உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Prophet Muhammad Row:دہلی پولیسSCکی پھٹکار کے بعد نوپور شرما کے خلاف پھر نوٹس جاری کرے گی

    Youtube Video

    Prophet Muhammad Row: جسٹس نے کہا، ’یہ بیانات بہت پریشان کن ہیں اور ان میں تکبر کی علامت ہے۔ اس طرح کے بیانات دینے کا کیا مطلب ہے؟ ان بیانات کی وجہ سے ملک میں افسوسناک واقعات رونما ہوئے ہیں... یہ لوگ مذہبی نہیں ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: Prophet Muhammad Row:سپریم کورٹ کی جانب سے پھٹکار ملنے کے بعد ہلی پولیس نوپور شرما کو پوچھ تاچھ کے لئے پھر سے نوٹس جاری کرسکتی ہے۔ بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما پر پیغمبر محمدﷺ کو لے کر متنازعہ تبصرہ کرنے کا الزام ہے۔ اسی معاملے میں ان کے خلاف کئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان سبھی ایف آئی آر کو دہلی ٹرانسفر کرنے کی مانگ کو لے کر انہوں نے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ اس درخواست پر عدالت عظمیٰ نے کل سماعت کی۔ اس دوران عدالت نے نوپور کو تو سخت پھٹکار لگائی ساتھ ہی دہلی پولیس پر بھی سخت ریمارک دئیے تھے۔

      سپریم کورٹ نے کہا، ’دہلی میں درج ایف آئی آر میں کیا کارروائی کی گئی ہے؟ یہاں، شاید پولیس نے آپ کے لیے سرخ قالین بچھا دیا ہے؟ آپ کو خصوصی درجہ مل رہا ہے، لیکن ایسا درجہ عدالت میں نہیں ملے گا۔ آپ ہر ریاست کی ہائی کورٹ میں جا کر اپنی بات رکھیے، نچلی عدالت سے ضمانت لیجیے۔‘

      پولیس کے مطابق،ایف آئی آر درج ہونے کے بعد نوپور شرما کو دہی پولیس نے نوٹس بھیجا تھا اور 18 جون کو انہوں نے اپنا بیان درج کرایا تھا۔

      اپنی زبان پر قابو نہیں ہے
      جسٹس سوریہ کانت اور جے بی پاردی والا کی تعطیلات والی بنچ نے کہا، ’’اس (شرما) کا اپنی زبان پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور انہوں نے ٹیلی ویژن چینلوں پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دیے ہیں اور پورے ملک کو آگ لگا دی ہے۔ اس کے باوجود وہ 10 سال سے وکیل ہونے کا دعویٰ کرتی ہے۔ انہیں اپنے تبصروں کے لیے فوری طور پر پورے ملک سے معافی مانگنی چاہیے تھی۔‘

      یہ بھی پڑھیں:
      Nupur Sharma کو سپریم کورٹ کی پھٹکار، کہا۔ ٹی وی پر پورے ملک سے معافی مانگنی چاہئے

      یہ بھی پڑھیں:
      Alert in UP:اُدئے پور واقعہ کے بعد آج نماز جمعہ،یوپی پولیس الرٹ،159 کمپنی پی اے سی تعینات

      جسٹس نے کہا، ’یہ بیانات بہت پریشان کن ہیں اور ان میں تکبر کی علامت ہے۔ اس طرح کے بیانات دینے کا کیا مطلب ہے؟ ان بیانات کی وجہ سے ملک میں افسوسناک واقعات رونما ہوئے ہیں... یہ لوگ مذہبی نہیں ہیں۔ وہ دوسرے مذاہب کا احترام نہیں کرتے۔ یہ تبصرے یا تو سستی پبلسٹی حاصل کرنے کے لیے کیے گئے تھے یا کسی سیاسی ایجنڈے یا نفرت انگیز سرگرمیوں کے تحت کیے گئے۔‘سپریم کورٹ کا اشارہ ادے پور کے کنہیا لال قتل کیس کی طرف تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: