உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس میں کیوں شامل نہیں ہوئے پرشانت کشور؟ قریبی لوگوں نےکہا- ان دو وجوہات کے سبب PK نے ٹھکرایا آفر

    کانگریس میں کیوں شامل نہیں ہوئے پرشانت کشور؟

    کانگریس میں کیوں شامل نہیں ہوئے پرشانت کشور؟

    Prashant Kishor: انتخابی پالیسی ساز پرشانت کشور (Prashant Kishor) کانگریس میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ انہیں ایسا لگا کہ پارٹی ان کے مشوروں کو لے کر زیادہ سنجیدہ نہیں تھی۔ کانگریس کا آفر ٹھکرانے کے بعد پرشانت کشور سے جڑے ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: انتخابی پالیسی ساز پرشانت کشور (Prashant Kishor) کانگریس میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ انہیں ایسا لگا کہ پارٹی ان کے مشوروں کو لے کر زیادہ سنجیدہ نہیں تھی۔ کانگریس کا آفر ٹھکرانے کے بعد پرشانت کشور سے جڑے ذرائع نے اس بات کا انکشاف کیا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی میں سدھار سے متعلق اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کرنے کے بجائے راہل گاندھی بیرون ملک کے سفر پر چلے گئے، جو کہ پرشانت کشور کو صحیح فیصلہ نہیں لگا۔

      وہیں پرشانت کشور کے فیصلے کے بعد کانگریس نے آج کہا کہ ’جو کوئی بھی ہم سے جڑنا چاہتا ہے، اس کے لئے ہمارے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں‘۔ پارٹی ترجمان پون کھیڑا نے کہا، ہم پارٹی میں تبدیلی کرنے کے عمل میں ہیں اور ہم یقینی طور پر کارکنان اور لیڈران کی امیدوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری تبدیلی کریں گے۔

      دوسری جانب پرشانت کشور کے قریبی ذرائع نے کہا کہ انہیں نہیں لگا کہ کانگریس قیادت نے ان کے مشوروں پر مناسب غور کیا، بھلے ہی وہ ان کے مشورے کی حمایت کرتے ہوئے نظر آئے۔ دراصل پرشانت کشور کو سب سے زیادہ حیرانی راہل گاندھی کے بیرون ملک کے سفر کو لے کر ہوئی۔ کیونکہ جب کانگریس سدھاروں کو لے کر ایک اہم فیصلے کی دہلیز پر تھی، لیکن وہ اچانک بیرون ملک کے ٹور پر چلے گئے۔

      پرشانت کشور کے قریبی ذرائع نے کہا کہ کانگریس میں بڑے فیصلے لینے والے لیڈروں میں سے ایک راہل گاندھی تعاون دینے کے بجائے الگ دکھائی دیئے۔ انہوں نے اپنی مقررہ بیرون ملک کے سفر پر جانے کا فیصلہ کیا، اگر وہ چاہتے تو اسے ملتوی کرسکتے تھے۔ بھلے ہی کانگریس لیڈر پرشانت کشور کے مشوروں سے متفق نظر آئے، لیکن پھر انہیں خدشہ تھا۔ ان ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانگریس میں پرشانت کشور کے مشوروں کے سبب اگر پارٹی میں ان کا قد بڑھا تو وہ لوگ درکنار کر دیئے جائیں گے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: