ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

علمی وراثت کا تحفظ اور نئی نسل کی ذمہ داریاں

معروف عالم دین و مفکرِ اسلام مولانا کلب صادق مرحوم کے چہلم کے موقع پر لکھنئو کے امام باڑہ غفران مآب میں ان کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے بالخصوص تعلیمی تحریکات کو مکمل کرنے کا عہد کیا گیا ۔

  • Share this:
علمی وراثت کا تحفظ اور نئی نسل کی ذمہ داریاں
علمی وراثت کا تحفظ اور نئی نسل کی ذمہ داریاں

علما کی علمی اور مالی  وراثت کسے منتقل ہو ، علمی میراث کا مستحق کون ہو سکتا ہے اور مفاد عامہ پر مبنی خیال و فکر کی روشنی میں ان تحریکات کو کیسے آگے بڑھایا جاسکتا ہے جو کسی اہم عالم کے انتقال کے سبب عدم فعالیت کا شکار ہو جاتی ہیں ، یہ ایک اہم مسئلہ ہے ۔ حالانکہ مالی وراثت کی منتقلی کے بارے میں شریعت کے واضح احکامات ہیں ،انہیں سب جانتے بھی  ہیں اور اسی تناظر میں اس وراثت کی منتقلی یا تقسیم کو یقینی بھی بنایا جاتا ہے لیکن اصل مسئلہ اس علمی وراثت کو حاصل کرنے کا ہے ، جس کے پیچھے کوئی ذاتی مفاد پوشیدہ نہیں ۔


معروف عالم دین و مفکرِ اسلام مولانا کلب صادق مرحوم کے چہلم کے موقع پر  لکھنئو کے امام باڑہ غفران مآب میں ان کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ان کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے بالخصوص تعلیمی تحریکات کو مکمل کرنے کا عہد کیا گیا ۔ ساتھ ہی ان کی علمی وراثت کے حوالے سے بھی کئی اہم مفکروں اور دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ معروف عالم دین حجت الاسلام مفکر و دانشور مولانا سید عقیل الغروی نے بھی اپنے خطاب کے دوران اس اہم موضوع پر اپنے افکار و خیالات ظاہر کئے ۔ مولانا عقیل الغروی کے مطابق اپنے اکابرین اور بزرگوں کی تعلیمی میراث کو حاصل کرنے ، بچانے اور اسے آگے بڑھانے کی استبداد ہر شخص میں نہیں ہوتی ۔ تاہم اگر علم و شعور اور فہم و ادراک سے تدبرانہ حکمت عملی وضع کی جائے تو یہ کارِ خیر نا ممکن بھی نہیں ۔


اہم بات یہ ہے کہ مولانا کی علمی بصیرتوں سے فیضیاب ہوتے ہوئے اس وراثت کو بچانے اور اس سے سماج کے مفلوک الحال لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے صرف ان کی اولادیں اور عزیز و اقربا ہی نہیں بلکہ مختلف میدانوں کی ممتاز فعال اور اہم شخصیات بھی آگے آرہی ہیں ۔ لہٰذا امید کی جانی چاہئے کہ نہ صرف اہل خانہ کی دلچسپی مالی وراثت کے تحفظ میں ہوگی ۔ بلکہ ان تمام تحریکوں منصوبوں اور خاکوں کو زندگی بخشی جائے گی ، جس کے لئے مولانا کلب صادق مرحوم کی زندگی وقف تھی ۔


مولانا کے چہلم کے سوگوار موقع پر لکھنئو کے امام باڑہ غفران مآب میں مختلف مذاہب مکاتب مسالک و نظریات کے لوگوں نے عقیدت و احترام کے جس والہانہ جذبے کے ساتھ شرکت کی ، اس سے ایک بار پھر یہ اندازہ ہوا کہ مولانا کلب صادق کی خدمات کا دائرہ کتنا وسیع روشن اور اہم تھا ۔ بات چاہے مولانا کی تعلیمی خدمات کی ہو، دینی خدمات کی یا پھر اتحاد کے پس منظر میں ملی و سماجی خدمات کی مولانا کا کوئی ثانی  ، کوئی نعم البدل نہیں ۔ علماء و دانشور مانتے ہیں کہ مولانا کی رحلت سے امت مسلمہ ایک بار پھر احساسِ یتیمی سے دوچار ہوئی ہے ۔ حکیم الملت کی رحلت ایک ایسا خسارہ ہے ، جس کی تلافی ناممکن ہے اور ایک ایسا خلا ہے جو کبھی پُر نہیں کیا جاسکے گے ۔

چہلم کی مجلس کو معروف عالم دین مفکر اسلام سید عقیل الغروی نے  اپنے مخصوص انداز میں خطاب کرتے ہوئے علم و حکمت اور علمی وراثت کے حوالے سے معنی خیز نکات بیان کئے ۔ ساتھ ہی اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے حیات کی ممتاز اور اہم شخصیات نے اظہار خیال کیا ۔ آیت اللہ عقیل الغروی کی مجلس سے قبل منور رانا اور کاظم جرولی سمیت کئی اہم شعراء نے پیش خوانی کی سعادت بھی حاصل کی ۔ اس موقع پر مولانا کے فرزند کلب نوری نے بھی یہ واضح کیا کہ اپنے بزرگوں اورسبھی مذاہب کے اہم دانشوروں اور عالموں کے تعاون سے وہ تمام تحریکیں زندہ رکھی جائیں گی ، جن کو والد محترم ملک و ملت اور انسانیت کے مفاد کے لئے چلا رہے تھے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 28, 2020 11:56 PM IST