ماں کو دکھ ضرور ہوا کہ میں ان کی بہن کی شادی میں نہیں جارہا، لیکن انہوں نے میرے دل کی بات رکھ لی۔ وہ یہی بولیں کہ ٹھیک ہے، جیسا تمہارا دل کرے، ویسا ہی کرو۔ لیکن انہیں اس بات کی فکر تھی کہ میں تنہا گھر میں رہوں گا کیسے؟ مجھے تکلیف نہ ہو اس لئے وہ میرے لئے 5-4دن کا خشک کھانا گھرمیں بناکر رکھ گئی تھیں۔
میں نے جب گھر چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا، تو اسےبھی ماں کئی دن پہلے سمجھ گئی تھیں۔ میں ماں-پتا جی سے بات بات میں کہتا ہی رہتا تھا کہ میرا من کرتا ہے کہ باہر جاکر دیکھوں ، دنیا کیا ہے۔ میں ان سے کہتا تھا کہ رام کرشن مشن کے مٹھ میں جانا ہے۔ سوامی وویکا نند جی کے بارے میں بھی ان سے خوب باتیں کرتا تھا۔ماں –پتاجی یہ سب سنتے رہتے تھے۔ یہ سلسلہ کئی دن تک لگاتار چلا۔ایک دن آخر کار میں نے ماں-پتا جی سے گھر چھوڑنے کی خواہش کا اظہار کیا اوران سے آشیرواد مانگا۔ میری بات سن کر پتا جی بہت دکھی ہوئے۔وہ تھوڑا ناراج ہوکر بولے-تم جانو، تمہارا کام جانے۔لیکن میں نے کہا کہ میں ایسے بغیر آشیرواد لئے گھرچھوڑ کر نہیں جاؤں گا۔ماں کو میرے بارے میں سب کچھ پتہ تھا ہی۔ انہوں نے پھر میرے من کا احترام کیا ۔ وہ بولیں کہ جو تمہارا من کرے، وہی کرو۔ہاں، پتا جی کی تسلی کے لئے انہوں نے ان سے کہاکہ وہ چاہیں تو میری جنم پتری کسی کو دکھالیں۔ ہمارے ایک رشتہ دار کو جیوتش کا بھی علم تھا۔ پتا جی میری جنم پتری کے ساتھ ان سے ملے۔ جنم پتری دیکھنے کے بعد انہوں نے کہا کہ ’’اس کی تو راہ ہی کچھ الگ ہے، ایشور نے جہاں طے کیا ہے، وہ وہیں جائے گا۔‘‘اس کے کچھ گھنٹوں بعد ہی میں نے گھر چھوڑ دیا تھا۔تب تک پتاجی بھی کچھ مطمئن ہوچکے تھے۔ پتا جی بھی مجھے آشیرواد دیا۔ گھر سے نکلنے سے پہلے ماں نے مجھے دہی اور گڑ بھی کھلایا۔ وہ جانتی تھیں کہ اب میری آگے کی زندگی کیا ہونے جارہی ہے۔ ماں کی ممتا کتنا ہی سخت ہونے کی کوشش کرے، جب اس کی اولاد گھر سے دور جارہی ہو، تو پگھل ہی جاتی ہے۔ ماں کی آنکھ میں آنسو تھے، لیکن میرے لئے خوب سارا آشیرواد بھی تھا۔گھر چھوڑنے کے بعد کے برسوں میں، میں جہاں رہا، جس حال میں رہا، ماں کے آشیرواد کا احساس ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔ ماں مجھ سے گجراتی میں ہی بات کرتی ہیں۔ گجراتی میں تم کے لئے تُو اور آپ کے لئے تمے کہا جاتا ہے۔ میں جتنے دن گھر میں رہا، ماں مجھ سے تُو کہہ کر ہی بات کرتی تھیں، لیکن جب میں گھر چھوڑا، اپنی راہ بدلی، اس کے بعد کبھی بھی ماں نے مجھ سے تُو کہہ کر بات نہیں کی۔ وہ آج بھی مجھے آپ یا تمے کہہ کر بات کرتی ہیں۔میری ماں نے ہمیشہ مجھے اپنے اصول پر ڈٹے رہنے ، غریب کے لئے کام کرتے رہنے کےلئے تحریک دی ہے۔ مجھے یاد ہے، جب میرا وزیر اعلیٰ بننا طے ہوا تو میں گجرات میں نہیں تھا۔ ایرپورٹ سے میں سیدھے ماں سے ملنے گیا تھا۔ خوشی سے بھری ہوئی ماں کا پہلا سوال یہی تھا کہ کیا تم اب یہیں رہا کروگے؟ماں میرا جواب جانتی تھیں۔ پھر مجھ سے بولیں-’’مجھے سرکار میں تمہارا کام تو سمجھ نہیں آتا، لیکن میں بس یہی چاہتی ہوں کہ تم کبھی رشوت مت لینا۔‘‘یہاں دہلی آنے کے بعد ماں سے ملنا جلنا اور بھی کم ہوگیا ہے۔ جب گاندھی نگر جاتا ہوں تو کبھی کبھار ماں کے گھر جانا ہوتا ہے،ماں سے ملنا ہوتاہے، بس کچھ پلوں کے لئے۔ لیکن ماں کے من میں اسے لے کر کوئی ناراضگی یا دُکھ جذبہ میں نے آج تک محسوس نہیں کیا۔ماں کا پیار میرے لئے ویسا ہی ہے، ماں کا آشیرواد ویسا ہی ہی ہے۔ ماں اکثر پوچھتی ہیں-دہلی میں اچھا لگتا ہے؟دل لگتا ہے؟وہ مجھے بار بار یاد دلاتی ہیں کہ میری فکر مت کیا کرو، تم پر بڑی ذمہ داری ہے۔ماں سے جب بھی فون پربات ہوتی ہے تو یہی کہتی ہیں کہ ’’دیکھ بھائی، کوئی غلط کام مت کرنا، برا کام مت کرنا، غریب کے لئے کام کرنا۔‘‘
آج اگر میں اپنی ماں اور اپنے پتا کی زندگی کو دیکھوں ، تو ان کی سب سے بڑی خصوصیات رہی ہیں ایمانداری اور خودداری۔ غریبی سے جوجھتے ہوئے حالات کیسے بھی رہے ہوں، میرے ماں باپ نے نہ کبھی ایمانداری کا راستہ چھوڑا ، نہ ہی اپنی خودداری سے سمجھوتہ کیا۔ان کے پاس ہر مشکل سے نکلنے کا ایک ہی طریقہ تھا-محنت، دن رات محنت۔پتاجی جب تک زندہ رہے انہوں نے اس بات پر عمل کیا کہ وہ کسی پر بوجھ نہ بنیں۔ میری ماں آج بھی اسی کوشش میں رہتی ہیں کہ کسی پر بوجھ نہ بنیں، جتنا ممکن ہو سکے، اپنے کام خود کریں۔
آج بھی جب میں ماں سے ملتا ہوں، تو وہ ہمیشہ کہتی ہیں کہ ’’میں مرتے وقت تک کسی کی خدمت نہیں لینا چاہتی، بس ایسے ہی چلتے پھرتے چلے جانے کی خواہش ہے۔‘‘
میں اپنے ماں کے اس زندگی کے سفر میں ملک کی تمام ماتر شکتی کے تپ،قربانی اور تعاون کے درشن کرتاہوں۔ میں جب اپنی ماں اور ان کے جیسی کروڑں خواتین کی طاقت کو دیکھتا ہوں، تو مجھے ایسا کوئی بھی ہدف نہیں دکھائی دیتا، جو ہندوستان کی بہن بیٹیوں کےلئے ناممکن ہو۔
محرومی کی ہر کہانی سے بہت اوپر، ایک ماں کی بہادری کی کہانی ہوتی ہے۔
جدوجہد کے ہر پل میں بہت اوپر، ایک ماں کی اِچھا شکتی ہوتی ہے۔
ماں آپ کو جنم دن کی بہت بہت مبارکباد۔
آپ کی پیدائش کی صدی کا سال شروع ہونے جارہا ہے۔
عوامی طور سے کبھی آپ کے لئے اتنا لکھنے کا ، اتنا کہنے کا حوصلہ نہیں کرپایا۔
آپ صحت مند رہیں، ہم سب پر آپ کا آشیرواد بنا رہے، ایشور سے یہی دعا ہے۔
نمن!