ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر: وسیم رضوی کے'توہین قرآن اقدام'کے خلاف علماوعوام میں غصے کی لہر،کئی مقامات پراحتجاج

علما کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کا توہین قرآن اقدام مسلمانوں کے درمیان فتنے کی آگ بھڑکانے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے اور ایک خاص مکتب فکر کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے۔انہوں نے وسیم رضوی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ سے اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار رہا ہے تاکہ مسلمانوں میں فتنہ و فساد کے بیج بوئے جا سکیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 13, 2021 06:19 PM IST
  • Share this:
کشمیر: وسیم رضوی کے'توہین قرآن اقدام'کے خلاف علماوعوام میں غصے کی لہر،کئی مقامات پراحتجاج
جموں وکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے وسیم رضوی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قرآن کی تعلیمات سے مکمل طور پر نابلد ہے۔

اترپردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی کے 'توہین قرآن اقدام' کی جہاں وادی کے علما بلا لحاظ مسلک شدید مذمت کر رہے ہیں وہیں عوام میں بھی غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی مقامات پر لوگوں نے ہفتے کو مذکورہ سابق چیئرمین کے خلاف احتجاج درج کیا۔علما کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کا توہین قرآن اقدام مسلمانوں کے درمیان فتنے کی آگ بھڑکانے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے اور ایک خاص مکتب فکر کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے۔انہوں نے وسیم رضوی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ سے اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار رہا ہے تاکہ مسلمانوں میں فتنہ و فساد کے بیج بوئے جا سکیں۔بتادیں کہ وسیم رضوی نے قرآن پاک سے 26 آیتوں کو حذف کرنے کے لئے عدالت عظمیٰ میں ایک عرضی دائر کی ہے۔


جموں وکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے وسیم رضوی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قرآن کی تعلیمات سے مکمل طور پر نابلد ہے۔انہوں نے کہا: 'وسیم رضوی کی یہ حرکات ناقابل قبول اورسراسر توہین آمیز ہیں۔ قرآن بھائی چارے اور امن آشتی کی تعلیمات دیتا ہے۔ وسیم رضوی قرآن سمجھنے سے قاصر ہے'۔موصوف مفتی اعظم نے لوگوں سے آپسی بھائی چارے کو بنائے رکھتے ہوئے اس کے خلاف پرامن احتجاج درج کرنے کی اپیل کی۔


آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد ولی رحمانی


جموں وکشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے وسیم رضوی کو اسلام دشمن طاقتوں کا زر خرید آلہ کار قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن مقدس آخری آسمانی صحیفہ ہے اور قیامت تک نوع بشریت کے لئے وسیلہ ہدایت و نجات ہے۔آغا حسن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وسیم رضوی نے اعلانیہ طور پر اپنی ارتدادی فکر کا اظہار کیا ہے اور یہ علما و مفتیان ہند کی شرعی مسئولیت ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنی منصبی ذمہ داریاں پورا کر کے اس کے خلاف فتویٰ صادر کریں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ شخص مسلک اہلبیت (ع) کا لبادہ اوڑھے ہوئے دراصل شیعیت کی بدترین توہین وتذلیل کر رہا ہے۔کاروان اسلامی انٹرنیشنل کے سرپرست علامہ شیخ غلام رسول حامی نے کہا کہ دنیا کے مسلمانوں کو وسیم رضوی کی طرف زیادہ توجہ نہیں دینی چاہئے کیونکہ اسلامی دنیا میں اس کی کوئی اہمیت و وقعت ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی لوگوں نے تحریف قرآن کرنے کی کوشش کی لیکن وہ سب اپنے مکروہ عزائم میں ناکام ہو گئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود تحفظ قرآن کی ذمہ داری لے لی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قرآن پاک ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور بھائی چارے اور امن و آشتی کا درس دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت قرآن پاک کے ایک لفظ کو بھی بدل نہیں سکتی ہے رضوی کی بات ہی نہیں ہے۔

جموں وکشمیر اتحاد المسلمین کے سربراہ اور بزرگ حریت لیڈر مولانا محمد عباس انصاری نے وسیم رضوی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے آقاؤں کو خوش کرنے اور وقف بورڈ گھوٹالہ سے توجہ ہٹانے کے لئے اس طرح کے شیطانی حربے اور ہتھکنڈے آزما رہا ہے۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہزاروں وسیم رضوی قرآن پاک کی ایک آیت کو قرآن سے حذف نہیں کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ امت مسلمہ کے مابین پھوٹ ڈالنے کی ایک ناپاک کوشش ہے اور اس شخص کا ملت تشیع سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔دریں اثنا اطلاعات کے مطابق وادی کے کئی شیعہ و سنی بستیوں میں ہفتے کے روز وسیم رضوی کے خلاف احتجاج درج ہوئے جن میں لوگوں نے موصوف کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی اور اس کو فوری طور گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔رحمت اللعالمین (ص) فاؤنڈیشن نے یہاں پریس کالونی میں جمع ہوکر وسیم رضوی کے خلاف احتجاج درج کیا۔ احتجاجی رضوی کے خلاف جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے۔اس موقع پر فاؤنڈیشن کے چیئرمین شیخ فردوس نے میڈیا کو بتایا کہ وسیم رضوی نے ایک بار پھر مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ رضوی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کو فوری طور پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 13, 2021 04:02 PM IST