உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش: مسلم قیادت کا ہوتا جا رہا ہے فقدان، سیاسی پارٹیوں نے مسلم قیادت کو حاشیے پر پہنچایا

    مدھیہ پردیش کے اسمبلی میں 80 کی دہائی تک جس کانگریس پارٹی سے 14 مسلم ایم ایل اے ہوا کرتے تھے، اب وہ کانگریس پارٹی مدھیہ پردیش میں چار مسلمان کو بھی ٹکٹ دینا گوارہ نہیں کرتی ہے۔ یہی نہیں مدھیہ پردیش ہی کیا پورے وسط ہند سے کانگریس نے گزشتہ 26 سالوں میں کسی مسلم نمائندے کو راجیہ سبھا میں نمائندگی نہیں دی ہے۔

    مدھیہ پردیش کے اسمبلی میں 80 کی دہائی تک جس کانگریس پارٹی سے 14 مسلم ایم ایل اے ہوا کرتے تھے، اب وہ کانگریس پارٹی مدھیہ پردیش میں چار مسلمان کو بھی ٹکٹ دینا گوارہ نہیں کرتی ہے۔ یہی نہیں مدھیہ پردیش ہی کیا پورے وسط ہند سے کانگریس نے گزشتہ 26 سالوں میں کسی مسلم نمائندے کو راجیہ سبھا میں نمائندگی نہیں دی ہے۔

    مدھیہ پردیش کے اسمبلی میں 80 کی دہائی تک جس کانگریس پارٹی سے 14 مسلم ایم ایل اے ہوا کرتے تھے، اب وہ کانگریس پارٹی مدھیہ پردیش میں چار مسلمان کو بھی ٹکٹ دینا گوارہ نہیں کرتی ہے۔ یہی نہیں مدھیہ پردیش ہی کیا پورے وسط ہند سے کانگریس نے گزشتہ 26 سالوں میں کسی مسلم نمائندے کو راجیہ سبھا میں نمائندگی نہیں دی ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: ملک میں جب بھی کوئی انتخاب آتا ہے، تو مسلمانوں کے ووٹ لینے کے لئے سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ سبھی قسم کے حربے استعمال کئے جاتے ہیں، لیکن مسلم قیادت کو فروغ دینے کے لئے کوئی بھی سیاسی پارٹی تیار نہیں ہے۔ پارلیمنٹ ہو یا صوبائی اسمبلیوں سبھی میں مسلم نمائندگی میں جس تیزی سے کمی آرہی ہے اس نے مسلم دانشوروں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

    مدھیہ پردیش کے اسمبلی میں 80 کی دہائی تک جس کانگریس پارٹی سے 14 مسلم ایم ایل اے ہوا کرتے تھے، اب وہ کانگریس پارٹی مدھیہ پردیش میں چار مسلمان کو بھی ٹکٹ دینا گوارہ نہیں کرتی ہے۔ یہی نہیں مدھیہ پردیش ہی کیا پورے وسط ہند سے کانگریس نے گزشتہ 26 سالوں میں کسی مسلم نمائندے کو راجیہ سبھا میں نمائندگی نہیں دی ہے۔حالانکہ مسلمان بی جے پی سے دوری اختیار کرتے ہیں، لیکن بی جے پی کے ذریعہ گزشتہ پانچ سالوں میں دو مسلمان کو راجیہ سبھا میں نمائندگی دی تھی۔ اس بار راجیہ سبھا کی تین سیٹوں کے لئے انتخاب ہونا ہے، لیکن بی جے پی اور کانگریس دونوں ہی پارٹیاں مسلم قیادت پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
    معروف صحافی ظفر عالم کہتے ہیں کہ 90 کے بعد ملک کی سیاست میں جو تبدیلی آئی ہے، اس نے مسلم قیادت کو جس طرح سے حاشیہ پر پہنچایا ہے، اس کے لئے مسلمان خود اور سیاسی پارٹیاں دونوں ذمہ دار ہیں۔ ملک میں نفرت کی سیاست کی جو ہوا چل رہی ہے، اس میں مسلمان اس کا ایندھن بنا ہوا ہے۔ سبھی پارٹیوں کو ووٹ چاہئے، لیکن مسلم قیادت کسی کو بھی قبول نہیں ہے۔

    مدھیہ پردیش میں بی جے پی ہارڈ ہندتوا تو کانگریس سافٹ ہندتوا کی راہ پر گامزن ہیں۔ کانگریس کو مسلمانوں کا ہمدرد کہا جاتا ہے، لیکن گزشتہ 26 سالوں میں کانگریس نے ایم پی ہی نہیں پورے سینٹرل انڈیا سے کسی مسلمان کو راجیہ سبھا میں نمائندگی نہیں دی ہے جبکہ مسلمانوں کی دشمن سمجھی جانے والی پارٹی بی جے پی نے گزشتہ پانچ سالوں میں ایم جے اکبر اور نجمہ ہیپت اللہ کی شکل میں دولوگوں کو راجیہ سبھا میں نمائندگی دے چکی ہے ۔بدلے ہوئے حالات میں مسلمانوں کو اپنے سیاسی نقطہ نظر کے لئے بی جے پی اور کانگریس کی سیاست سے  باہر نکلنا ہوگا تبھی ان کی قیادت کو کوئی مل سکتا ہے۔
    وہیں مدھیہ پردیش بی جے پی کے صدر وی ڈی شرما کہتے ہیں کہ مسلمانوں کی پسماندگی کے لئے کانگریس پوری طرح ذمہ دار ہے۔ کانگریس نے مسلمانوں کو صرف ووٹ کے لئے استعمال کیا ہے۔ بی جے پی مذہب کی سیاست نہیں کرتی ہے۔ اس کے یہاں جو بھی ملک کی تعمیرو ترقی کے لئے کام کرتا ہے اس کو پارٹی نمائندگی دیتی ہے۔

    مدھیہ پردیش کانگریس ترجمان اجے یادو کہتے ہیں کہ ملک میں مسلمانوں کو کانگریس نے جتنی قیادت دی ہے اس کی مثال کوئی دوسری پارٹی نہیں پیش کر سکتی ہے۔ بی جے پی حکومت میں مدھیہ پردیش میں کیا ہو رہا ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

     
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: