உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Madhya Pradesh: ممتاز افسانہ نگار نعیم کوثر کو مظفر حنفی عالمی اردو ایوارڈ سے کیا گیا سرفراز

    ممتاز افسانہ نگار نعیم کوثر کو مظفر حنفی عالمی اردو ایوارڈ سے کیا گیا سرفراز

    ممتاز افسانہ نگار نعیم کوثر کو مظفر حنفی عالمی اردو ایوارڈ سے کیا گیا سرفراز

    عالمی تحریک اردو کے ذریعہ ممتاز افسانہ نگار اور صحافی نعیم کوثر کو مظفرحنفی عالمی اردو ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ بھوپال اقبال لائبریری میں عالمی تحریک اردو کے زیر اہتمام پُروقار اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اعزاز تقریب میں نعیم کوثر کو پچاس ہزار روپیہ ،مومنٹو اور شال پیش کی گئی۔

    • Share this:
    بھوپال: عالمی تحریک اردو کے ذریعہ ممتاز افسانہ نگار اور صحافی نعیم کوثر کو مظفرحنفی عالمی اردو ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ بھوپال اقبال لائبریری میں عالمی تحریک اردو کے زیر اہتمام پُروقار اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اعزاز تقریب میں نعیم کوثر کو پچاس ہزار روپیہ ،مومنٹو اور شال پیش کی گئی۔ اس موقع پرپروفیسر مظفر حنفی کی ادبی نگارشات اور نعیم کوثرکی ادبی خدمات پر دانشوروں نے تفصیل سے روشنی ڈالی۔

    واضح رہے کہ عالمی تحریک اردو کے ذریعہ 2021 میں مظفر حنفی عالمی اردو ایوارڈ قائم کیا گیا تھا۔ پہلا ایوارڈ اکولہ مہاراشٹر کے ممتاز ادیب ڈاکٹر محبوب راہی کو دیا گیا تھا۔ سوسائٹی کے ذریعہ دوسرا ایوارڈ مدھیہ پردیش کے ممتاز افسانہ نگار اور صحافی نعیم کوثرکو دیا گیا ہے۔ نعیم کوثرکے نصف درجن افسانوی مجموعے شائع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں۔ پروفیسر مظفر حنفی کی ولادت اور ابتدائی تعلیم مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں ہوئی تھی۔ پروفیسر مظفرحنفی نے اعلیٰ تعلیم بھوپال سے حاصل کی تھی۔ انہوں نے بھوپال برکت اللہ یونیورسٹی سے ’شاد عارفی: فن و شخصیت‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    مدھیہ پردیش اردو اکادمی کے زیر اہتمام تین سال بعد اعزاز تقریب کا انعقاد 

    پروفیسر مظفر حنفی کے فرزند پرویز مظفر نے نیوز ایٹین اردو سے خاص بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھوپال مظفر حنفی کا تقریبا سترہ سال تک میدان عمل رہا ہے۔ اس شہر کے لوگوں سے، یہاں کی تہذیب سے یہاں کی علمی وادبی تحریکات سے ان کا خاص رشتہ رہا ہے۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایوارڈ 2021 میں قائم کیا گیا تھا اور مظفر حنفی عالمی اردو ایوارڈ جو عالمی تحریک اردو جس کا ہیڈ آفس جموں وکشمیر میں ہے، اس کے وسیلے سے ہم یہ ایوارڈ دیتے ہیں۔ پچھلے سال ہم نے ڈاکٹر محبوب راہی کی ادبی خدمات کے اعتراف میں پہلا ایوارڈ دیا تھا اور اس بار جیوری نے ممتاز افسانہ نگار نعیم کوثر صاحب کے حق میں کیا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ یہ با وقار ایوارڈ نعیم کوثر صاحب کو دیا گیا ہے۔ میں اس ایوارڈ تقریب میں شرکت کرنے کے لئے ایک لمبا سفر طے کرکے یہاں تک آیا ہوں، مگر یقین جانئے یہاں کے لوگوں کی محبت اور خلوص اور ادبی نوازی کو دیکھ کر سفرکی ساری تھکان پل بھر میں ختم ہوگئی۔

    وہیں مظفر حنفی ایوارڈ سے سرفراز ممتاز افسانہ نگار و صحافی نعیم کوثر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی اہم خوشی کا موقع ہے کہ جیوری نے مظفر حنفی عالمی اردو ایوارڈ کے لئے میرے نام کا انتخاب کیا ہے، جہاں تک مظفر بھائی کا تعلق ہے، وہ ہمارے پڑوسی بھی تھے، ہمدرد بھی تھے ،بڑے وضعدار انسان تھے۔ ہم نے ان کی ادبی خدمات پر لکھا بھی ہے اور انہوں نے اپنی کتابوں میں ہمارا بھی تذکرہ کیا ہے۔ آپ نے ان کا ذکر کرکے میرے سامنے ان کی چھ دہائیوں کے ادبی سفر سامنے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے بہت لکھا اور جو لکھا اس کا ادب میں نوٹس لیا گیا۔ فنکار کی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ جو کچھ لکھ رہا ہے، اس کا قاری اسے پڑھے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ مظفر بھائی کی تحریریں آنے والی نسلوں کے لئے رہنما کا کام کریں گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: