உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یو پی کی جیلوں میں اب قیدیوں کو اپنے رشتہ داروں کا نہیں کرنا پڑے گا انتظار

    یو پی کی جیلوں میں اب قیدیوں کو اپنے رشتہ داروں کا نہیں کرنا پڑے گا انتظار

    یو پی کی جیلوں میں اب قیدیوں کو اپنے رشتہ داروں کا نہیں کرنا پڑے گا انتظار

    یوگی حکومت نے جیلوں میں بند قیدیوں کی خاتون رشتہ داروں سے ملاقات کرانے کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الہ آباد کی نینی سینٹرل جیل سے ان خصوصی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    • Share this:
    الہ آباد: اترپردیش کی جیلوں میں بند قیدیوں کو اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کرنے کے لئے اب طویل انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ یوگی حکومت نے جیلوں میں بند قیدیوں کی خاتون رشتہ داروں سے ملاقات کرانے کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ الہ آباد کی نینی سینٹرل جیل سے ان خصوصی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

    جیل کے سخت ضابطوں کی وجہ سے قیدیوں کو اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملاقات میں کئی طرح کی دقتوں کا سامنا تھا۔ ریاستی حکومت نے قیدی کے اہل خانہ، خاص طور سے بہنوں اور ماؤوں سے ملاقات کرانے کے لئے جیل ضابطوں میں نرمی کر دی ہے۔ اب قیدیوں کی بہنیں تہواروں کے موقعوں کے ساتھ ساتھ طے شدہ دنوں میں اپنے بھائیوں سے جیل میں ملاقات کر سکتی ہیں۔

    ملاقات میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ قیدی اور خاتون رشتہ داروں کے درمیان کوئی دیوار حائل نہ ہو۔
    ملاقات میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ قیدی اور خاتون رشتہ داروں کے درمیان کوئی دیوار حائل نہ ہو۔


    ملاقات میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ قیدی اور خاتون رشتہ داروں کے درمیان کوئی دیوار حائل نہ ہو۔ نینی سینٹرل جیل کے سپریٹنڈنٹ پی این پانڈے کا کہنا ہے کہ اس خصوصی ملاقات میں ایک دن میں 200 رشتہ داروں کی ملاقات کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے ساتھ معمول کی ہونے والی ملاقاتوں میں گھر کے مرد افراد زیادہ ملنے آتے ہیں، ایسی صورت میں خاتون رشتہ دار قیدیوں سے ملاقات نہیں کر پاتیں۔

    ریاستی حکومت نے قیدی کے اہل خانہ، خاص طور سے بہنوں اور ماؤوں سے ملاقات کرانے کے لئے جیل ضابطوں میں نرمی کر دی ہے۔
    ریاستی حکومت نے قیدی کے اہل خانہ، خاص طور سے بہنوں اور ماؤوں سے ملاقات کرانے کے لئے جیل ضابطوں میں نرمی کر دی ہے۔


    پی این پانڈے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بہنوں اور والدہ کے ساتھ ہونے والی ان ملاقاتوں سے قیدی کی نفسیات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ان کا ذہنی تناؤ کم ہوگا۔ واضح رہے کہ نینی سینٹرل جیل یو پی کی قدیم ترین اور سب سے بڑی جیل ہے۔ اس وقت نینی سینٹرل جیل میں تین ہزار سے زیادہ قیدی بند ہیں۔ ان میں بیشتر تعداد ایسے قیدیوں کی ہے جو عدالتی تحویل میں جیل بھیجے گئے ہیں۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: