وزیراعظم 15 نکاتی پروگرام کے حالات انتہائی بدتر، کاغذوں پربھی زندہ نہیں رہ گئی ہےمرکزی حکومت کی یہ اسکیم

پروگرام کے تحت لسٹیڈ 18 میں سے 15 وزارت نہیں کررہے ہیں اسکیموں کولے کررپورٹ

Jul 21, 2019 11:54 PM IST | Updated on: Jul 22, 2019 12:10 AM IST
وزیراعظم 15 نکاتی پروگرام کے حالات انتہائی بدتر، کاغذوں پربھی زندہ نہیں رہ گئی ہےمرکزی حکومت کی یہ اسکیم

وزیراعظم کے 15 نکاتی پروگرام کے حالات انتہائی بدترہوچکے ہیں۔

اقلیتی طبقہ کےلئے وزارت برائےاقلیتی امورکام کرتی ہے، اسکالرشپ سیکھو، کماواسکل ڈیولیمپنٹ جیسی اسکیمیں چلائی جاتی ہیں، لیکن دوسری تمام وزارتیں اقلیتی طبقےکوکیسے آگے بڑھائیں، اس کے لئے2006 میں 15 نکاتی پروگرام وزیراعظم منموہن سنگھ کے ذریعہ بنایا گیا تھا۔ آج آپ کوہم اسی پروگرام کی کاغذی اورزمینی حقیقت بتائیں گے کہ کس طرح مرکزی حکومت کی یہ اہم اسکیم کاغذوں پربھی زندہ نہیں رہی۔

سال 2005 سچرکمیٹی کی رپورٹ آنےکےبعد مسلم اقلیتی طبقےکی بدترحالت ملک کے سامنے آئی تھی۔ مسلم طبقے کوقومی دھارے میں لانے، ان کی ترقی کےلئے وزیراعظم منموہن سنگھ نے15 رکنی پروگرام شروع کیا تھا، امید ظاہرکی جارہی تھی کہ مسلم اورملک کوآگےبڑھانےمیں یہ 15 رکنی پروگرام بہت معاون ثابت ہوگا، لیکن یہ پروگرام حکومتوں کی بے حسی کی بھینٹ اس طرح چڑھا کہ جون 2006 میں شروع ہوا یہ پروگرام آج 12 سال بعد اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ حالات اتنے خراب ہے کہ تین وزارتیں (اقلیتی وزارت، دیہی ترقیات وزارت اورمنسٹری آف ڈرنکنگ واٹر) کےعلاوہ 15 وزارتوں نے رپورٹ کرنا بند کردیا ہے۔

Loading...

رپورٹ نہ کرنے والی وزارتوں میں وزارت انسانی وسائل بترائے ترقیات، وزارت برائے خواتین و اطفال بہبود، شہری ترقیات وزارت، وزارت داخلہ، ڈپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ، منسٹری آف براڈ کاسٹ اینڈ انفارمیشن، وزارت ثقافت، نیتی آیوگ  پلاننگ کمیشن، منسٹری آف اسٹیٹکس، منسٹری آف پنچایتی راج، ہسٹری آف لا اینڈ جسٹس اورمنسٹری آف ہیلتھ ۔ گزشتہ 12 سالوں میں کئی الیکشن ہوئے۔ حکومتیں تبدیل ہوگئیں، اس دوران یہ پروگرام آہستہ آہستہ  دم توڑتا رہا، بجٹ اورپلاننگ معاملوں کےماہرجاوید عالم کےمطابق دراصل وزیراعظم کے 15 نکاتی پروگرام کی اہمیت کوکبھی بھی حکومتوں نے نہیں مانا اورمانیٹرنگ، رپورٹنگ کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔

وزیراعظم 15 نکاتی پروگرام کا ایک  مایوس کن پہلوبجٹ مختص کیا جانا بھی رہا۔ ڈاکٹرمنموہن سنگھ کی حکومت میں ہی بجٹ مختص کئے جانے میں کوتاہی شروع ہوگئی تھی۔ سال 13-2012 میں آخری باربجٹ میں اضافہ ہوا تھا، لیکن اس کےبعد سے مسلسل بجٹ کم ہوتا گیا۔ 14-2013 میں 27000 کروڑ بجٹ مختص کی گئی تھی جو 17-2016 میں تقریباً 10,000 کروڑ رہ گیا ہے۔

سال 14-2013 کےبعد 15 نکاتی وزیراعظم پروگرام کے بجٹ میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔ 14-2013 میں 27291 کروڑ بجٹ مختص کیا گیا تھا جبکہ 15-2014 میں 23565 اور 16-2015 میں 11912 کروڑ مختص کیا گیا تھا۔ اسی طرح سال 17-2016 میں بجٹ کم ہوکرصرف 9930 کروڑ رہ گیا۔

ایسے حالات میں کانگریس کے راجیہ سبھا رکن حسین دلوائی نے مودی حکومت کی نیت پر ہی سوال اٹھایا ہے۔  وزارت برائے انسانی وسائل ترقی کی یوپی اے حکومت میں مانیٹرنگ کمیٹی کے رکن رہ چکے پروفیسراخترالواسع کہتے ہیں کہ حکومت کو 15 نکاتی پروگرام کی طرف توجہ دینی چاہئے۔

وزیراعظم کرنسی اسکیم کے تحت 15 نکاتی پروگرام کام کررہا ہے۔ 16-2015 میں 14017 کروڑروپئے اور17-2016 میں 20276 کروڑ روپئے 18-2017 میں 23155 کروڑ روپئے اور 19-2018 جون تک 3945 کروڑ روپئے قرض کے طورپراقلیتی طبقے کودیئے گئے، لیکن یہ بھی 15 فیصد سےکم یعنی 9 فیصد کے قریب ہے۔  پینے کے پانی کی فراہمی اورسینیٹیشن میں بھی گزشتہ تین سالوں میں ہدف کی کامیابی 9 فیصدی کےقریب ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا کےاعدادوشماربتاتے ہیں کہ 2012 سے2017 کے درمیان 16891 لوگوں کو گھرکےلئے مدد دینے کا ہدف تھا، لیکن 6457 لوگوں کوہی مدد مل سکی اورکامیابی 38 فیصد رہی۔ 18-2017 میں 64 فیصد ہدف حاصل کیا جاسکا، 5009 کے ہدف میں سے 3248 ہدف ہی حاصل کیا گیا۔ جبکہ 19-2018 میں جون تک 53 فیصدی ہدف حاصل کیا گیا۔ 2090 لوگوں کوگھرکےلئے مدد کی جگہ 1120 لوگوں کوہی مدد مل سکی، لیکن یہ دونوں اسکیمیں چل رہی ہیں اوراب حکومت کو 15 نکاتی پروگرام کے معاملے میں ان دواسکیموں کا ہی سہارا ہے۔

حکومت میں ریپرزنٹیشن کےاعدادوشمارآخری بار12-2011 میں آئے تھے۔ حکومت کی وزارت اورڈپارٹمنٹ، پبلک سیکٹربینکس، پیراملٹری فورس، پوسٹس، ریلوے اورانڈرٹیکنگ پبلک سیکٹرمیں اقلیتی طبقےکی نمائندگی 6.24 تھی، اس کے بعد اعدادوشمار نہیں آئے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت اوراسکیم دونوں سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔

Loading...