ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کولکاتہ: سی اے اے اوراین آرسی کے خلاف پریسڈینسی یونیورسٹی طلباکا انوکھا احتجاج

پریسڈینسی یونیورسٹی طلباء نے یونیورسٹی کے سب سے بڑے زینے کو ’’آزادی‘‘ کا لفظ پینٹ کیا ہے ۔

  • Share this:
کولکاتہ: سی اے اے  اوراین آرسی کے خلاف پریسڈینسی یونیورسٹی  طلباکا انوکھا احتجاج
پریسڈینسی یونیورسٹی طلباء نے یونیورسٹی کے سب سے بڑے زینے کو ’’آزادی‘‘ کا لفظ پینٹ کیا ہے ۔

ملک بھر میں سی اے اے و آین ارسی (CAA & NRC)کےخلاف احتجاج جاری ہے کولکاتہ میں بھی سماجی تنظیموں کی جانب سے مسلسل احتجاج کیاجارہاہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی سی اے اے و این آر سی کے خلاف احتجاج کررہی ہیں ۔وہیں تعلیمی اداروں میں بھی طلبإ و اساتذہ کا احتجاج جاری ہے۔ تاہم پریسڈینسی یونیورسٹی میں طلبإ نے اپنے احتجاج سے تاریخی واقعات کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے ۔


اب یہ زینہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پریسڈینسی یونیورسٹی کے طلباء کی تحریک کا مرکز بن گیا ہے
اب یہ زینہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پریسڈینسی یونیورسٹی کے طلباء کی تحریک کا مرکز بن گیا ہے


شہر کے پریسڈینسی یونیورسٹی میں طلبإ نے تاریخی زینے پر 20 فٹ طویل آزادی کا نعرہ پینٹ کیا ہے ۔پریسڈینسی یونیورسٹی طلباء نے یونیورسٹی کے سب سے بڑے زینے کو ’’آزادی‘‘ کا لفظ پینٹ کیا ہے ۔یہ وہی زینہ ہے جہاں 104سال پہلے نیتاجی سبھاش چندر بوس اور پروفیسر اوٹین کے ساتھ تنازع ہوا تھا ۔


پریسڈینسی یونیورسٹی طلباء نے یونیورسٹی کے سب سے بڑے زینے کو ’’آزادی‘‘ کا لفظ پینٹ کیا ہے
پریسڈینسی یونیورسٹی طلباء نے یونیورسٹی کے سب سے بڑے زینے کو ’’آزادی‘‘ کا لفظ پینٹ کیا ہے


اب یہ زینہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پریسڈینسی یونیورسٹی کے طلباء کی تحریک کا مرکز بن گیا ہے ۔طلبإ نے 13گھنٹے کی مشقت سے 20فٹ طویل یہ سلوگن پینٹ کیا ہے ۔یونیورسیٹی کے طالب علم دیب نیل نے کہا کہ یہ صرف ملک کی آزادی کی علامت نہیں ہے۔ بلکہ ایک آزاد ملک میں جینے کی آزادی بھی اس میں شامل ہے سی اے اے آین ار سی و این پی ار کے ساتھ تعلیمی اداروں میں اضافی فیس و طلبإ کو پیش مسائل کے خلاف بھی طلبإ احتجاج کررہے ہیں ۔

یہ وہی زینہ ہے جہاں 104سال پہلے نیتاجی سبھاش چندر بوس اور پروفیسر اوٹین کے ساتھ تنازع ہوا تھا ۔
یہ وہی زینہ ہے جہاں 104سال پہلے نیتاجی سبھاش چندر بوس اور پروفیسر اوٹین کے ساتھ تنازع ہوا تھا ۔


دیب نیل نے کہا کے ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ہم سب کو اپنی مرضی کے مطابق جینے کی آزادی نصیب ہو۔ ایک اور طالبہ تریشا نے سی اے اے و این ار سی کو ملک کے آئین کے خلاف بتاتے ہوئے کہا کے ہم اسکے خلاف لڑیں گے اور یہ لڑائی لمبی چلے گی تریشا نے اس بات پر زور دیا کے ملک میں مذہبی آزادی کے ساتھ مذہبی بنیادوں پر تفریق کا خاتمہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : شہریت ترمیمی قانون کے خلاف یوروپی یونین پارلیمنٹ میں آج پیش کی جائے گی قرارداد

یہ بھی پڑھیں : سی اے اے احتجاج: مرشد آباد میں بھڑکے تشدد میں 2 لوگوں کی موت، دیگر 3 زخمی
First published: Jan 29, 2020 05:58 PM IST