ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

کرناٹک میں مسلم ریزرویشن پر منڈلا رہا ہے خطرہ، مسلمان خواب غفلت میں!

کرناٹک میں ان دنوں ریزرویشن پر بحث اور سیاست جاری ہے۔ بی جے پی حکومت کے چند وزراء سمیت کئی سیاسی لیڈران اپنی اپنی ذاتوں کیلئے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنےکی کوشش کر رہے ہیں۔

  • Share this:
کرناٹک میں مسلم ریزرویشن پر منڈلا رہا ہے خطرہ، مسلمان خواب غفلت میں!
کرناٹک میں کیا مسلم ریزرویشن کو ختم کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں؟

بنگلورو: کرناٹک میں ان دنوں ریزرویشن پر بحث اور سیاست جاری ہے۔ بی جے پی حکومت کے چند وزراء سمیت کئی سیاسی لیڈران اپنی اپنی ذاتوں کیلئے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنےکی کوشش کر رہے ہیں۔ کربا سماج کے بعد لنگایت طبقہ کے چند ذیلی ذاتیں ریزرویشن کا پُرزور مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان سماج اور برادری کی جانب سے ریاست گیر سطح پر احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے منعقد کئے جارہے ہیں۔ بنگلورو کے پیالیس گراونڈ میں لنگایت طبقے کے پنچم سالی سماج  کا 21 فروری کو زبردست احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا۔ اس سماج کے مذہبی رہنماؤں نے تقریباً 700 کلومیٹر تک پیدل یاترا کرتے ہوئے ریزرویشن کا مطالبہ حکومت کے سامنے پیش کیا۔ پنچم سالی سماج کا اہم مطالبہ 2A زمرے کے تحت حکومت انہیں ریزرویشن کا اعلان کرے۔

پنچم سالی سماج سے چند دنوں قبل کربا طبقہ نے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے "کربا" کو ایس ٹی طبقہ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر، ریاستی کابینہ کے وزیر کے ایس ایشوررپا ایک طرح سے کربا احتجاج کی قیادت کررہے ہیں اور حکومت پر کربا طبقے کیلئے ایس ٹی درجہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وہیں دلت طبقوں کی جانب سے ریزرویشن میں اضافہ کرنے کی تجویز ریاستی حکومت کے سامنے پہلے ہی سے موجود ہے۔  ایس سی ریزرویشن کو 15 سے 17 فیصد اور ایس ٹی ریزرویشن کو 3 سے 7 فیصد بڑھانے کی تجویز پہلے ہی سے حکومت کو پیش کی گئی ہے۔ ایس سی اور ایس ٹی ریزرویشن کوٹہ میں اضافہ کی تحریک کی قیادت بی جے پی حکومت کے سینئر وزیر سری راملو کررہے ہیں۔


بی جے پی حکومت کے چند وزراء سمیت کئی سیاسی لیڈران اپنی اپنی ذاتوں کیلئے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنےکی کوشش کر رہے ہیں۔ کربا سماج کے بعد لنگایت طبقہ کے چند ذیلی ذاتیں ریزرویشن کا پُرزور مطالبہ کر رہی ہیں۔
بی جے پی حکومت کے چند وزراء سمیت کئی سیاسی لیڈران اپنی اپنی ذاتوں کیلئے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنےکی کوشش کر رہے ہیں۔ کربا سماج کے بعد لنگایت طبقہ کے چند ذیلی ذاتیں ریزرویشن کا پُرزور مطالبہ کر رہی ہیں۔


