ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

نئی نسل کی ذہن سازی سے ہوگا اردو زبان کا فروغ، اردو زبان کے فروغ کے لئے زمینی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت

بھوپال منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں شعری اکادمی کے زیر اہتمام ادبی خدمات کے عنوان سے منعقدہ پروگرام میں جاڑے کی شدت کے باؤجود جس طرح سے اردو کے دانشوروں اور ادیبوں نے شرکت کی اس سے یہ ان کی اردو کی تئیں محبت کا پتہ تو چلتا ہے مگر پروگرام میں جتنے لوگ بھی پیپر پڑھنے کے لئے مدعو کئے گئے تھے ان کی عمر 45 سے 70 سال کے بیچ تھی۔

  • Share this:
نئی نسل کی ذہن سازی سے ہوگا اردو زبان کا فروغ، اردو زبان کے فروغ کے لئے زمینی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت
نئی نسل کی ذہن سازی سے ہوگا اردو زبان کا فروغ

اپنا کردار بنالیجئے اردو کی طرح                                             آپ کا ذکر کیا جائے گا خوشبو کی طرح

اردو کی شیرینی اور جادوبیانی کا ذکر تو لوگ بہت کرتے ہیں، مگر اردو کے فروغ کے لئے زمینی سطح پر اقدامات کرنے سے گریز کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنوب کی ریاستوں میں اردو میڈیم کے اسکول ایک ایک کرکے بند ہوتے جا رہے ہیں اور اردو والوں پر اس قدر جمود طاری ہے کہ وہ اس کے خلاف کہیں بھی لب کشائی کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اردو کے شعرا وادبا کی کوششیں قابل تحسین ہیں کہ وہ باد مخالف کے باوجود اردو کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنائے ہیں۔ بھوپال منشی حسین خان ٹیکنکل انسٹی ٹیوٹ میں شعری اکادمی کے زیر اہتمام ادبی خدمات کے عنوان سے منعقدہ پروگرام میں سردی کی شدت کے باوجود جس طرح سے اردو کے دانشوروں اور ادیبوں نے شرکت کی، اس سے یہ ان کی اردو کی تئیں محبت کا پتہ تو چلتا ہے مگر پروگرام میں جتنے لوگ بھی پیپر پڑھنے کے لئے مدعو کئے گئے تھے، ان کی عمر 45 سے 70 سال کے بیچ تھی۔ اردو کی محفلوں میں نئی نسل کے نہیں ہونے سے اہل دانش کو جہاں گراں گزر رہا تھا۔ وہیں انہوں نے منتظمین سے اردو کو نئی نسل تک پہنچانے کے لئے منظم طریقے سے تحریک چلانے کی تلقین بھی کی۔

شعری اکادمی کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام میں ممتاز شاعر و محقق ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی ادبی خدمات پر دانشوروں نے اظہار خیال کرتے ہوئے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کے اب تک چار شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں خٓاموشیوں کا نغمہ، دل کاگلاب، زمانہ کچھ اور ہے اور اعتبار کے نام قابل ذکر ہیں۔ تقریب کے موقعہ پر شعری اکادمی نے ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کی فکر وفن پر شائع رسالہ انسانیت کے خصوصی نمبر کو جاری کیا۔

پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے ممتاز ہندی ادیب رگھو ٹھاکر نے کہا کہ میں ہندی کا ادیب ہوں مگر اردو کا شیدائی ہوں۔ ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی نے اپنی شاعری میں دلوں کو جوڑنے اور حب الوطنی کے نغمے کو عام کیا۔ آج کے پرآشوب دور میں ایسے ہی شاعری کی ضرورت ہے، جو سماج کو جوڑنے کا کام کرے۔ ممتاز محقق ڈاکٹر محمد نعمان خان نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر انجم کی زندگی اردو کی خدمت سے عبارت ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کو خون جگر سے سینچا ہے تب جا کر انکی شاعری نے زمانے میں اعتبار حاصل کیا ہے۔ وہیں ڈاکٹر انجم بارہ بنکوی کہتے ہیں کہ اعزاز ہونے کے بعد ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، میں بھی اس بات کا معترف ہوں کہ جب تک اردو کی ترسیل نئی نسل تک نہیں ہوگی، تب تک اردو کا کارواں آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔

پروگرام کے کنیونر مقبول واجد کہتے ہیں کہ اردو کو لے کر پروگرام میں جو تجاویز آئی ہیں، ان پر سنجیدگی سے عمل کیا جائے گا۔ شعری اکادمی نے طے کیا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اردو زبان و ادب کی خدمات میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا ہے کہ ان کو اعزاز سے سرفراز کیا جائے، ساتھ ہی نئی نسل تک اردو کو لے جانے کے لئے اسکول کی سطح پر پروگرام کا انعقاد کیا جائے۔ شعری اکادمی کے زیر اہتمام اب جو بھی پروگرام ہوں گے، اس میں نئی نسل کے فنکاروں کو ضرور مدعو کیا جائے گا۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 01, 2021 11:58 PM IST