உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: رام نومی اور رمضان سے متعلق سیاسی گھمسان، کانگریس میں بغاوت، بی جے پی کی حمایت

    مدھیہ پردیش میں رام نومی اور رمضان سے متعلق سیاسی گھمسان

    مدھیہ پردیش میں رام نومی اور رمضان سے متعلق سیاسی گھمسان

    مدھیہ پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ کی ہدایت پر پارٹی عہدیداران کو رام نومی اورہنومان جینتی منانے کو لے کر احکامات جاری کئے جانے پر مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان چھڑ گیا ہے۔

    • Share this:
    بھوپال: مدھیہ پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ کی ہدایت پر پارٹی عہدیداران کو رام نومی اورہنومان جینتی منانے کو لے کر احکامات جاری کئے جانے پر مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان چھڑ گیا ہے۔ ایم پی پی سی سی صدر کمل ناتھ کی ہدایت پر جاری کئے گئے احکام کی جہاں بھوپال کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے مخالفت کی ہے۔ وہیں بی جے پی نے بھی عارف مسعود کے اعتراض کو جائز قرار دیتے ہوئے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    کانگریس ایم ایل اے عارف مسعود نے پارٹی کے ذریعہ جاری کئے گئے احکام پر سوال کیا ہے کہ جب پارٹی کے ذریعہ رام نومی اور ہنومان جینتی منانے کا احکام جاری کیا جا سکتا ہے تو رمضان اور دوسرے سماج کے مذہبی پروگرام کو منانے کو لے کر کیوں نہیں۔ کانگریس کے ذریعہ جاری کردہ احکام پر عارف مسعود کی مخالفت کے بعد جہاں پارٹی نے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ وہیں بی جے پی نے عارف مسعود کے اعتراض کو واجب قرار دیتے ہوئے انہیں خود احتسابی کرنے کا مشوہ ریا ہے۔

    مدھیہ پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ کی ہدایت پر پارٹی عہدیداران کو رام نومی اورہنومان جینتی منانے کو لے کر احکامات جاری کئے جانے پر مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان چھڑ گیا ہے۔
    مدھیہ پردیش کانگریس صدر کمل ناتھ کی ہدایت پر پارٹی عہدیداران کو رام نومی اورہنومان جینتی منانے کو لے کر احکامات جاری کئے جانے پر مدھیہ پردیش میں سیاسی گھمسان چھڑ گیا ہے۔


    بھوپال ایم ایل عارف مسعود کہتے ہیں کہ کانگریس پارٹی کے ذریعہ جو احکام جاری کیاگیا ہے اس کو لیکر میں نے سوال کھڑا کیا ہے کہ کانگریس ایک سیاسی پارٹی ہے اور سیاسی پارٹی کو اس طرح کا احکام جاری نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ ہم لوگوں سبھی مذاہب کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ اگر ہم رام نومی اور ہنوما چالیسا کو لیکر احکام جاری کرتے ہیں تو رمضان کو لیکر بھی ہمیں احکام جاری کرنا چاہیئے تھا۔ دیگر سماج کے لوگوں کے بھی جو مذہبی پروگرام ابھی نکلے ہیں اور ہونے والے ہیں انہیں لیکر بھی ہمیں احکام جاری کرنا چاہیئے تھا۔ تو یہ ایک اچھی روایت سیاسی پارٹی کے لئے نہیں ہے جو میں سمجھتا ہوں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن کانگریس کے احکام پر سوال اٹھا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کو صرف ووٹ کے لئے استعمال کرتی ہے۔

    بھوپال ایم ایل عارف مسعود کہتے ہیں کہ کانگریس پارٹی کے ذریعہ جو احکام جاری کیاگیا ہے اس کو لیکر میں نے سوال کھڑا کیا ہے کہ کانگریس ایک سیاسی پارٹی ہے اور سیاسی پارٹی کو اس طرح کا احکام جاری نہیں کرنا چاہئے۔
    بھوپال ایم ایل عارف مسعود کہتے ہیں کہ کانگریس پارٹی کے ذریعہ جو احکام جاری کیاگیا ہے اس کو لیکر میں نے سوال کھڑا کیا ہے کہ کانگریس ایک سیاسی پارٹی ہے اور سیاسی پارٹی کو اس طرح کا احکام جاری نہیں کرنا چاہئے۔


    اس سوال کے جواب میں عارف مسعود نے کہا کہ ہم ایسے احکام جاری کرکے دوسروں کو سوال کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔ کیونکہ کانگریس پارٹی میں جو ہندو ہے وہ آج سے تو نہیں ہے اور وہ سیاسی پارٹی کے کہنے پر رام نومی نہیں منائے گا۔ میرے بھوپال میں میرے اسمبلی حلقہ میں میرے دوست بہت اچھے سے رام نومی مناتے ہیں۔ ہنومان چالیسا کا پاٹھ کرتے ہیں۔ تو احکام جاری کرنے کی روایت غلط ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کو جاری کرنا چاہئے تھا۔

    مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے کانگریس میں جاری اندورنی انتشار پر طنز کرتے ہوئے عارف مسعود کے اعتراض کو واجب قرار دیا ہے۔
    مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے کانگریس میں جاری اندورنی انتشار پر طنز کرتے ہوئے عارف مسعود کے اعتراض کو واجب قرار دیا ہے۔


    وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا نے کانگریس میں جاری اندورنی انتشار پر طنز کرتے ہوئے عارف مسعود کے اعتراض کو واجب قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر نروتم مشرا کہتے ہیں کہ عارف مسعود جی کا اعتراض واجب ہے اور  عارف مسعود جی کو خود احتساب کرنا چاہیئے۔کانگریس کا مسلموں سے واسطہ صرف ووٹوں تک ہی ہے ۔بی جے پی کا خوف دیکھا کر صرف ووٹ لینا ہی کانگریس جانتی ہے باقی تو انہیں صرف ووٹرہی بنا کر رکھا گیا ہے آگے کچھ نہیں۔

    وہیں دوسری جانب سیاسی تجزیہ نگار اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس کے ذریعہ جاری کئے گئے احکام کو کانگریس کی سافٹ ہندتو کی سیاست سے تعبیر کرتے ہیں ۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ سافٹ ہندتو کی راہ پر چلنے سے صوبہ کا ہندو ووٹ تو کانگریس سے قریب نہیں ہوگاالبتہ اس کا روایتی مسلم ووٹ اس سے ضرور دور ہو جائے گا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: