உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فرقہ پرستی اور نفرت کی زد میں آتی سیاست، کن موضوعات اور بنیادوں پر ہوگا الیکشن؟

    کیا ملک کی سب سے بڑی ریاست کو ایک بار پھر مذہب اور فرقہ پرستی کے جنون کی نذر کیا جا رہا ہے؟ مندر، مسجد، دہشت گردی، دھرم سنسد اور تبدیلئِ مذہب کے نام پر جس انداز کی بیان بازی برسر اقتدار جماعت  اور اس کی حلیف تنظیموں سے جڑے لوگ کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف آئین ودستور کے خلاف ہے بلکہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اب فرقہ  پرست ذہنیتیں ملک کو کس سمت میں لے جانا چاہتی ہیں۔

    کیا ملک کی سب سے بڑی ریاست کو ایک بار پھر مذہب اور فرقہ پرستی کے جنون کی نذر کیا جا رہا ہے؟ مندر، مسجد، دہشت گردی، دھرم سنسد اور تبدیلئِ مذہب کے نام پر جس انداز کی بیان بازی برسر اقتدار جماعت اور اس کی حلیف تنظیموں سے جڑے لوگ کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف آئین ودستور کے خلاف ہے بلکہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اب فرقہ پرست ذہنیتیں ملک کو کس سمت میں لے جانا چاہتی ہیں۔

    کیا ملک کی سب سے بڑی ریاست کو ایک بار پھر مذہب اور فرقہ پرستی کے جنون کی نذر کیا جا رہا ہے؟ مندر، مسجد، دہشت گردی، دھرم سنسد اور تبدیلئِ مذہب کے نام پر جس انداز کی بیان بازی برسر اقتدار جماعت اور اس کی حلیف تنظیموں سے جڑے لوگ کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف آئین ودستور کے خلاف ہے بلکہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اب فرقہ پرست ذہنیتیں ملک کو کس سمت میں لے جانا چاہتی ہیں۔

    • Share this:
    لکھنئو: کیا ملک کی سب سے بڑی ریاست کو ایک بار پھر مذہب اور فرقہ پرستی کے جنون کی نذر کیا جا رہا ہے؟ مندر، مسجد، دہشت گردی، دھرم سنسد اور تبدیلئِ مذہب کے نام پر جس انداز کی بیان بازی برسر اقتدار جماعت  اور اس کی حلیف تنظیموں سے جڑے لوگ کر رہے ہیں۔ وہ نہ صرف آئین ودستور کے خلاف ہے بلکہ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ اب فرقہ  پرست ذہنیتیں ملک کو کس سمت میں لے جانا چاہتی ہیں۔

    دھرم سنسد کے نام پر جس انداز سے مسلم طبقے کے قتل عام کی بات کی جارہی ہے، اس نے لوگوں کی ذہنی گندگی اور مسلمانوں کے خلاف نفرت و دشمنی کو پوری طرح واضح کردیا ہے۔ اس انداز کے بیانات پر اظہار کرتے ہوئے مولانا توقیر رضا بریلوی نے کہا ہے کہ ہم فرقہ پرستی اور نفرت کی آگ میں جلنے والے لوگوں کے ہاتھوں سے قتل ہونے کو تیار ہیں، لیکن ملک کے اتحاد کو کسی قیمت پر نہیں بکھرنے دیں گے۔

    اس سلسلے میں مولانا توقیر رضا خاں نے آئندہ 7 جنوری کو بریلی کے اسلامیہ کالج کے وسیع میدان میں بیس ہزار مسلمانوں کے جمع کرنے کی بات کہتے ہوئے فرقہ پرست لوگوں سے کہا ہے کہ وہ آئیں اور ہمیں قتل کریں، ہم خاموشی سے قتل ہونے کو تیار ہیں، لیکن ملک کی یکجہتی کو نہیں مٹنے دیں گے۔ مسلم لیگ کے ریاستی صدر ڈاکٹر متین کہتے ہیں کہ بی جے پی ایک بار پھر اپنی انہی بنیادوں قدروں اور موضوعات کی طرف لوٹ رہی ہے، جن کے ذریعہ وہ پہلے اقتدار تک پہنچی تھی، اسی لئے یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت والی موجودہ ریاستی حکومت نے ہندو مسلم مذہبی کارڈ کھیلنا شروع کر دیا ہے، کبھی تبدیلئ مذہب کے نام پر تو کبھی دوسرے موضوعات کو بنیاد بنا کر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف گھناونا کھیل کھیلا جارہا ہے۔

    بی جے پی کی انتخابی تشہیر کے دوران بی جے پی کے سرکردہ لیڈران۔
    بی جے پی کی انتخابی تشہیر کے دوران بی جے پی کے سرکردہ لیڈران۔


    ڈاکٹر متین کہاں تک صحیح یا غلط ہیں اس کا تجزیہ سنجیدہ لوگ اور سیاسی و سماجی مبصرین  اترپردیش کے موجودہ حالات کی روشنی میں بہ آسانی کرسکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں میگسیسے ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن سندیپ پانڈے نے بھی غریب لوگوں کی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے یہی کہا تھا کہ یوگی جی کے اشارے پر اتر پردیش کا ماحول خراب کرنے کی کوشش میں اتر پردیش کے کمزور مسلمانوں کو ٹار گیٹ کیا جا رہا ہے یہ بالکل مناسب نہیں ہے، جو لوگ دو وقت کی روٹی نہیں کما پا رہے ہیں، ان گھروں میں اصلحے کہاں سے نکل آئیں گے۔ اہم اور خاص بات یہ بھی ہے کہ اب جس انداز کی کارروائیاں کی جارہی ہیں اس سے سماج کے کمزور طبقے کے لوگ تو خوف زدہ ہیں ہی بلکہ امن پسند لوگ بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔

    معروف صحافی عامر صابری کہتے ہیں کہ اب اتر پردیش کے مسلمان اتنے خوف زدہ ہیں کہ ایک دوسرے کی تباہی وبربادی کا تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ ان میں آواز اٹھانے اور احتجاج ومظاہرے کرنے کا حوصلہ بھی نہیں جو آواز اٹھاتا ہے یا تو وہ پولس کے جبر وتشدد کا شکار ہوتا ہے یا اسے سلاخوں کے پیچھے اذیت جھیلنی پڑتی ہے۔ معروف دانشور اور سماجی کارکن سید بلال نورانی اپنے تجزیے اور مشاہدے کی روشنی میں یہ کہتے ہیں کہ لکھنئو کے کئی علماء  اور نام نہاد دانشوروں کی طرح اتر پردیش کے ہر شہر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بر سر اقتدار وزراء کے درباروں میں جاکر ذاتی مفاد تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن حکومت کی ظلم و زیادتیوں کے خلاف اپنا منہ نہیں کھولتے کیونکہ انہیں خطرہ لاحق ہے کہ اگر ان مولویوں نے اپنی زبان کھولی تو ان کے کالے کارناموں کی فائلیں بھی کھُل جائیں گی اور کروڑوں اربوں کی جمع کی گئی مالیت کا حساب بھی دینا پڑ سکتا ہے اس لئے یہ لوگ صرف سرکاری درباروں میں تو جی حضوری کرتے ہیں کمزوروں پر ہونے والے مظالم کے خلاف زبان نہیں کھولتے جب اپنی قوم میں ہی ایسے مصلحت پسند اور بے ایمان لوگ قائد بنے بیٹھے ہوں تو دوسرے لوگوں سے کیسے شکوہ کیا جا سکتا ہے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر اب بھی اقلیتی طبقے کے لوگ کوئی مناسب قدم نہیں اٹھائیں گے اتحاد کا مظاہرہ نہیں کریں گے ظلم و زیادتی کے خلاف سامنے نہیں آئیں گے تو آنے والے وقت میں وہ لوگ بھی محفوظ نہیں رہیں گے، جو اس وقت حکومت کی چاپلوسی اور غلامی کے طوق گلوں میں دال کر خود کو محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر متین کہتے ہیں کہ الیکشن کے پیش نظر مرکزی وزیر داخلہ سے لے کر اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ تک سبھی اہم اور ذمہ دار لوگ جس انداز کی بیان بازی کر رہے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس بار بھی الیکشن عوامی مسائل و موضوعات کی بنیاد پر نہیں بلکہ جذباتی موضوعات پر ہی لڑا جائے گا۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: