உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممتاز ادیب خالد عابدی کا سانحہ ارتحال، بھوپال بڑا باغ قبرستان میں سپرد خاک، ادبا نے اردو زبان وادب کا ناقابل تلافی نقصان قرار دیا

    ممتاز ادیب، صحافی  وطنز و مزاح نگار خالد عابدی کے سانحہ ارتحال سے مدھیہ پردیش کی ادبی فضا سوگوار ہو گئی ہے۔ خالد عابدی پرگزشتہ ماہ فالج کا اثر ہوا تھا، جس کے بعد وہ زیر علاج تھے اور آج انہوں نے بھوپال میں سرائے فانی کو خیر آباد کہہ دیا۔

    ممتاز ادیب، صحافی وطنز و مزاح نگار خالد عابدی کے سانحہ ارتحال سے مدھیہ پردیش کی ادبی فضا سوگوار ہو گئی ہے۔ خالد عابدی پرگزشتہ ماہ فالج کا اثر ہوا تھا، جس کے بعد وہ زیر علاج تھے اور آج انہوں نے بھوپال میں سرائے فانی کو خیر آباد کہہ دیا۔

    ممتاز ادیب، صحافی وطنز و مزاح نگار خالد عابدی کے سانحہ ارتحال سے مدھیہ پردیش کی ادبی فضا سوگوار ہو گئی ہے۔ خالد عابدی پرگزشتہ ماہ فالج کا اثر ہوا تھا، جس کے بعد وہ زیر علاج تھے اور آج انہوں نے بھوپال میں سرائے فانی کو خیر آباد کہہ دیا۔

    • Share this:
    بھوپال: ممتاز ادیب، صحافی  وطنز و مزاح نگار خالد عابدی کے سانحہ ارتحال سے مدھیہ پردیش کی ادبی فضا سوگوار ہو گئی ہے۔ خالد عابدی پرگزشتہ ماہ فالج کا اثر ہوا تھا، جس کے بعد وہ زیر علاج تھے اور آج انہوں نے بھوپال میں سرائے فانی کو خیر آباد کہہ دیا۔ خالد عابدی کی نماز جنازہ بھوپال  سیفیہ کالج کے پاس واقع شیڈ میں ادا کی گئی اور انہیں نم آنکھوں کے ساتھ بھوپال بڑا باغ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
    خالد عابدی کی ولادت 17 اکتوبر 1949 کو بھوپال میں ہوئی تھی۔ خالد عابدی کی تعلیم و تربیت بھی بھوپال میں ہوئی۔ انہوں نے بھوپال سیفیہ کالج سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا اور پھر یہیں سے پروگرام ایگزیکٹیو کے عہدے سے مارچ 2010 میں وظیفہ حسن و خدمت پر ریٹائر ہوئے۔ خالد خالد عابدی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ اردو کے بہترین ادیب تو تھے ہی، وہ اردو کے اس حد تک شیدائی تھے کہ بھوکے رہتے تھے مگر بچوں کے لئے اردو کی کتاب خرید کر اپنی لائبریری میں ضروری رکھتے تھے تاکہ ان کی لائبریری میں مطالعہ کے لئے آنے والا طالب خالی ہاتھ واپس نہ جائے۔
    خالد عابدی بہترین افسانہ نگارکے ساتھ ڈرامہ نگار اورطنز ومزاح نگار بھی تھے۔ انہوں نے افسانے، ریڈیائی افسانے، بچوں کے ڈراموں کے ساتھ طنزیہ و مزاحیہ مضامین بھی لکھے تھے۔ ان کی تصانیف کی تعداد ایک درجن کے قریب ہے۔ ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ آوازنما کے نام سے 1975 میں زیور طبع سے آراستہ ہوکرمنظرعام پر آیا تھا۔ باغ فکرمعروف بہ مقطعات نساخ ترتیب و تدوین 1977، پیکر آواز (ریڈیو اور اسٹیج ڈراموں کا مجموعہ ) 1083، زخموں کے دریچے (افسانوں کا مجموعہ ) 1988، شکایتاً عرض ہے (طنزیہ مزاحیہ مضامین کا مجموعہ) 1991، اردو انٹرویوز (اردو ادیبوں اور شاعروں اورفلمی ہستیوں سے مراسلاتی انٹرویوز) 1992، ٹیچر کے بغیر (بچوں کے ڈرامے) 1992، مضامین خالد (تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ ) 1995، اردو مراسلاتی انٹرویوز (اردو ادیبوں  و شاعروں اور فلمی ہستیوں سے وابستگی اور اردو میں فلمیات ) 2009، نقطعہ نوگریز منی افسانوں کا مجموعہ) 2009، اردو اور ہماری فلمیں 2009 اور سرگزشت 2019 کے نام قابل ذکر ہیں۔

    ممتاز صحافی عارف عزیز نے نیوز 18 اردو سے خاص بات چیت میں بتایا کہ  خالد عابدی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ انہیں ابتدا سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا اور انہوں نے مختلف موضوعات پر بہت سی اہم کتابیں لکھی ہیں۔ ڈرامہ پر ان کا کام بہت وقیع ہے۔ ریڈیو کی ملازمت کے زمانے میں انہوں نے نئے ٹیلنٹ کو تلاش کیا اور ان کی رہنمائی کی۔ میری بیٹی ان میں شامل ہے، جس نے لکھنا پڑھنا ان کی تحریک سے شروع کیا۔ ان کا ایک بڑا کارنامہ ان کی لائبریری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھوکے رہتے تھے مگر اردو کی کتابیں خرید کر بچوں کے لئے لاتے تھے۔ انہوں نے سبھی کام تنہا انجام دیا اور کسی طرح کی سرکاری مدد نہیں لی اور اپنی جیب خاص سے سرمایہ لگاتے رہے۔ ان کا جانا نہ صرف ادب کا بلکہ ہم سب کا ذاتی نقصان ہے۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    مغربی بنگال: TMC کے 3 کارکنان کاگولی مارکر قتل

    ممتاز ادیب ادب کا ایسا سپاہی تھا جو جنگ تو لڑتا رہا، مگر اپنے ہی قبیلے کی لوگوں سے مات کھا گیا۔ خالد عابدی نے جو تخلیقی کام کئے ہیں، اس کی بھلے ہی آج اہمیت نہ ہو مگر آنے والے وقتوں میں وہ تلاش کی جائیں گی۔ انہوں نے اردو کے ادیبوں سے جو مراسلاتی انٹرویوز کئے ہیں، وہ اہمیت کے حامل ہیں۔

    بھوپال کے نوجوان ادیب وشاعربدر واسطی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہ خالد عابدی کی رحلت اردو ادب کا ہی نہیں ہم سب کا ذاتی نقصان ہے۔ وہ اردو ادب کے ہی نہیں بلکہ قلم کے انسائیکلو پیڈیا تھے۔ اس لئے کہ خالد عابدی صاحب سے کسی کتاب اور کسی فلم یا فلمی شخصات کے بارے میں اگر پوچھ لیا جاتا تھا تو فوراً تمام تفصیلات پیش کردیتے تھے۔ ایک طرح سے سبھی باتیں انہیں ازبر تھیں اور ایک خاص بات جو مجھے یاد آرہی ہے وہ یہ کہ عظیم فنکار دلیپ کمار کی یوم ولادت خالد عابدی پابندی سے مناتے تھے اور اس موقع پر بچوں میں کیک کاٹنے اور انہیں کتابیں تقسیم کرنا، شعری نشست کا انعقاد اور ماہرین کو بلاکرگفتگو کرنا ان کے معمول کا حصہ تھا۔ ان کی رحلت ایسا خسارہ ہے، جس کی تلافی برسوں ممکن نہیں ہے۔ وہ اپنے ادبی کارناموں کے حوالے سے ہمیشہ یاد کئے جائیں گے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: