پارٹی کی حمایت کرےگا۔
24 اسمبلی سیٹوں سے یہ طئے ہوتاہے کہ صوبہ کے باقی ضلعوں کا مسلمان کس پارٹی کی حمایت کرےگا۔


کئی سالوں سے مسلمانوں کے مسائل پر سوئی اپوزیشن جماعتیں اچانک حرکت میں آگئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کو مسلمانوں کی یاد ایسے ستانے لگی کی وہ سیمانچل پہنچ گئے۔ سیمانچل میں تال ٹھوک کر کہا کی این آر سی کو لاگو نہیں ہونے دینگے وہیں تیجسوی کے دورہ پر صوبہ میں سیاست گرم ہے۔ برسر اقتدار پارٹی نے بھی کہے دیا کہ بہار میں این آر سی لاگو کوکرنے کا سوال ہی نہیں ہے۔ جےڈی یو کے ایم ایل سی مولانا غلام رسول بلیاوی کا کہنا ہیکہ اپوزیشن خوف زدہ ہے ۔ اسلئے سیمانچل کا دورہ کر مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔آرجےڈی ترجمان مرتنجئے تیواری کا کہنا ہیکہ تیجسوی سے حکومت ڈر رہے ہیں ۔


کافی دنوں سے آرجےڈی کے کارکن اپنے لیڈر تیجسوی یادو کو تلاش کررہے تھے۔ اب تیجسوی یادو کے آنے اور انکے سیمانچل دورہ سے وہ اتنے خوش ہیں کی ابھی سے ہی انکو جیت دلانے والے وزیر اعلیٰ کا امیدوار مان بیٹھے ہیں جبکہ جےڈی یو کا کہنا ہیکہ سی اے اے اور این آر سی کو کچھ سیاسی پارٹیاں مذہبی رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے۔ جےڈی یو ایم ایل سی مولانا غلام رسول بلیاوی کا کہنا ہیکہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہونگے وہیں آرجےڈی کے ایم ایل اے نعمت اللہ نے مطالبہ کیا ہیکہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار اگر این آر سی لاگو نہیں کرنے کے سلسلے میں سنجیدہ ہیں تو اسمبلی سے ریزولوشن پاس کریں

 بہار اسمبلی
بہار اسمبلی


اب ذرا سیمانچل کو سمجھئے۔ 2015 کے بہار اسمبلی انتخاب میں سیمانچل کے 24 اسمبلی سیٹوں میں18سیٹوں پر عظیم اتحاد نے قبضہ کیاتھا۔ اس وقت آرجےڈی، کانگریس اور جےڈی یو ساتھ تھی جبکہ این ڈی اے کو محض پانچ سیٹوں پرہی کامیابی ملی تھی اور ایک سیٹ لیفٹ کے حصہ میں گئی تھی۔ اب جےڈی یو، این ڈی اے کے ساتھ ہے اور کانگریس و آرجےڈی اپوزیشن میں ہے۔ ضمنی انتخاب میں کشن گنج کی سیٹ ایم آئی ایم کے ہاتھ میں آگئی ہے اور یہی سے سیمانچل کا کھیل بگڑ گیا ہے۔ سی اے اے اور این آر سی کے معاملہ کے سبب انکی مشکل اور بڑھا گئی ہے۔یہ کہنا غیر مناسب نہیں ہوگا کی سی اے اے اور این آر سی ایک بہانہ ہے اصل نشانہ ووٹروں کو رجھانا ہے۔

سیمانچل میں آرجےڈی کے مظبوط لیڈر اور سیمانچل کے گاندھی کے نام سے مشہور محمد تسلیم الدین کا انتقال ہوگیا ہے اور کانگریس پارٹی کا مضبوط چہرا مولانا اسرار الحق قاسمی بھی اس دنیاں میں نہیں ہیں۔ ایسے میں اس بار کے انتخاب میں کانگریس اور آرجےڈی دونوں کے لئے سیمانچل میں اپنے قدم کو جمائے رکھنے کا چیلنج ہے۔ وہیں ایم آئی ایم کے صوبائی صدر اخترالایمان بھی بڑے قد کے سیاست داں ہیں۔ وہ آرجےڈی سے تین بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں ہیں۔ اب اخترالایمان ایم آئی ایم کے ریاستی صدر ہیں اور لگاتار سی اے اے، این آر سی اور سیمانچل کے مدّعہ پر حکومت کو کٹگھرے میں کھڑا کررہے ہیں۔ سیمانچل میں اخترالایمان نے آرجےڈی، کانگریس اور جےڈی یو کے لئے ایک مشکل ماحول بنانے کی کوشش میں جٹے ہیں۔ ایسے میں جےڈی یو نتیش کمار کی شخصیت اور انکے کام کو مسلمانوں کے درمیان پہنچنے کا منصوبہ بنارہی ہے تو اپوزیشن سی اے اے اور این آر سی کا مدّعہ لیکر پہنچی ہے۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کی سیمانچل کے سیاسی کھیل میں ابھی کتنا رنگ باقی ہے۔
First published: Jan 17, 2020 08:20 PM IST