உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Prayagraj Violence:پریاگ راج تشدد معاملے میں اب تک 40 گرفتار، 36نامزد اور 1000نامعلوم لوگوں پر FIR

    پریاگ راج تشدد معاملے میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری۔

    پریاگ راج تشدد معاملے میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری۔

    Prayagraj Violence: اے ڈی جی پریم پرکاش کے مطابق پریاگ راج میں ہنگامہ آرائی اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 40 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

    • Share this:
      پریاگ راج:پریاگ راج میں نماز جمعہ کے بعد ہوئے ہنگامے اور تشدد کے بعد پولیس اس پورے معاملے کو منصوبہ بند سازش کا حصہ مان کر چل رہی ہے۔ پریاگ راج زون کے اے ڈی جی پریم پرکاش کے مطابق کچھ تنظیموں نے پوری تیاری کے ساتھ اس واقعہ کو انجام دیا۔ پریاگ راج میں نماز جمعہ کے بعد شرپسند اس طرح کی واردات کر سکتے ہیں، اس حقیقت کے ان پٹ سیکورٹی ایجنسیوں کو پہلے بھی ملے تھے۔ اے ڈی جی پریم پرکاش کے مطابق اس ان پٹ کی بنیاد پر نماز جمعہ کے لیے ٹھوس تیاری کی گئی تھی۔

      اے ڈی جی کے مطابق پریاگ راج میں سنگ باری، تشدد اور ہنگامہ آرائی کے پیچھے بائیں بازو کی تنظیمیں، پی ایف آئی، سی اے اے اور این آر سی تحریک کے حامی لوگوں کا ہاتھ ہے۔ اے ڈی جی کے مطابق تقریباً 3 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد صورتحال پر مکمل قابو پالیا گیا۔ ان کے مطابق، گلیوں سے نکل کر پولیس اہلکاروں پر گوریلا وار کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق اس ماڈیول میں بچوں کو آگے کر کے سنگ باری کی جارہی تھی، جس کی وجہ سے پولیس نے انتہائی تحمل سے کام لیا اور صرف بڑے لوگوں پر ہی لاٹھیاں برساتے ہوئے بھگانےکا کام کیا گیا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Prophet Mohammad: پیغمبراسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کامعاملہ، ملک کےمختلف حصوں میں احتجاج

      یہ بھی پڑھیں:
      مسلم پرسنل لا بورڈ کی وضاحت کسی معروف تنظیم نے بھارت بند کا فیصلہ نہیں کیا

      اے ڈی جی پریم پرکاش کے مطابق پریاگ راج میں ہنگامہ آرائی اور تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 40 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ اے ڈی جی کے مطابق، سماجی کارکن سارہ احمد، اے آئی ایم آئی ایم کے ضلع صدر شاہ عالم، بائیں بازو کے رہنما ڈاکٹر آشیش متل، اٹالہ بڑی مسجد کے پیش امام علی احمد سمیت کلئی لوگوں کو اس منصوبہ بند تشدد اور ہنگامہ آرائی کے الزام کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: