ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

سی اے اے مخالف احتجاج : مظاہرین کا بڑا سوال ، جھارکھنڈ حکومت این پی آر پر اب تک خاموش کیوں؟

سماجی کارکن زینت کوثر نے الزام لگایا کہ جان بوجھ کر حکومت اس معاملہ پر سنجیدہ نہیں ہے ۔ کیونکہ تحریک چلا رہے لوگوں میں مسلم خواتین کی تعداد زیادہ ہے ۔

  • Share this:
سی اے اے مخالف احتجاج : مظاہرین کا بڑا سوال ، جھارکھنڈ حکومت این پی آر پر اب تک خاموش کیوں؟
سی اے اے مخالف احتجاج : مظاہرین کا بڑا سول ، جھارکھنڈ حکومت این پی آر پر اب تک خاموش کیوں؟

جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں 20 جنوری سے شروع ہوئے این پی آر، این آرسی اور سی اے اے کے خلاف غیر معینہ کا دھرنا اب تک جاری ہے ۔ خواتین کے حوصلوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔  24 فروری کو 36 ویں دن بھی غیر معینہ مدتی دھرنا جاری رہا ۔ شہر کے مضافاتی علاقوں سے کثیر تعداد میں لوگ شرکت کیلئے آرہے ہیں ۔ مدرسہ چوک ، پنڈری ، بڑگائیں ، بسيا ، ككرگڑھ ، گرگا ، كھٹنگا ، پنداگ ، پپرا ٹولی ، بیجو پاڑا ، لوہردگا ، ٹانگر بسلی ، پسكا نگڑی ، کیرو، ساحر، بنڈو، بیڑو ، وغیرہ علاقوں سے سینکڑوں کی تعداد میں خواتین شامل ہوئیں اور این پی آر ، این آرسی اور سی اے اے کی پرزور مخالفت کی ۔ دھرنا میں خواتین کی ایک ہی رٹ تھی کہ مرکزی حکومت تحریک کر رہی خواتین کو بھاڑے کے غنڈوں کو بھیج کر پریشان کرنے میں لگی ہے ۔ تشدد کی سخت مذمت کرتے ہوئے سماجی کارکن زینت کوثر نے کہا کہ دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر پرامن طریقے سے تحریک چلا رہیں خواتین پر جس طرح سے غنڈوں کو بھیج کر حملہ کیا گیا ، یہ ایک قابل مذمت واقعہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ تحریک کرنے کا حق سب کو آئین دیتا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جان بوجھ کر حکومت اس معاملہ پر سنجیدہ نہیں ہے ۔ کیونکہ تحریک چلا رہے لوگوں میں مسلم خواتین کی تعداد زیادہ ہے ۔ یہ حکومت ہمیشہ بھید بھاو کی پالیسی سے اپنے ایجنڈوں پر آگے بڑھ رہی ہے ۔ وہیں سماجی کارکن حافظ مجاہد الااسلام کی شریک حیات حنا پروین نے کہا کہ مرکزی حکومت میں ذرا سی بھی غیرت نہیں ہے کہ یہ خواتین سے کھل کر دکھ اور تکلیف پر مذاکرات قائم کرے ۔ ریاستی حکومت بھی این پی آر پر اب تک خاموش ہے ؟ یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے ۔ ریاستی حکومت کم از کم اس بات کا اعلان کرے کہ وہ یکم اپریل سے ہونے والے این پی آر کی حمایت نہیں کرے گی ، جو کسی بھی ریاستی حکومت کا آئینی حق ہے۔

وہیں خواتین میں اس بات کی خوشی بھی ہے کہ آج خواتین نے تحریک کو جو بھی شکل دی ہے وہ آنے والے دیگر قوموں ، نسلوں اور سماج کے لئے رول ماڈل ثابت ہوگا ۔ 28 فروری کو کنہیا کمار کے رانچی كڈرو شاہين باغ آنے کے تناظر میں خواتین میں کافی جوش و خروش دیکھا جا جارہا ہے ۔ خواتین نے کہا کہ کنہیا کمار کے آنے سے ہماری تحریک کو طاقت ملے گی ۔ ڈائریکٹر محمد شکیل راہی نے کہا کہ ہر حال میں این آرسی اور سی اے اے تو انٹرنیشنل قانون کے خلاف بھی ہے ۔ پوری دنیا کے ممالک کو اس میں مداخلت کرنی چاہئے ۔ وہیں مدرسہ حسینیہ كڈرو کے طالب علم محمد احمد نے بھی خطاب کیا اور ایک نظم بھی پڑھی ۔

First published: Feb 24, 2020 10:20 PM IST