کشمیر: نمازجمعہ کے بعد کئی مقامات پراحتجاج، پھرعائد کی گئی پابندی

سری نگرکے باہرحصےمیں واقع سورا علاقے میں جمعہ کی نمازکے بعد سینکڑوں لوگوں نےاحتجاج کیا۔انہوں نےبتایا کہ سیکورٹی اہلکاروں نےبارباراعلان کرکےاور'ہلکےلاٹھی چارج' سےبھیڑکوہٹا دیا۔

Aug 23, 2019 09:14 PM IST | Updated on: Aug 23, 2019 09:18 PM IST
کشمیر: نمازجمعہ کے بعد کئی مقامات پراحتجاج، پھرعائد کی گئی پابندی

جمعہ کی نمازکے بعد کشمیرکےکئی مقامات پراحتجاج۔

آرٹیکل 370 ہٹائے جانےکےبعد سے جاری پابندیاں کشمیرکےکچھ علاقوں میں ابھی بھی جاری ہیں۔ جمعہ کے روزنمازجمعہ کے پیش نظربیشترعلاقوں میں ان پابندیوں میں نرمی دی گئی تھی۔ جموں وکشمیرانتظامیہ کےمطابق نمازجمعہ کےبعد کشمیرکےکچھ علاقوں میں احتجاج ہوئے، لیکن وادی کےبیشترحصوں میں امن وامان کا ماحول رہا۔ احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نےپھرسے پابندیاں عائد کردی ہیں۔

افسران نےبتایا کہ سری نگرکےباہرحصےمیں واقع سوراعلاقےمیں جمعہ کی نمازکےبعد سینکڑوں لوگوں نےاحتجاج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی اہلکاروں نےبارباراعلان کرکے اور'ہلکےلاٹھی چارج' سے بھیڑکوہٹا دیا۔ بتایا جارہا ہےکہ تقریباً 300 لوگ جمع ہوئےتھے۔ افسران نے یہ بھی بتایا کہ علیٰحدگی پسندوں کی طرف سے پوسٹرجاری کئےگئےتھے، جن میں لوگوں نےاقوام متحدہ کا ملٹری آبزرورگروپ (یواین ایم اوجی آئی پی) کے مقامی دفترتک مارچ کی اپیل کی گئی تھی۔ اس کےبعد سری نگرکےکئی علاقوں اوروادی کے دیگرحصوں میں پھرسے پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔

Loading...

احتجاج کے بعد کشمیرمیں پابندیاں پھرسے نافذ کردی گئی ہیں۔ احتجاج کے بعد کشمیرمیں پابندیاں پھرسے نافذ کردی گئی ہیں۔

علیٰحدگی پسندوں کےگروپ جوائنٹ ریزسٹینس لیڈرشپ (جے آرایل) کی طرف سے پوسٹروں میں لوگوں سے اقوام متحدہ کے فوجی آبزرورگروپ کےمقامی دفترتک مارچ کرنےکی اپیل کی گئی تھی۔ یہ اپیل جموں وکشمیرکا خصوصی درجہ ختم کئےجانےکی مخالفت میں کی گئی۔ علیٰحدگی پسندوں کا دعویٰ ہےکہ دفعہ 370 کوختم کرنےکا مرکزکا قدم ریاست کی آبادی میں تبدیلی کی کوشش ہے۔

افسران نےبتایا کہ لوگوں کولال چوک اورپیرجانے سے روکنےکے لئےشہرمیں کئی جگہ رکاوٹ اورخاردارتارلگائےگئےہیں۔ اقوام متحدہ کا دفتراسی علاقےمیں ہیں۔ لا اینڈ آرڈربنائے رکھنےکے لئے جگہ جگہ سیکورٹی اہلکارتعینات کئےگئے ہیں۔ اس ہفتےکے شروع میں، کشمیرکے بیشترعلاقوں میں پابندیوں میں نرمی دی گئی تھی اوربیریکیٹ ہٹایا جارہا تھا۔ لوگوں کی نقل وحرکت اورٹریفک آہستہ آہستہ بڑھتی جارہی تھی۔

وادی کے بیشترعلاقوں میں رہا امن کا ماحول، کچھ مقامات پر ہوئےاحتجاج۔ علامتی تصویر وادی کے بیشترعلاقوں میں رہا امن کا ماحول، کچھ مقامات پر ہوئےاحتجاج۔ علامتی تصویر

آرٹیکل 370 ہٹانے کے بعد سے لگی ہیں پابندیاں

مرکزی حکومت نے پانچ اگست کوجموں وکشمیرکے خصوصی ریاست کے درجہ کومنسوخ کردیا تھا اورریاست کو جموں وکشمیراورلداخ کو، مرکزکے زیرانتظام دو خطوں میں تقسیم کردیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی وادی میں بازاراورموبائل اورانٹرنیٹ خدمات بند ہے۔ جموں وکشمیرکے سابق وزرائے اعلیٰ عمرعبداللہ اورمحبوبہ مفتی سمیت کئی لیڈروں کوتبھی سے احتیاطاً حراست میں رکھا گیا ہے۔

Loading...