உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہوا رکی ہے تو رقصِ شرر بھی ختم ہوا، پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کو خراجِ تحسین

    ہوا رکی ہے تو رقصِ شرر بھی ختم ہوا، پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کو خراجِ تحسین

    ہوا رکی ہے تو رقصِ شرر بھی ختم ہوا، پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کو خراجِ تحسین

    علم و ادب کے اہم مرکز لکھنئو میں آج پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کی غیر معمولی خدمات کے لئے انہیں زبر دست خراج تحسین پیش کیا گیا۔دانش محل میں منعقد مذاکرے اور پریس کلب میں منظم کی گئی ایک یادگاری تقریب میں پروفیسر ملک زادہ کے غیر معمولی ادبی کارناموں کی ستائش کرتے ہوئے ان کے مشن اور تحریکات کو آگے بڑھانے کا عہد کیا گیا۔

    • Share this:
    لکھنو: علم و ادب کے اہم مرکز لکھنئو میں آج پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کی غیر معمولی خدمات کے لئے انہیں زبر دست خراج تحسین پیش کیا گیا۔دانش محل میں منعقد مذاکرے اور پریس کلب میں منظم کی گئی ایک یادگاری تقریب میں پروفیسر ملک زادہ کے غیر معمولی ادبی کارناموں کی ستائش کرتے ہوئے ان کے مشن اور تحریکات کو آگے بڑھانے کا عہد کیا گیا۔ ایک شاعر، ناظم، محقق، ناول نگار، انشائیہ پرداز اور مدرس و مجاہد اردو کی حیثیت سے پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کو ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا اور نئی نسل ان کے خیال و فکر سے رہنمائی حاصل کرتی رہے گی۔معروف دانشور  پروفیسر خان محمد عاطف کہتے ہیں کہ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کا غیر معمولی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے نظامت کو باقاعدہ ایک فن کی شکل عطا کی اور پھر اسے اپنی علمی بصیرت سے اعتبار و استحکام بھی عطا کیا۔

    پروفیسر صابرہ حبیب کے مطابق پروفیسر ملک زادہ منظور صاحب نے ادبی اور کتابی زبان کو مشاعروں کی نظامت کا حصہ بناکر نہ صرف زبان وادب کی ترقی و ترویج کے راستے ہموار کئے بلکہ نئی نسل اور ادب کے مابین ایک ایسا انسلاک قائم کیا جس کے سبب مشاعروں اور سامعین دونوں کا ادبی آہنگ اور معیار بلند ہوا وہ ایک غیر معمولی شاعر اور قابل تقلید فنکار تھے۔

    اہل علم ودانش ماتے ہیں کہ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کی ہمہ جہت شخصیت کا سحر یہی تھا کہ انہوں نے جس میدان میں بھی قدم رکھا اس کو سرکرلیا۔ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد ان معدود چند خوش نصیب شاعروں میں ہیں جنہوں اپنے اہم  علمی اور ادبی ورثے کے ساتھ ساتھ اپنی نسل کو بھی ادبی خدمات کے لئے ہمیشہ پیش پیش رہنے کی تلقین کی، یہی وجہ ہے کہ آج ان کے فرزند ملک زادہ جاوید پوری اردو دنیا میں جدید شاعر کی حیثیت سے منفرد شناخت قائم کر چکے ہیں اور اردو کے مبلغ وسفیر تصور کئے جانے لگے ہیں۔

    دوسری طرف ان کے لائق و فائق فرزند ملک زادہ پرویز نے اپنی نظامت، انداز گفتگو اور تحریروں کے ذریعہ یہ ثابت کردیا ہے کہ پروفیسر ملک زادہ کی وراثت معتبر اور با صلاحیت ہاتھوں میں پوری طرح محفوظ ہے۔ 17 اکتوبر 1929 کو فیض آباد سے متصل ایک گاوں کے خاندان سادات میں آنکھ کھولنے والے ملک زادہ منظور احمد نے ترقی اور کامرانی کی جو منازل طے کیں ان پر ناز کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے انگریزی، تاریخ اور اردو میں ماسٹرز کرنےکے بعد ’مولانا ابو الکلام آزاد: فکر وفن‘ کے عنوان پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور پھر اپنی غیر معمولی تحریری اور تقریری صلاحیتوں کی بنیاد پر ہزاروں نو واردین کے آدرش بن گئے

    ایک طرف تو مہاراج گنج سے لے کر گورکھپور اور لکھنئو یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر اپنی تفدریسی ذمہ داریاں پوری کیں تو دوسری طرف اتر پردیش اردو اکادمی، فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی جیسے اہم اردو اداروں کے اہم منصب فائز رہتے ہوئے زبان و ادب کی بقاء میں بھی مصروف عمل رہے کبھی اردو رابطہ کمیٹی کے سرپرست کی حیثیت سےمجاہدانہ آوازیں بلند کیں تو کبھی ایک ادبی سفیر کی حیثیت سے اردو کے بین الاقوامی منظر نامے میں خوبصورت رنگ بھرتے رہے رقص شرر کے عنوان سے خود نوشت تحریر کرنے والے ملک زادہ نے شاعری اور  تحقیق  کے ساتھ ساتھ مختلف  موضوعات و عنوانات پر بھی بہترین کتابیں تخلیق کیں۔

    ملک زادہ منظور احمد کسی ایک میدان کے ماہر و شہسوار نہیں تھے بلکہ ان کی شخصیت مختلف اوصاف و اصناف کا مجموعہ تھی۔ لکھنئو سے ماہنامہ امکان نکال کر پروفیسر ملک زادہ منظور احمد نے یہ مثال قائم کی تھی کہ ایک ایسے دور میں بھی ادبی میگزین کو زندہ و پائندہ رکھا جاسکتا ہے، جب اردو قارئین کی قوتِ خرید کمزور ہو رہی ہے اور اردو کے لئے زمین  کے ساتھ ساتھ ذہن بھی تنگ ہورہے ہیں۔ جاوید ملک زادہ اور پرویز ملک زادہ کہتے ہیں کہ ابو کے ان تمام خوابوں تحریکوں کو زندہ رکھنے اور خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی، جو ان کی رحلت کے سبب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے، لیکن دل آج بھی یہی کہتا ہے، جو ہو سکے تو چلے آؤ تم ملک زادہ۔ مگر یہ خواہشِ بے جا اسے خبر ہی نہیں،کہ جانے والے کبھی لوٹ کر نہیں آتے، مہکتے رہتے ہیں گلدان ان کی یادوں کے، سلگتے رہتے ہیں لوبان ان کی یادوں کے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: