ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جیل سے رہا ہونے کے پروفیسر محمد شاہد نے کہا- تبلیغی جماعت سے وابستہ ہونے سے میری عزت میں اضافہ ہوا

تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے اور جماعت کے غیر ملکی کارکنان کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار ہونے والے الہ آباد سینٹرل یونیورسٹی کے پروفیسر محمد شاہد نے خود کو بے قصور بتاتے ہوئے مقامی پولیس پر غلط طریقے سے پھنسائے جانے کا الزام لگایا ہے۔

  • Share this:
جیل سے رہا ہونے کے پروفیسر محمد شاہد نے کہا- تبلیغی جماعت سے وابستہ ہونے سے میری عزت میں اضافہ ہوا
پروفیسر محمد شاہد نے کہا- تبلیغی جماعت سے وابستہ ہونے سے میری عزت میں اضافہ ہوا-

الہ آباد: تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے اور جماعت کے غیر ملکی کارکنان کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار ہونے والے الہ آباد سینٹرل یونیورسٹی کے پروفیسر محمد شاہد نے خود کو بے قصور بتاتے ہوئے مقامی  پولیس پر غلط طریقے سے پھنسائے جانے کا الزام لگایا ہے۔ پروفیسر محمد شاہد کو ضمانت پر جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد پروفیسر محمد شاہد کا ان کے شاگردوں نے پر جوش خیر مقدم کیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ نینی سینٹرل جیل میں  رہنے کے بعد سیشن کورٹ سے پروفیسر محمد شاہد کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔


جیل سے رہا ہونے  پر نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے پروفیسر محمد شاہد نے کہا کہ ملک میں لاک ڈاؤن کا علان ہونے سے کافی پہلے ہی وہ دہلی مرکز سے واپس آ چکے تھے۔ پروفیسر شاہد کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر ملکی جماعتیوں کو چھپا کر رکھنے کا الزام قطعی بے بنیاد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈو نیشیا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی کارکنان کی الہ آباد آمد کی آن لائن اطلاع مقامی انتظامیہ کو  پہلے ہی کر دی گئی تھی۔


جیل سے رہا ہونے کے بعد پروفیسر محمد شاہد کا ان کے شاگردوں نے پر جوش خیر مقدم کیا۔
جیل سے رہا ہونے کے بعد پروفیسر محمد شاہد کا ان کے شاگردوں نے پر جوش خیر مقدم کیا۔


واضح رہےکہ پروفیسر محمد شاہد سمیت تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے 30  افراد کو گذشتہ 21 اپریل کو پولیس نے کوارنٹائن سینٹر سے گرفتار کیا تھا۔ اس سے قبل یکم اپریل کو الہ آباد کے تبلیغی مرکز سے ان افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حراست میں لینے کے بعد محکمہ صحت نے تمام افراد کو شہر کے ایک گیسٹ ہاؤس میں کوارنٹائن کر دیا تھا۔ کوارنٹائن کی مدت ختم ہونے پر پولیس نے ان کے خلاف شہر کے مختلف پولیس تھانوں میں مقدمہ درج کرکے نینی سینٹرل جیل بھیج دیا تھا۔ گرفتار ہونے والوں میں 16 افراد کا تعلق بیرون ممالک سے ہے۔ ان  غیر ملکیوں میں 9 افراد کا تعلق تھائی لینڈ اور 7 افراد کا تعلق انڈو نیشیا اور ملیشیا  بتایا جا رہا ہے۔


گرفتار ہونے والے تبلیغی جماعت کے تمام لوگوں پر تعزیرات ہند کی کئی سنگین دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پروفیسر محمد شاہد کی گرفتاری کے بعد الہ آباد یونیورسٹی انتظامیہ نے ان کو معطل کر دیا ہے اور اس پورے معاملے کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی  تشکیل دی ہے۔ پروفیسر محمد شاہد الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں استاد ہیں، ان پر الزام ہےکہ انہوں نے نظام الدین میں واقع تبلیغی مر کز کے اجتماعات میں شرکت کی  تھی۔ مقامی پولیس نے پرو فیسر شاہد پر غیر ملکی تبلیغی افراد کو پناہ دینے اور ان کی آمد کی اطلاع  مقامی پولیس کو نہ دینےکا بھی الزام لگایا ہے۔ الہ آباد کی سیشن عدالت نے پروفیسر محمد شاہد کے علاوہ تبلیغی جماعت کے جن افراد کی ضمانت عرضی منظور ہے ان میں اسٹیٹ طبیہ کالج کے سابق استاد حکیم خواجہ صبیح الدین، ڈاکٹر مسیح اللہ خان، محمد احمد، محمد طا رق، محمد شکیل، وسیم احمد، رضوان الحق اور محمد مصطفیٰ کے نام شامل ہیں۔
First published: Jun 04, 2020 07:22 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading