உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی پولیس کا نیا انکشاف، پنجابی سنگر سدھو موسے والا کے قتل کا ماسٹر مائنڈ ہے پریہ ورت عرف فوجی

    Siddu Moose Wala Murder Case: دہلی پولیس نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پریہ ورت عرف فوجی ہی سدھو موسے والا کے قتل کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ اسی نے قتل کی سازش اور پوری پلاننگ کی تھی۔ وہ مسلسل گینگسٹر پریہ ورت گولڈی برار کے رابطے میں تھا اور قتل سے پہلے فتح گڑھ کے ایک پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی میں نظر آرہا تھا۔

    Siddu Moose Wala Murder Case: دہلی پولیس نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پریہ ورت عرف فوجی ہی سدھو موسے والا کے قتل کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ اسی نے قتل کی سازش اور پوری پلاننگ کی تھی۔ وہ مسلسل گینگسٹر پریہ ورت گولڈی برار کے رابطے میں تھا اور قتل سے پہلے فتح گڑھ کے ایک پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی میں نظر آرہا تھا۔

    Siddu Moose Wala Murder Case: دہلی پولیس نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پریہ ورت عرف فوجی ہی سدھو موسے والا کے قتل کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ اسی نے قتل کی سازش اور پوری پلاننگ کی تھی۔ وہ مسلسل گینگسٹر پریہ ورت گولڈی برار کے رابطے میں تھا اور قتل سے پہلے فتح گڑھ کے ایک پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی میں نظر آرہا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی پولیس نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پریہ ورت عرف فوجی ہی سدھو موسے والا کے قتل کا ماسٹرمائنڈ ہے۔ اسی نے قتل کی سازش اور پوری پلاننگ کی تھی۔ پریہ ورت گولڈی برار کے رابطے میں تھا اور قتل سے پہلے فتح گڑھ کے ایک پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی میں نظر آرہا تھا۔ یہ بھی شوٹر ہے، جس نے کلنگ کی تھی۔ ان کے پاس سے پولیس نے ہینڈ گرینیٹ برآمد کیا ہے۔

      دوسری جانب، دہلی پولیس نے سدھو موسے والا کو گولی مارنے والے 2 شوٹر گجرات مدرا پورٹ سے گرفتار کیا ہے۔ دہلی پولیس 4 بجے پریس کانفرنس میں جانکاری دے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ دونوں شوٹرس سے بھاری مقدار میں ہتھیار بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک شوٹر کی پہچان پریہ ورت فوجی کے طور پر ہوئی ہے۔

      شوٹر پریہ ورت فوجی سونی پت ہریانہ کا رہنے والا ہے۔ پنجاب پولیس نے ابھی تک اس معاملے میں 11 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ جبکہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کو دہلی پولیس کے ذریعہ پوچھ گچھ کے لئے پنجاب لا گیا ہے۔ اس کا کل پولیس ریمانڈ ختم ہوجائے گا اور اسے دوبارہ مانسا کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: