ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

صدر جمہوریہ نے منظور کیا ہرسمرت کورکا استعفیٰ، نریندر سنگھ تومر کو ملی اضافی ذمہ داری

صدر رام ناتھ کووند نے شرومنی اکالی دل (بادل) کی لیڈر ہرسمرت کور بادل (Harsimrat Kaur Badal کا مرکزی کابینہ(Modi Cabinet) سے استعفیٰ فوری طور پرقبول کرلیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 75 کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت رام ناتھ کووند نے مرکزی وزیر برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز ہرسمرت کور بادل کا استعفیٰ قبول کیا۔

  • Share this:
صدر جمہوریہ نے منظور کیا ہرسمرت کورکا استعفیٰ، نریندر سنگھ تومر کو ملی اضافی ذمہ داری
صدر جمہوریہ نے منظور کیا ہرسمرت کورکا استعفیٰ

نئی دہلی: صدر رام ناتھ کووند (Ram Nath Kovind) نے شرومنی اکالی دل (بادل) کی لیڈر ہرسمرت کور بادل (Harsimrat Kaur Badal کا مرکزی کابینہ سے استعفیٰ فوری طور پرقبول کرلیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 75 کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت رام ناتھ کووند نے مرکزی وزیر برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز ہرسمرت کور بادل کا استعفیٰ (Modi Cabinet) قبول کیا۔ قبل ازیں وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کا استعفیٰ منظور کرنے کی سفارش کی تھی۔ وزیراعظم نریندر مودی کے مشورے پر صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے وزیر برائے زراعت نریندر سنگھ تومر کو مرکزی وزارت فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریزکا چارج سونپا ہے۔ اب وہ وزارت زراعت کے ساتھ ساتھ وزارت برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز کے کام بھی دیکھیں گے۔


ہرسمرت کور بادل (Harsimrat Kaur Badal) نے کسان مخالف آرڈیننس کے خلاف اپنی رائے رکھتے ہوئے جمعرات کو مودی حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے اس کی اطلاع دی تھی کہ کسانوں کے ساتھ ان کی بیٹی اور بہن کے طور پر کھڑے ہونے کا فخر ہے۔ اس لئے انہوں نے یہ فیصلہ اس لئے لیا ہے۔ کیونکہ بی جے پی کی اتحادی شرومنی اکالی دل آرڈیننس کی مخالفت کر رہی ہے۔



ہرسمرت کور بادل (Harsimrat Kaur Badal) نے کسان مخالف آرڈیننس کے خلاف اپنی رائے رکھتے ہوئے جمعرات کو مودی حکومت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے اس کی اطلاع دی تھی کہ کسانوں کے ساتھ ان کی بیٹی اور بہن کے طور پر کھڑے ہونے کا فخر ہے۔ اس لئے انہوں نے یہ فیصلہ اس لئے لیا ہے۔ کیونکہ بی جے پی کی اتحادی شرومنی اکالی دل آرڈیننس کی مخالفت کر رہی ہے۔

کیا کہہ رہی ہے حکومت

مرکزی حکومت نے بتایا ہے کہ آرڈیننس کسانوں کو ان کی پیداوار کے لئے مناسب قیمت دلانا یقینی بنائے گا اور انہیں نجی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی بھی قابل رسائی ہوسکے گی۔ مرکز کے مطابق، مجوزہ قانون زرعی پیداوار کی راہ میں رکاوٹوں سے پاک تجارت کے قابل بنائے گا۔ ساتھ ہی کسانوں کو اپنی پسند کے سرمایہ کاروں کے ساتھ جڑنے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر کے مطابق، تقریباً 86 فیصد کسانوں کے پاس دو ہیکٹیئر سے کم کی زرعی زمین ہے اور وہ اکثر کم ازکم سپورٹ قیمت (ایم ایس پی) کا فائدہ نہیں اٹھا پاتے ہیں۔ انہوں نے ایوان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ایم ایس پی بنا رہے گا۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 18, 2020 01:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading