ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

ملک کادستورتلک لگانے والے،پگڑی پہننے والےسکھ اورداڑھی رکھنےوالےمسلم کو مساوی درجہ دیتاہے: اکبرالدین اویسی

اکبر الدین اویسی نے کہاکہ کسی بھی عہدیدار کوکسی کو بھی مشکوک قراردینے کی بنیاد فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔لرزہ خیز جرائم جیسے قتل میں ثبوت کا بوجھ استغاثہ کو فراہم کرنا ہوتا ہے تاہم شہریت کے معاملہ میں کسی بھی فرد کو مشکوک قراردیاجاسکتا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 16, 2020 03:12 PM IST
  • Share this:
ملک کادستورتلک لگانے والے،پگڑی پہننے والےسکھ اورداڑھی رکھنےوالےمسلم کو مساوی درجہ دیتاہے: اکبرالدین اویسی
اکبر الدین اویسی نے کہاکہ کسی بھی عہدیدار کوکسی کو بھی مشکوک قراردینے کی بنیاد فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔لرزہ خیز جرائم جیسے قتل میں ثبوت کا بوجھ استغاثہ کو فراہم کرنا ہوتا ہے تاہم شہریت کے معاملہ میں کسی بھی فرد کو مشکوک قراردیاجاسکتا ہے۔

تلنگانہ اسمبلی میں مجلس کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی نے این پی آر، این آر سی اور سی اے اے کے خلاف پیش کردہ قرار داد کے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام قوانین ہندوستانی شہریوں کی شہریت ختم کرنے اور بیرونی شہریوں کو ہندوستانی شہریت فراہم کرنے سے متعلق ہیں۔  اکبر الدین اویسی نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے یہ تمام ہندو، سکھ، خاص طور پر دلتوں اور گریجن کا مسئلہ ہے جو اپنی پیدائش کی سند نہیں رکھتے۔انہوں نے کہاکہ سی اے اے نہ صرف ملک کو تقسیم کرتا ہے بلکہ یہ ملک کو کمزور بھی کرتا ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم ایسے قوانین بنائیں جو لوگوں کو متحد کریں تاہم سی اے اے جیسے قوانین سماج میں دراڑ پیداکررہے ہیں۔ہمارے ملک کی شبیہ،کثرت میں وحدت کی تاریخ ایسے قوانین سے داغدار بن رہی ہے۔سی اے اے، این پی آر اوراین آر سی کے خلاف 8ریاستوں نے قرارداد منظور کی ہے تاہم کسی بھی ریاست نے اس طرح تفصیلی قراردادجس کو آج تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں منظوری دی جارہی ہے کی طرح پیش نہیں کی ہے۔


اکبر الدین اویسی کاکہنا ہے کہ ملک کا دستور تلک لگانے والے، پگڑی پہننے والے سکھ اور داڑھی رکھنے والے مسلم کو مساوی درجہ دیتا ہے۔وزیراعلی کے چندرشیکھرراو نے دستوری اصولوں کااحترام کیا ہے۔انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ قانون جامعہ اور اے ایم یو کے طلبہ پر حملوں کے لئے ذمہ دار نہیں ہے؟یوپی اور دہلی میں کئی جانوں کے اتلاف کے لئے کیا سی اے اے ذمہ دار نہیں ہے؟انہوں نے کہاکہ اس قانون کی وجہ سے ہی عوام احتجاج کررہے ہیں۔اگر یہ قانون نہیں ہوتا تو نہ احتجاج ہوتا اور نہ ہی معصوم لوگوں کا خون بہتا۔یہ ملک تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ ساتھ اُن لوگوں کا بھی ہے جو مذہب کو نہیں مانتے۔آج سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کی پورے ملک میں مخالفت کی جارہی ہے۔ہم اس طرح کی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں کہ سی اے اے دستور ہند کا مخالف ہوگیا ہے،این پی آر کے قواعد اہم قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور شمارکنندوں کا مینول،قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے۔این پی آر کے قوانین کی تیاری سی اے اے 2003کے قانون کی تیاری سے ایک سال پہلے کی گئی تھی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ بچہ کی پیدائش والدین سے پہلے ہوگئی ہو۔این پی آر/این آر سی کے 2003کے قوانین اصل ایکٹ (شہریت ایکٹ 1955)کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔این پی آر غیر قانونی اور غیردستوری ہے کیونکہ اس کو قانونی حمایت حاصل نہیں ہے۔


این پی آر کے قواعد سرکاری عہدیداروں کو کسی کو بھی مشکوک کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔شہریت ثابت کرنے کے ثبوت کا بوجھ صرف شہریوں پر ہی لادا گیا ہے۔  اکبر الدین اویسی نے کہاکہ کسی بھی عہدیدار کوکسی کو بھی مشکوک قراردینے کی بنیاد فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔لرزہ خیز جرائم جیسے قتل میں ثبوت کا بوجھ استغاثہ کو فراہم کرنا ہوتا ہے تاہم شہریت کے معاملہ میں کسی بھی فرد کو مشکوک قراردیاجاسکتا ہے۔ کسی بھی شخص کو مشکوک قرار دینے پر اس کو بیرونی ملک کا نہیں سمجھا جائے گا۔صرف ایسا شخص جس کو مبینہ بیرونی قراردیا گیا ہو کو ہی فارینرس ٹریبونل جانے کی اجازت ہوگی۔تو پھر ایسے مشکوک افراد کا کیاہوگا؟این پی آر کے خلاف بڑے پیمانہ پر خدشات،احتجاج کئے گئے ہیں۔ہم نے تشویش ظاہر کی ہے کہ این پی آر کے خلاف خدشات،مردم شماری پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔اکبراویسی نے کہاکہ وزیراعلی کے چندرشیکھرراو نے جی او جاری کرتے ہوئے این پی آر پر روک لگائی ہے اور مردم شماری کے لئے علحدہ تواریخ کو نوٹیفائی کیاہے۔این پی آر کے تعلق سے خدشات بشمول اس کابائیکاٹ کرنے اور شمار کنندوں کی سلامتی کی اپیلیں کی گئی ہیں۔ مردم شماری اور این پی آر کو ایک دوسرے سے علحدہ کرنے کی بھی اپیلیں کی گئی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایاجاسکے کہ مردم شماری عمل کو نقصان نہ ہونے پائے۔50فیصد افراد کے پاس ذاتی مکانات نہیں ہیں۔داخلی تارکین وطن کاکیاہوگا؟ایسے افراد کا کیا ہوگا جن کا اندراج مختلف پتوں پر کیاگیا ہے اور وہ رہتے دوسرے مقام پر ہیں۔کیا یہ قانون مخالف غریب نہیں ہے؟

First published: Mar 16, 2020 03:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading