உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک کے 173 Thermal Plants میں کوئلے کی قلت، کوئلے کی کمی سے بجلی کے سنگین بحران کا خطرہ

    Youtube Video

    ملک کے تقریبًا ایک سو تیہترتھرمل پلانٹس میں کوئلے کی قلت ہے۔ مہاراشٹر،اتر پردیش،ہریانہ، پنجاب، آندھرپردیش اور جھارکھنڈ سمیت دیگر ریاستوں میں پاورپلانٹس کو کوئلے کی معقول سپلائی نہیں ہوپارہی ہے ۔ درجہ حرارت میں ہورہے اضافے سے عوام پہلے پریشان ہیں ۔

    • Share this:
      power crisis: پاور پلانٹس میں کوئلے کی کمی کے سبب ملک کی کئی ریاستوں کو بجلی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ملک کے تقریبًا ایک سو تیہترتھرمل پلانٹس میں کوئلے کی قلت ہے۔ مہاراشٹر،اتر پردیش،ہریانہ، پنجاب، آندھرپردیش اور جھارکھنڈ سمیت دیگر ریاستوں میں پاورپلانٹس کو کوئلے کی معقول سپلائی نہیں ہوپارہی ہے ۔ درجہ حرارت میں ہورہے اضافے سے عوام پہلے پریشان ہیں ۔ قومی راجدھانی دہلی سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں پارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس پر لوڈ شیڈنگ نے رہی سہی کسرپوری کردی ہے۔ پچھلے چھ برسوں میں بجلی کا یہ سب سنگین بحران ہے جس نے چلچلاتی گرمی میں زندگی کو اس بری طرح متاثر کیا ہے کہ لوگ نہ تو اپنے گھروں میں رہ پارہے ہیں اور نہ ہی باہر نکلنے کی ہمت کر رہے ہیں۔

      پاور پلانٹس Power plants میں کوئلے کی سپلائی کو یقینی بنانے کے لیے مسافرٹرینوں کو منسوخ کیا گیا۔ ناردرن ریلوے نے آٹھ مئی تک چالیس دوروں جبکہ ساؤتھ ایسٹ سینٹرل ریلوے نے پچیس مئی تک جملہ سات سو تیرہ دوروں کو منسوخ کردیا ہے۔ مسافر ٹرینوں کی منسوخی کااثر کوئلہ پیدا کرنیوالی ریاستوں کے مسافروں پر پڑے گا۔جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اوراڈیسہ کے مسافروں کودقتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

      یہ بھی پڑھئے:  پڑوسی ملک Pakistan میں بھی بجلی کا بحران، 18-18 گھنٹے بجلی غل، لوگوں کے چھوٹ رہے پسینے

      یہ بھی پڑھیں: مسجد نبوی میںShahbaz Sharifکودیکھتےہی 'چور۔چور'کے لگنےلگے نعرے، سعودی حکومت خفا، 100گرفتار

      دہلی میں ایک طرف گرمی پریشان کررہی ہے تو دوسری طرف بجلی بحران نے لوگوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔ بڑھتی گرمی کے درمیان دہلی میں بجلی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور کوئلے کی قلت کی وجہ سے بجلی کا بحران بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ دہلی حکومت نے پہلے ہی میٹرو ٹرینوں اور اسپتالوں سمیت اہم اداروں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال سے لے کر وزیر ستیندر جین تک مسلسل مرکز سے بجلی بحران پر ٹھوس قدم اٹھانے کی درخواست کر رہے ہیں۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور ٹھوس قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی وزیر ستیندر جین نے کہا کہ بجلی کے حوالے سے کوئی بیک اپ نہیں ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: