ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

فرانس کے خلاف اقبال میدان میں ہونے والے احتجاج کو اتنظامیہ نے کیاکینسل

محبان بھارت تنظیم کے ذریعہ اقبال میدان میں بعد نماز جمعہ احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا ، مگر اس سے پہلے کی احتجاج شروع ہوتا ، انتظامیہ نے احتجاج کی اجازت کو کینسل کرتے ہوئے پورے اقبال میدان کو چھاؤنی میں تبدیل کردیا ۔

  • Share this:
فرانس کے خلاف اقبال میدان میں ہونے والے احتجاج کو اتنظامیہ نے کیاکینسل
فرانس کے خلاف اقبال میدان میں ہونے والے احتجاج کو اتنظامیہ نے کیاکینسل

فرانس میں شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کے خلاف بھوپال میں چار دنوں سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ محبان بھارت تنظیم کے ذریعہ اقبال میدان میں بعد نماز جمعہ احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا ، مگر اس سے پہلے کی احتجاج شروع ہوتا ، انتظامیہ نے احتجاج کی اجازت کو کینسل کرتے ہوئے پورے اقبال میدان کو چھاؤنی میں تبدیل کردیا ۔ احتجاج میں شامل ہونے کے لئے دیر تک لوگ آتے رہے مگر پولیس کی سختی کے سامنے مجبور ہو کر اپنے گھروں کو چلے گئے ۔


محبان بھارت تنظیم کے قومی صدر جاوید بیگ کا کہنا ہے کہ ہم نے فرانس کے خلاف احتجاج کو لیکر انتظامیہ سے پہلے اجازت لی تھی اور اجازت لینے کے بعد بعد نماز جمعہ دن میں ڈھائی بجے احتجاج کا اعلان کیا تھا ۔ جب ہم لوگ فرانس کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے اقبال میدان میں پہنچے ، تو وہاں کا نظارہ بدلا ہوا تھا۔ پورے میدان میں چاروں جانب پولیس پھیلی ہوئی تھی ۔ انتظامیہ نے احتجاج کے اجازت نامے کو کینسل کردیا ہے ۔ اب آگے اجازت لے کر پھر احتجاج کرنا ہے یا نہیں کرنا ہے ، اس معاملے میں کمیٹی کے ممبران سے بات کرنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ ہوگا ۔ ہم تو عاشق رسول ہیں اور ہمارا پیغام محبت ہے ۔ ہم انتشار پیدا کرنے کے لئے نہیں آئے تھے ۔ انتظامیہ نے کہا کہ آج عید میلاد النبی  کے موقع پرصرف سیرت پاک کے جلسوں کا انعقاد ہوگا اور کسی قسم کے پروگرام نہیں ہوں گے ، تو ہم لوگوں نے ان کی بات مان لی ہے۔


محبان بھارت تنظیم کے قومی صدر جاوید بیگ کا کہنا ہے کہ ہم نے فرانس کے خلاف احتجاج کو لیکر انتظامیہ سے پہلے اجازت لی تھی اور اجازت لینے کے بعد بعد نماز جمعہ دن میں ڈھائی بجے احتجاج کا اعلان کیا تھا ۔
محبان بھارت تنظیم کے قومی صدر جاوید بیگ کا کہنا ہے کہ ہم نے فرانس کے خلاف احتجاج کو لیکر انتظامیہ سے پہلے اجازت لی تھی اور اجازت لینے کے بعد بعد نماز جمعہ دن میں ڈھائی بجے احتجاج کا اعلان کیا تھا ۔


وہیں محبان بھارت تنظیم کے صوبائی صدر محمد فہیم کا کہنا ہے کہ احتجاج کی پرمیشن کو انتظامیہ نے کیوں کینسل کی ہے یہ انتظامیہ کے افسران ہی بتائیں گے ۔ ہم ہندوستان کے شہری ہیں اور امن پسند لوگ ہیں ۔ فرانس میں ہمارے بنی کے ساتھ اہانت کی گئی ہے ۔ اس کے خلاف ہم احتجاج کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آج عید میلاد کے موقع پر کسی قسم کا کوئی احتجاج نہیں ہوگا ۔ یہی بات یہ پہلے کہہ دی جاتی تو لوگ یہاں پر جمع نہیں ہوتے اور یہ سب غلط فہمیاں جو پیدا ہوئیں ہیں وہ نہیں ہوتیں ۔ آج ہم نے انتظامیہ کی بات مان لی ہے ۔ آگے ہم پھر انتظامیہ سے فرانس کے خلاف احتجاج کو لے کر اجازت لیں گے اور اجازت ملے گی بڑے پیمانے پر پر امن طریقے سے احتجاج ہوگا۔ بھوپال ڈی آئی جی ارشاد ولی کہتے ہیں کہ آج عید میلاد النبی کا مبارک موقعہ ہے اور شام چار بجے سے پروگرام کو لیکر ایک انتظام کیاگیا ہے۔ سیرت النبی کے جلسہ کے علا وہ کسی قسم کے احتجاج یا جلوس کی اجازت نہیں ہے ۔

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ عید میلاد النبی کے جلسے  کا انعقاد اور اقبال میدان میں احتجاج کی اجازت انتظامیہ کی جانب سے ہی دی گئی تھی ۔ آخر اجازت دینے کے بعد ایسا کیا ہوا کہ انتظامیہ کو احتجاج کی اجازت کو کینسل کرنا پڑا ۔ سیاسی مبصر اس کے پیچھے مقامی سیاست کا ہونا مانتے ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ کل احتجاج میں عارف مسعود سمیت جن دوسو لوگوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا ، اس کے پیچھے بھی سیاست کی ہی کارفرمائی تھی ورنہ سیاسی پارٹیوں کی ریلیوں میں تو اس سے زیادہ لوگ شرکت کرتے ہیں وہاں نہ تو اجازت کینسل کی جاتی ہے اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے خلاف معاملہ اب تک درج کیا گیا ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 30, 2020 10:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading