ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں مدرسوں پر پھر شروع ہوئی سیاست ، آر جے ڈی نے نتیش پر لگایا الزام تو جے ڈی یو بھی آئی میدان میں

اپوزیشن پارٹی نے نئے مدرسوں کو منظور نہیں کئے جانے کے سلسلے میں حکومت پر سخت حملہ کیا ، تو حکمراں پارٹی جےڈی یو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اقلیتوں کا سب سے بڑا مسیحا بتا رہی ہے۔

  • Share this:
بہار میں مدرسوں پر پھر شروع ہوئی سیاست ، آر جے ڈی نے نتیش پر لگایا الزام تو جے ڈی یو بھی آئی میدان میں
بہار میں مدرسوں پر پھر شروع ہوئی سیاست ، آر جے ڈی نے نتیش پر لگایا الزام تو جے ڈی یو بھی آئی میدان میں

بہار میں مدرسوں پر سیاست کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ ریاست میں جب بھی انتخابات کا وقت قریب آتا ہے تو مدرسوں کا معاملہ بھی سرخیاں بٹورنے لگتا ہے ۔ اپوزیشن پارٹی نے نئے مدرسوں کو منظور نہیں کئے جانے کے سلسلے میں حکومت پر سخت حملہ کیا ، تو حکمراں پارٹی جےڈی یو وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو اقلیتوں کا سب سے بڑا مسیحا بتا رہی ہے۔ خیال رہے کہ بہار میں  2459 نئے مدرسوں کو منظور کرنے کا اعلان خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کیا تھا۔ 2011 میں بہار کی کابینہ نے 2459 نئے مدرسوں کو منظو کرنے فیصلہ کیا تھا ۔ سال 2013 میں 205 مدرسوں کو منظور کیا گیا اور 2015 میں 609 مدرسے منظور ہوئے ۔ اس طرح سے آٹھ سالوں میں محض 814 مدرسے منظور ہوئے ہیں ۔ باقی مدرسوں کا معاملہ ٹھنڈے بستہ میں ہے۔


آر جے ڈی نے نتیش کمار پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ اقلیتوں کے سلسلے میں گھڑیالی آنسو بہانے والے وزیر اعلیٰ کی مدرسوں کے معاملے پر پول کھل رہی ہے ۔ آر جے ڈی نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار صرف نعرہ لگا کر ووٹ لینے کی سیاست کرتے ہیں ۔ آر جے ڈی ترجمان مرتنجئے تیواری کے مطابق مدرسوں کے تعلق سے جے ڈی یو صرف سیاست کررہی ہے۔


واضح رہے کہ 2015 سے محکمہ تعلیم میں 464 مدارس کی فائل پڑی ہوئی ہے ، جس پر محکمہ نے ابھی تک کسی طرح کی کوئی کاروائی کرنا ضروری نہیں سمجھا ہے ۔ مدرسوں کی فائل محکمہ میں دھول چاٹ رہی ہے اور وزیر تعلیم کرشن نندن ورما بار بار یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مدرسوں کی منظوری کا مرحلہ جلد پورا کیا جائےگا ۔آرجےڈی نے راست طور سے وزیر اعلیٰ کو اس کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ آرجےڈی کے مطابق نتیش کمار سوشاسن کی بات کرتے ہیں ، لیکن یہ سب دیکھاوا ہے۔


نتیش کمار پر آر جے ڈی کے اس الزام پر جےڈی یو آگ بگولا ہوگئی ہے ۔ جے ڈی یو نے یہاں تک کہہ دیا کہ آزاد ہندوستان میں نتیش کمار نے ہی مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ کام کئے ہیں ۔ سابق ایم ایل سی اور جے ڈی یو لیڈر پروفسیر اسلم آزاد کے مطابق محکمہ تعلیم میں مدرسوں کی فائل موجود ہے ، جس پر حکومت جلد کارروائی کرے گی۔

تاہم سب سے بڑا سوال تو یہی ہے کہ کئی برسوں سے مدرسوں کی فائل محکمہ تعلیم میں کیوں پڑی ہوئی ہے ۔ کئی مرتبہ اس تعلق سے اسمبلی میں سوالات اٹھائے جانے کے بعد بھی حکومت کی نیند نہیں کھل سکی ہے ۔ ایسے میں اقلیتی سماج بھی مدرسوں کی منظوری کے متعلق پس و پیش میں مبتلا ہوگیا ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نئے مدرسوں کو منظور کرنے کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ اسمبلی انتخاب کے قریب کوئی فیصلہ کریں گے ۔ تاکہ اس کا انتخابی فائدہ حاصل کیا جاسکے ۔
First published: Jan 20, 2020 10:48 PM IST