نئی حکومت میں اقلیتوں کیلئے باہمی اعتماد قائم کرنا وقت کی ضرورت: پروفیسر طاہر محمود

پروفیسر محمود نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس بات کا احساس کرانا لازمی ہے کہ مسلم نوجوان ملک و قوم کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں اہم رول ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں اس کا پورا موقع فراہم کرنا نئی حکومت کا فریضہ ہے۔

May 27, 2019 04:17 PM IST | Updated on: May 27, 2019 04:25 PM IST
نئی حکومت میں اقلیتوں کیلئے باہمی اعتماد قائم کرنا وقت کی ضرورت: پروفیسر طاہر محمود

ممتاز ماہر قانون اور قومی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ پروفیسر طاہرمحمود: فائل فوٹو۔

ممتاز ماہر قانون اور قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین پروفیسرطاہرمحمود نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں ملک کی نئی حکومت اور شہریوں کے اقلیتی طبقات کیلئے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ایک دوسرے کا بھرپور اعتماد حاصل کرنا بے انتہا ضروری ہے۔  پروفیسر محمود نے جو دہلی کی مختلف یونیورسٹیوں کے نوجوان اساتذہ اور طلبا کے ایک گروپ سے گفتگو کررہے تھے، کہا کہ اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کے نوجوان طبقے پراس کی سب سے ذمہ داری ہے کہ وہ کسی قسم کے تصادم کی صورت ہرگز نہ پیدا ہونے دیں اور دستور اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کے ساتھ پورا تعاون کریں۔ طلبا ان سے اس سلسلے میں صلاح ومشورہ کرنے آئے تھے۔

پروفیسر محمود نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس بات کا احساس کرانا لازمی ہے کہ مسلم نوجوان ملک و قوم کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں اہم رول ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں اس کا پورا موقع فراہم کرنا نئی حکومت کا فریضہ ہے۔

مذہبی حقوق کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے پروفیسر محمود نے کہا کہ اکثریتی طبقے کیلئے بھی اور سبھی اقلیتوں کیلئے بھی اس معاملے میں ملکی دستور کی مقرّر کردہ حدود کے اندر رہنا ضروری ہے کیونکہ ان حدود کی خلاف ورزی کرنے سے نہ تو ملک سیکولر رہ سکے گا اور نہ ہی امن و امان قائم رہ پائے گا۔

Loading...

Loading...