ہوم » نیوز » جنوبی ہندوستان

"بنگلور لشکر" مزاحیہ فلم کی تیاری شروع، نومبر سے شوٹنگ

طویل عرصے کے بعد بنگلورو کی دکنی زبان میں ایک اور فلم بنائی جارہی ہے۔ مقامی فنکاروں کی کوشش سے منظر عام پر آنے والی اس فلم کا نام "بنگلور لشکر" ہے۔ فلم کے پروڈیوسر اشفاق احمد صدیقی نے کہا کہ یہ ایک مزاحیہ فلم ہے، بنگلورو کی دکنی زبان اور تہذیب کو نمایاں کرنا اس فلم کا مقصد ہے۔

  • Share this:
"بنگلور لشکر" مزاحیہ فلم کی تیاری شروع، نومبر سے شوٹنگ

بنگلورو: طویل عرصے کے بعد بنگلورو کی دکنی زبان میں ایک اور فلم بنائی جارہی ہے۔ مقامی فنکاروں کی کوشش سے منظر عام پر آنے والی اس فلم کا نام "بنگلور لشکر" ہے۔ فلم کے پروڈیوسر اشفاق احمد صدیقی نے کہا کہ یہ ایک مزاحیہ فلم ہے، بنگلورو کی دکنی زبان اور تہذیب کو نمایاں کرنا اس فلم کا مقصد ہے۔ اشفاق احمد صدیقی نے کہا کہ فلم بنگلور لشکرکی کہانی مزاحیہ باتوں اور ہنسنے اور ہنسانے والے مناظر کے ساتھ ایک اہم سماجی پیغام "برائی پر اچھائی کی جیت"، دے گی۔ اشفاق احمد صدیقی نے کہا کہ فلم کی کہانی، کردار، مناظر، مکالمات تیار ہوچکے ہیں۔ فلم کی شوٹنگ کیلئے متعلقہ سرکاری محکمہ کو درخواست پیش کی گئی ہے۔




کورونا کی وبا کی وجہ سے نومبر میں شوٹنگ کیلئے اجازت ملنے کی امید ہے۔ شوٹنگ اور ایڈیٹنگ کے مکمل ہونے کے بعد نئے سال یعنی جنوری 2021 میں اس فلم کو منظر عام پر لانےکا منصوبہ بنایا گیا ہے۔جونیئر امیتابھ بچن کے نام سے مشہور سید گلفام اس فلم میں ایک اہم رول ادا کرنے جارہے ہیں۔ سید گلفام نے کہا کہ فلم کو بنگلور لشکر کا نام اس لئے دیا گیا ہے کہ شہر کے چند پرانے علاقے جیسے شیواجی نگر، کنٹونمنٹ کو اس وقت لشکر کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ لوگ اب اس نام کو بھول چکے ہیں۔ فلم کے ذریعہ خالص بنگلور کی دکنی زبان اور ثقافت پر روشنی ڈالتے ہوئے لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔ فلم میں ہیرو کا کردار ادا کرنے والے ایس کے سہیل نے کہا کہ حیدرآباد اور بنگلور کی دکنی زبانوں میں کافی فرق ہے۔




حیدرآباد کے آرٹسٹوں نے اپنی مادری زبان کو مقبول بنایا ہے، لیکن بنگلورو کی دکنی زبان کیلئے کوئی پلیٹ نہ ہونے کے سبب اس زبان کی جانب توجہ نہیں دی گئی ہے۔ فلم میں ایک سیاستدان کا کردار ادا کرنے والے محمد اسلم نے کہا کہ بنگلور کے گھروں، گلی محلوں میں بولی جانے والی دکنی زبان کا لہجہ ہر کسی کو متاثر کرتا ہے۔ بنگلور لشکر میں رپورٹر کا کردار ادا کرنے والے سید اسجد نے کہا کہ گھروں میں، بازاروں میں سبھی لوگ دکنی زبان میں ہی بات کرتے ہیں۔ لیکن جب اسٹیج پر، کیمرہ کے سامنے یا کسی غیر بنگلوری سے بات کرنے کا موقع آتا ہے، تو دکنی کے بجائے اردو میں بات چیت ہوتی ہے۔ اب اس فلم کیلئے دکنی زبان میں بنگلور کے لہجے میں ڈائیلاگ ادا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم فلم کی پوری ٹیم اس بات کو لے کرپُرامید ہے کہ یہ ایک کامیاب فلم ہوگی اور لوگ اس سے خوب محظوظ ہوں گے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بنگلورو کی دکنی زبان میں ساڑو  میرا جھاڑو اور بھی چند دیگر چھوٹی بڑی فلمیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ایک لمبے عرصے کے بعد بنگلور اخبار کے تحت بنگلوری لہجے میں بنگلور لشکر فلم منظر عام پر آنے والی ہے۔ فلمی شائقین اس مزاحیہ فلم کا بے صبری سے انتظار کررہے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Sep 23, 2020 11:56 PM IST