உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Presidential Election: اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں فاروق عبداللہ کے نام پر بھی ہوا غور

    Presidential Election: اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں فاروق عبداللہ کے نام پر بھی ہوا غور (File Photo)

    Presidential Election: اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں فاروق عبداللہ کے نام پر بھی ہوا غور (File Photo)

    Opposition discuss on farooq Abdullah: تاہم جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کے نام پر ابھی تک اتفاق رائے قائم نہیں ہوسکا ہے اور آئندہ چند دنوں میں تمام غیر بی جے پی جماعتوں سے مشاورت کے بعد صدارتی انتخاب کے لیے مشترکہ اپوزیشن امیدوار کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔

    • Share this:
      نئی دہلی : مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتا بنرجی کی طرف سے بلائی گئی اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ میں ایک بار پھر شرد پوار نے صدارتی امیدوار بننے سے انکار کر دیا ۔ اس کے بعد ممتا بنرجی نے فاروق عبداللہ کا نام تجویز کیا ہے۔ تاہم جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کے نام پر ابھی تک اتفاق رائے قائم نہیں ہوسکا ہے اور آئندہ چند دنوں میں تمام غیر بی جے پی جماعتوں سے مشاورت کے بعد صدارتی انتخاب کے لیے مشترکہ اپوزیشن امیدوار کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری جانب مہاتما گاندھی کے پوتے گوپال کرشن گاندھی کا نام بھی اپوزیشن کے ممکنہ امیدواروں میں لیا جا رہا ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ ختم، مشترکہ امیدوار اتارنے پر اتفاق


      سی پی آئی کے ونے وسوم نے کہا کہ میٹنگ میں یہ عام رائے تھی کہ اپوزیشن کی طرف سے صرف ایک ہی امیدوار ہونا چاہئے جو سب کے لئے قابل قبول ہو۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں صرف شرد پوار کا نام آیا۔ ریوولیوشنری سوشلسٹ پارٹی (آر ایس پی) کے این کے پریما چندرن نے کہا کہ بنرجی نے بعد میں سینئر لیڈر فاروق عبداللہ اور مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشن گاندھی کے نام ممکنہ اپوزیشن امیدواروں کے طور پر تجویز کئے۔ فاروق عبداللہ تین مرتبہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی مرتبہ مرکز میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ گپکار ڈکلیئریشن کی صدارت کر رہے ہیں ۔

      یہ بھی پڑھئے: سول ڈفینس اور ریلوے میں ہیں سب سے زیادہ Vacancy، گروپC میں ہوں گی 7.5لاکھ سے زیادہ بھرتیاں


      شردپوار ، پی سی چاکو، آر جے ڈی ممبر پارلیمنٹ منوج جھا، عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی، ایچ ڈی دیوگوڑا، کمار سوامی، ٹی آر بالو، اکھلیش یادو، پرینکا چترویدی، ملکا ارجن کھڑگے اور رندیپ سرجیوالا سمیت کئی سینئر لیڈران اس میٹنگ میں شامل ہوئے ۔ حالانکہ عام آدمی پارٹی اور ٹی آر ایس نے اس میٹنگ سے دوری بنائی ۔

      اس سے پہلے ممتا بنرجی نے 22 اپوزیشن پارٹیوں کو خط لکھ کر بی جے پی کے خلاف متحد ہونے کی اپیل کی تھی اور صدارتی انتخابات میں اتحاد کا مظاہرہ کرنے کی درخواست کی تھی ۔ ممتا بنرجی سمیت اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے صدر کے عہدہ کیلئے این سی پی چیف شرد پوار کے نام پر اتفاق کا اظہار کیا تھا، لیکن انہوں نے اس کو خارج کردیا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: