ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اب حاملہ خواتین بھی کووڈ۔19 ویکسین کی اہل، کووین ایپ یا واک ان میں کرواسکتی ہے اپنارجسٹریشن

یہ فیصلہ حفاظتی ٹیکوں سے متعلق نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (National Technical Advisory Group on Immunisation) کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو اس بات کا اطلاق کیا گیا ہے کہ وہ جاری قومی کووڈ-19 ویکسی نیشن پروگرام کے تحت اس پر عمل درآمد کرے۔

  • Share this:
اب حاملہ خواتین بھی کووڈ۔19 ویکسین کی اہل، کووین ایپ یا واک ان میں کرواسکتی ہے اپنارجسٹریشن
علامتی تصویر

مرکزی وزارت صحت (Union Health Ministry) نے جمعہ کو اعلان کیا ہے کہ حاملہ خواتین اب ملک میں کووڈ۔19 ویکسین کی اہل ہوں گی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حاملہ خواتین اب کورونا وائرس کے انفیکشن کے ٹیکہ لگانے کے لئے قریب ترین مرکز میں CoWIN ایپ کے ذریعہ  یا واک ان میں رجسٹریشن کرسکتی ہیں۔یہ فیصلہ حفاظتی ٹیکوں سے متعلق نیشنل ٹیکنیکل ایڈوائزری گروپ (National Technical Advisory Group on Immunisation) کی سفارشات کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو اس بات کا اطلاق کیاگیاہے کہ وہ جاری قومی کووڈ-19 ویکسی نیشن پروگرام کے تحت اس پر عمل درآمد کریں۔


وزارت صحت نے بتایا کہ ’’حاملہ خواتین اپنے کو ویکسین کے لئے اب کووین میں رجسٹر کراسکتی ہیں یا قریبی کووڈ ویکسی نیشن سینٹر (سی وی سی) میں داخل ہوسکتی ہیں‘‘۔




  • اندیشے:


اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ حمل کے دوران کووڈ۔19 انفیکشن کے نتیجے میں حاملہ خواتین کی صحت تیزی سے بگڑ سکتی ہے اور انھیں شدید بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور اس سے جنین بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ ڈومین کے علم کے ماہرین نے اس بات کی شواہد کی بنیاد پر جانچ کی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حاملہ خواتین کو متاثر ہونے کی صورت میں غیر حاملہ خواتین کے مقابلے میں کووڈ - 19 سے شدید بیماری کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ کووڈ۔19 انفیکشن والی حاملہ خواتین کو قبل از وقت پیدائش اور حمل کے دیگر منفی نتائج کے خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں نوزائیدہ کو زیادہ خطرہ لاحق رہتا ہے۔

این ٹی جی آئی کے چیف این کے اروڑا نے کہا ہے کہ کووڈ 19 ویکسین کے ذریعے حاملہ عورت اور بچے دونوں کو بچایا جاسکتا ہے۔ حمل کا پتہ لگانے کے بعد سے حاملہ خواتین کسی بھی وقت ویکسین لے سکتی ہیں۔ ایسا لگتا نہیں ہے کہ ماں کے پیٹ میں بڑے ہونے والے بچے پر اس ویکسین کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اگر ماں استثنیٰ پیدا کرتی ہے تو اسے جنین کے حوالے کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ 10 لاکھ میں سے ایک عورت میں خون بہہ رہا ہے یا اس کے جمنے کی شکایت سامنے آئی ہے‘‘۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر


  • علامات:


اس دوران جو علامات ظاہر ہوتی ہیں وہ شدید سر درد ، سر درد کے ساتھ قئے ، پیٹ میں درد یا سانس لینے میں بھی دشواری ہوتی ہیں۔ ایسے معاملات میں کنبہ کے افراد حاملہ عورت کو فوری طور پر اسپتال لے جائیں جہاں ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ اسپتال میں بیماری کی وجہ کی تفتیش کی جاسکتی ہے اور اسے مطلوبہ علاج مہیا کیا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل نیتی آیوگ کے ممبر ڈاکٹر وی کے پال نے کہا تھا کہ ویکسینیں کووی شیلڈ (Covishield)، کوویکسن (Covaxin)، اسپوتنک وی (Sputnik V) اور موڈرنہ (Moderna ) جنہیں مرکز نے منظور کیا تھا ، دودھ پلانے والی ماؤں اور حاملہ خواتین دونوں کے لئے محفوظ ہیں۔



آئی سی ایم آر کے حالیہ مطالعے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ کووڈ ۔19 کی دوسری لہر میں حاملہ اور حمل کے فوری بعد والی عورتیں اموات اور علامتی معاملات دونوں سے شدید متاثر ہوئی تھیں، جو پہلی لہر سے کافی زیادہ تھیں۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jul 03, 2021 08:44 AM IST