ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اٹارنی جنرل نے کہا : سابق ججوں نے بھی اٹھائے سپریم کورٹ پر سوال ، پرشانت بھوشن کو وارننگ دے کر چھوڑ دیں

پرشانت بھوشن کے توہین عدالت معاملہ میں اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ بھوشن کو وارننگ دے کر چھوڑ دیا جانا چاہئے ۔ انہیں سزا نہ دی جائے ۔

  • Share this:
اٹارنی جنرل نے کہا : سابق ججوں نے بھی اٹھائے سپریم کورٹ پر سوال ، پرشانت بھوشن کو وارننگ دے کر چھوڑ دیں
اٹارنی جنرل نے کہا : سابق ججوں نے بھی اٹھائے سپریم کورٹ پر سوال ، پرشانت بھوشن کو وارننگ دے کر چھوڑ دیں

پرشانت بھوشن کے توہین عدالت معاملہ میں اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ بھوشن کو وارننگ دے کر چھوڑ دیا جانا چاہئے ۔ انہیں سزا نہ دی جائے ۔ اس کے جواب میں سپریم کورٹ نے کہا کہ پرشانت بھوشن نے اپنے تبصرہ کے جواب میں جو بیان دیا ہے وہ زیادہ توہین آمیز ہے ۔ بتاتے چلیں کہ گزشتہ سماعت میں پرشانت بھوشن نے 2009 میں دئے اپنے بیان پر افسوس کا اظہار کیا تھا ، لیکن بلا شرط معافی نہیں مانگی تھی ۔ انہوں نے کہا تھا کہ تب میرے کہنے کا مطلب بدعنوان کہنا نہیں تھا بلکہ صحیح طریقہ سے فریضہ کی عدم ادائیگی کی بات تھی ۔


سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ جوڈیشیلی میں کرپشن کو لے کر کئی سابق جج بول چکے ہیں ۔ لہذا بھوشن کو ایک وارننگ دے کر چھوڑ دیا جانا چاہئے ۔ ایسے بیانات صرف عدالت کو بتانے کیلئے دئے جاتے ہیں کہ آپ غیر واضح نظر آرہے ہیں اور آپ میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ انہیں صرف ایسے بیان دوبارہ نہیں دینے کی وارننگ دے کر چھوڑ دینا چاہئے ۔


سپریم کورٹ کے تئیں مبینہ طور پر توہین عدالت کے دو ٹوئٹ کرنے کے معاملے میں سینئر وکیل پرشانت بھوشن کو قصور وارقرار دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے تئیں مبینہ طور پر توہین عدالت کے دو ٹوئٹ کرنے کے معاملے میں سینئر وکیل پرشانت بھوشن کو قصور وارقرار دیا گیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ توہین عدالت کیس میں وکیل پرشانت بھوشن (Prashant Bhushan) نے گزشتہ روز سپریم کورٹ (Supreme Court) میں ایک نیا حلف نامہ داخل کیا تھا ۔ انہوں نے معاملہ میں معافی مانگنے سے انکار کر دیا ۔ انہوں نے صفائی میں کہا کہ ان کی طرف سے کیا گیا ٹویٹ عدالت اور آئین کے تحفظ کے لئے تھا ۔

پرشانت بھوشن نے کہا کہ وہ ان کا نظریہ تھا اور وہ اس پر قائم ہیں۔ پرشانت بھوشن نے سہریم کورٹ سے کہا کہ اپنے خیالات ظاہرکرنے پر شرط یا بغیر کسی شرط کے معافی مانگنا ٹھیک نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دکھاوے کی معافی مانگنا میرے ضمیر کی اور ایک ادارے کی توہین کے برابر ہو گا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 25, 2020 01:58 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading