شیلا دکشت: اندرا گاندھی - سونیا گاندھی کے بعد کانگریس کی سب سے مضبوط خاتون لیڈر، ایسا تھا سیاسی سفر

سال 1998 میں سونیا گاندھی کے سیاست میں آنے کے بعد شیلا دکشت کو بھی دوبارہ سیاست میں سرگرم ہونے کا موقع ملا۔ سونیا گاندھی نے انہیں دہلی کی کمان سونپی، جس پروہ مکمل طور پرکھری اتریں۔

Jul 20, 2019 05:48 PM IST | Updated on: Jul 20, 2019 05:55 PM IST
شیلا دکشت: اندرا گاندھی - سونیا گاندھی کے بعد کانگریس کی سب سے مضبوط خاتون لیڈر، ایسا تھا سیاسی سفر

تین باردہلی کی وزیراعلیٰ رہیں شیلا دکشت کا 81 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا ہے۔

دہلی کی سابق وزیراعلیٰ اور سینئرکانگریس لیڈر شیلا دکشت کا آج ہفتہ کے روزانتقال ہوگیا۔ ہفتہ کی صبح انہیں اوکھلا واقع اسکارٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں دل کا دورہ پڑنے سے ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ طویل وقت سے بیمارتھیں۔ ہفتہ کی دوپہر3:30 بجے 81 سال کی شیلا دکشت نےاسکارٹ اسپتال میں آخری سانس لی۔ شیلا دکشت نے1998 میں پہلی باردہلی سےاسمبلی کا الیکشن لڑکرجیت حاصل کی اوردہلی کی چھٹی وزیراعلیٰ بنی تھیں۔

شیلا دکشت کا نام کانگریس کےان قدآورلیڈروں میں سب سےاوپرہے، جنہوں نے طویل وقت تک کانگریس کی حکومت ریاست میں مضبوطی سے بنائے رکھا۔ 15 سال تک دہلی کی سیاست میں شیلا دکشت نےاکیلے راج کیا۔ بی جے پی تمام کوششوں کے باوجود شیلا دکشت کوشکست دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

Loading...

شیلا دکشت کا سیاسی سفر

پنجاب کےکپورتھلا میں پیدا ہوئیں شیلا شکست کی شادی اترپردیش کے سینئرکانگریسی لیڈراوما شنکردکشت کےبیٹے ونود دکشت سے ہوئی۔ پنجابی سےبرہمن بنیں شیلا دکشت نے سسرکےسیاسی وراثت کوبخوبی سنبھالا۔

اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں پہلی بارشیلا دکشت قنوج سے لڑکرپارلیمنٹ تک پہنچیں۔ گاندھی فیملی کی قریبی ہونے کےناطےانہیں راجیو گاندھی کی حکومت میں پارلیمانی امورکے وزیرمملکت اورپی ایم او میں وزیربننےکا موقع ملا۔

سال 1998 میں سونیا گاندھی کے سیاست میں آنے کے بعد شیلا دکشت کو بھی دوبارہ سیاست میں سرگرم ہونے کا موقع ملا۔ سونیا گاندھی نے انہیں دہلی کی کمان سونپی، جس کے بعد شیلا دکشت نے کبھی پلٹ کرنہیں دیکھا۔ مرکز میں چاہے بی جے پی کی حکومت ہو یا کانگریس کی، لیکن دہلی میں شیلا دکشت ہی اقتدارمیں رہیں۔

شیلا دکشت نے اپنے دوراقتدارمیں دہلی کو ایک نئی شناخت دی۔ فلائی اوورسے لےکرمیٹرو، دہلی کی ہریالی، صحت اورتعلیم کے میدان میں ایسی کئی پہل شیلا دکشت نےکی جس کوآج بھی وہ فخرسےگناتی ہیں، لیکن شیلا دکشت کےدامن پرکامن ویلتھ گیم (دولت مشترکہ کھیل) میں بدعنوانی کا الزام بھی لگا، لیکن یہ شیلا دکشت کی ذات ہی تھی جووہ ہرالزامات کے سامنے بہادری سے کھڑی رہیں۔ وہ 2014 میں کیرلا کی گورنربھی رہیں۔

ایک دورایسا بھی آیا جب اپنی تمام حصولیابیوں کے باوجود شیلا دکشت انا آندولن اوراروند کیجریوال کی بدعنوانیوں کےالزامات کا سامنا نہیں کرپائیں اوراقتدارگنوا بیٹھیں۔ ساتھ ہی انہیں 2013 میں نئی دہلی اسمبلی سیٹ سےاروند کیجریوال کےخلاف شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

یوپی اے -2 کےدوران ہوئےانا آندولن اورکانگریس پربدعنوانی کےالزامات کےدرمیان شیلا دکشت بھی اپنا قلعہ نہیں بچا سکیں۔ دہلی سے کانگریس کا صفایا ہوگیا، لیکن پانچ سال گزرتے گزرتے دہلی کی عوام کے ساتھ ساتھ کانگریس قیادت کوبھی اس بات کا احساس ہوگیا کہ ان کے پاس شیلا دکشت سے بڑا کوئی تروپ کا اکا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی اورکیجریوال کے ڈبل چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے 78 سال کی شیلا دکشت کوپھرسے میدان میں اتارا گیا تھا۔

Loading...