உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     صدر جمہوریہ انتخابات 2022: شرد پوار کو منانے کی کوششیں تیز، گوپال کرشن گاندھی کا نام بھی سرخیوں میں، ’مشترکہ‘ اپوزیشن کی میٹنگ آج

    Rashtrapati Chunav: صدر جمہوریہ الیکشن میں بی جے پی کے خلاف مضبوط مشترکہ امیدوار اتارنے کی اپوزیشن کی امیدیں شرد پوار پر مرکوز تھیں۔ ان کے انکار کے باوجود انہیں منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس درمیان، اپوزیشن نے اب دوسرے ناموں پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ ممکنہ متبادل کے طور پر مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

    Rashtrapati Chunav: صدر جمہوریہ الیکشن میں بی جے پی کے خلاف مضبوط مشترکہ امیدوار اتارنے کی اپوزیشن کی امیدیں شرد پوار پر مرکوز تھیں۔ ان کے انکار کے باوجود انہیں منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس درمیان، اپوزیشن نے اب دوسرے ناموں پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ ممکنہ متبادل کے طور پر مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

    Rashtrapati Chunav: صدر جمہوریہ الیکشن میں بی جے پی کے خلاف مضبوط مشترکہ امیدوار اتارنے کی اپوزیشن کی امیدیں شرد پوار پر مرکوز تھیں۔ ان کے انکار کے باوجود انہیں منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس درمیان، اپوزیشن نے اب دوسرے ناموں پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ ممکنہ متبادل کے طور پر مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آئندہ صدر جمہوریہ انتخابات کے لئے اپوزیشن جماعتیں ایک ایسا چہرہ تلاش کرنے میں مصروف ہیں، جس پر سبھی اپوزیشن جماعتیں متحد ہوں۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) لیڈر شرد پوار اس کے لئے سب سے مناسب مانے جا رہے تھے، لیکن وہ مشترکہ اپوزیشن کا امیدوار بننے کے خواہاں نہیں ہیں، لیکن انہیں منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بعد لیفٹ لیڈران نے بھی شرد پوار سے ملاقات کی۔ ممکنہ امیدوار پر غوروخوض کے لئے آج بدھ کو ممتا بنرجی کی گزارش پر اپوزیشن کی میٹنگ ہوگی، جس میں تمام جماعتوں کے لیڈران شامل ہوں گے۔

      Rashtrapati Chunav: صدر جمہوریہ الیکشن میں بی جے پی کے خلاف مضبوط مشترکہ امیدوار اتارنے کی اپوزیشن کی امیدیں شرد پوار پر مرکوز تھیں۔ ان کے انکار کے باوجود انہیں منانے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس درمیان، اپوزیشن نے اب دوسرے ناموں پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ ممکنہ متبادل کے طور پر مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

       

      دوسری جانب، شرد پوار کے انکار کے بعد اپوزیشن اب دوسرے لیڈران کے ناموں پر بھی غور کر رہا ہے۔ کچھ لیڈران نے ممکنہ متبادل کے طور پر مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی سے بھی رابطہ کیا ہے۔

      اپوزیشن اس بار بی جے پی کے خلاف مضبوط مشترکہ امیدوار میدان میں اتارنے کی قواعد میں مصروف ہے۔ اب تک اس دوڑ میں شرد پوار کا نام سب سے آگے چل رہا تھا۔ حال ہی میں خبریں آئی تھیں کہ کئی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے ان کی امیدواری کی حمایت کی، لیکن خود شرد پوار یہ الیکشن لڑنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ این سی پی کے کابینی اراکین کے ساتھ میٹنگ میں شرد پوار نے مبینہ طور پر کہہ دیا تھا ’میں دوڑ میں نہیں ہوں، میں صدر جمہوریہ کے لئے اپوزیشن کا امیدوار نہیں بنوں گا‘۔ اس کے بع ٹی ایم سی لیڈر ممتا بنرجی نے منگل کو شرد پوار کے گھر جاکر ان سے ملاقات کی اور منانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد لیفٹ لیڈر سیتا رام یچوری اور ڈی راجہ نے بھی شرد پوار سے ملاقات کی۔

      میٹنگ کے بعد ڈی راجہ نے انڈین ایکسپریس سے کہا، ‘انہوں نے (شرد پوار) ہمیں بتایا کہ وہ الیکشن لڑنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ وہ بدھ کو میٹنگ میں کھل کر اپنی بات کہیں گے۔ ہمیں دیگر امیدواروں کے امکانات کا پتہ لگانا ہوگا‘۔ شرد پوار نے لیفٹ لیڈران سے کہا کہ وہ بدھ کے روز ہونے والی میٹنگ میں حصہ لیں گے کیونکہ ملک میں سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے سیکولر، جمہوری جماعتوں اور طاقتوں کا اتحاد اہم ہے۔

      ممتا بنرجی کی اپیل پر ہو رہی اس میٹنگ میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران شامل ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کے لیڈران ممتا بنرجی کی اس ‘یکطرفہ’ پہل کے حق میں نہیں تھے، لیکن متحدہ اپوزیشن کا پیغام دینے کے لئے وہ میٹنگ میں شرکت کریں گے۔ ایکسپریس نے ٹی ایم سی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کانگریس، سماجوادی پارٹی، آرجے ڈی، سی پی آئی، سی پی ایم، شیو سینا اور ڈی ایم کے کی طرف سے بدھ کی میٹنگ میں شامل ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ کانگریس سے ملیکا ارجن کھڑگے، جے رام رمیش اور رندیپ سرجے والا میٹںگ میں آسکتے ہیں۔ حالانکہ عام آدمی پارٹی نے اپنا رخ ابھی تک واضح کیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: