ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

رانچی میں آئین بچاو ملک بچاو عنوان سے احتجاجی اجلاس ، سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت

مختلف تنظیموں کے ذریعہ منعقد کئے گئے اس احتجاجی اجلاس میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف لوگوں نے نعرے بازی کی اور اس قانون کو کالے قانون سے تعبیر کرتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔

  • Share this:
رانچی میں آئین بچاو ملک بچاو عنوان سے احتجاجی اجلاس ، سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت
رانچی میں آئین بچاو ملک بچاو عنوان سے احتجاجی اجلاس ، سی اے اے اور این آر سی کی مخالفت

رانچی کے ڈورنڈہ میں واقع عرس میدان میں آئین  بچائو ملک بچاو کے عنوان سے احتجاجی اجلاس کا انعقاد کیا گیا ۔ سی اے اے ، این سی آر اور این پی آر کے خلاف منعقدہ اس اجلاس میں جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد ، بہار اسمبلی کے سابق  اسپیکر ادئے نارائن چودھری ،  سی پی آئی ایم ایل کے رکن اسمبلی بنود سنگھ ، سی پی آئی لیڈر و سابق رکن پارلیمان بھونیشور مہتا ، سماجی کارکن اندرجیت کالرا ، معروف سرجن ڈاکٹر مجید عالم سمیت مختلف مذاہب کے لیڈران ، سماجی کارکنان ،  دانشوران کے علاوہ کثیر تعداد میں خواتین اور نوجوان شامل ہوئے ۔


مختلف تنظیموں کے ذریعہ منعقد کئے گئے اس احتجاجی اجلاس میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف لوگوں نے نعرے بازی کی اور اس قانون کو کالے قانون سے تعبیر کرتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ اس موقع پر عمر خالد نے مرکزی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ عمر نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔


عمر خالد نے کہا کہ دہلی کے شاہین باغ میں ایک ماہ سے چل رہی احتجاجی دھرنا جاری ہے ، لیکن مرکزی حکومت کا ایک بھی نمائندہ نے اس کی خبر نہیں لی ہے ۔ ساتھ ہی عمر خالد نے یہ الزام لگایا کہ اترپردیش میں تیس ہزار مقدمات کئے گئے اور ایک ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ اے ایم یو کے بارہ سو طلبہ کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔


مختلف تنظیموں کے ذریعہ منعقد کئے گئے اس احتجاجی اجلاس میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف لوگوں نے نعرے بازی کی ۔ تصویر : نوشاد عالم ۔


بہار اسمبلی کے سابق اسپیکر ادئے نارائن چودھری نے کہا کہ احتجاجی دھرنے میں امڈی بھیڑ یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ جب تک آدیواسی ، پسماندہ طبقات اور اقلیتیوں کے جسم میں خون کا ایک قطرہ ہے ، اس وقت تک اس کالے قانون کے خلاف لڑائی جاری رہے گی ۔
First published: Jan 19, 2020 10:14 PM IST