ریاست میں مسلمانوں کی اگر بات کی جائے تو تقریبا 14 فیصد مسلم آبادی کیلئے تعلیم اور سرکاری ملازمت میں 4 فیصد ریزرویشن موجود ہے۔ 2B  زمرے کے تحت مسلمانوں کو ریزرویشن دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے چند انتہائی پچھڑے طبقات، نداف، پنجار، دھوبی اور چند دیگر برادریوں کو کٹیگری ون میں بھی ریزرویشن حاصل ہے۔ کل ملا کر ریاست میں تقریبا تمام ذاتوں اور طبقات کو 50 فیصد ریزرویشن دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ریزرویشن کی سطح 50 فیصد سے زائد نہیں ہونی چاہئے۔ لیکن اب چند طبقوں کی جانب سے ریزرویشن میں شمولیت یا موجودہ ریزرویشن میں اضافہ کی مانگ کے بعد ریزرویشن کی ازسر نو تقسیم کیلئے بعض گوشوں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔  ریزرویشن کے نام پر ہورہی سیاست میں کیا مسلم ریزرویشن کو ختم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے؟ یہ سنگین سوال ابھر کر سامنے آرہا ہے۔
بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے صاف طور پر یہ بات بھی کہہ ڈالی ہے کہ مسلمانوں کو حاصل ریزرویشن ، پنچم سالی طبقہ کو دیا جائے۔ دھارواڈ اسمبلی حلقہ کے بی جے پی ایم ایل اے اروند بیلد نے کہا کہ مسلمانوں کو دیا گیا ریزرویشن دستور ہند کے خلاف ہے۔ آئین نے ذاتوں کو ریزرویشن دینے کی بات کہی ہے نہ کہ مذہب کی بنیاد پر، اروند بیلد نے کہا کہ اس سلسلے میں اب تک کسی نے  سوال نہیں اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  2B میں دئے گئے مسلم ریزرویشن کو رد کیا جائے اس ریزرویشن کوٹہ کو 2A زمرہ میں شامل کرتے ہوئے پنچم سالی طبقہ کو دیا جائے۔ واضح رہے کہ اروند بیلد کا تعلق پنچم سالی طبقہ سے ہے جو ریزرویشن کیلئے جاری احتجاج میں پیش پیش ہیں۔ گزشتہ کئی دنوں سے ریاست میں ریزرویشن پر خوب بحث اور سیاست ہورہی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ مسلم طبقہ خواب غفلت میں ہے۔ مسلم سیاسی لیڈران ہوں یا مسلم تنظیموں اس معاملے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
حالانکہ مسلم ریزرویشن کو 4 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کرنے کی سفارش کئی سالوں پہلے حکومت کو کی گئی ہے۔ جسٹس ورما کمیشن نے مسلم ریزرویشن میں 4 سے 6 فیصد اضافہ کرنے کی سفارش کی ہے۔ سابق وزیر اعلی ایس ایم کرشنا کے دور میں جسٹس ورما کمیشن کی رپورٹ پر غور و خوض کرنے کیلئے صغیر احمد کی قیادت میں کابینہ کی سب کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔ لیکن اس وقت اقتدار کی تبدیلی کے بعد مسلم ریزرویشن میں اضافہ کا معاملہ سرد خانے میں رہ گیا۔
اب جبکہ ایک بار پھر ریزرویشن پر بحث اور سیاست ہورہی ہے، بعض سیاسی لیڈروں کی نظریں کیا مسلم ریزرویشن پر ٹکی ہوئی ہیں؟ ریزرویشن کی سیاست سے اپنے آپ کو دور رکھنے والے بی جے پی کے لیڈران اچانک ریزرویشن کیلئے جاری تحریکوں کی آخر کیوں پشت پناہی کررہے ہیں؟۔ اس طرح کے کئی سوالات ابھر کر سامنے آرہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلی بی ایس یدی یورپا ریزرویشن کے مطالبات پر غور کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دے سکتے ہیں، کیونکہ اس وقت وزیر اعلی ریزرویشن کی مانگ کی تائید کررہے اپنے ہی وزراء کے دباؤ میں نظر آرہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں ریزرویشن کی سیاست آخر کیا موڑ اختیار کرتی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 23, 2021 09:42 AM IST